ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران ملک بھر میں دو حوالوں سے تقریبات ہوتی ہیں۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کا آغاز اس عشرہ میں ہوا تھا اور ملک کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں جس پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ 1974ء میں 7 ستمبر کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ صادر کیا ، جس کی مناسبت سے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر محنت کرنے والی جماعتیں جو کم و بیش سبھی مکاتب فکر سے تعلق رکھتی ہیں اس فیصلہ اور تحریک کی یاد کو تازہ کرنے اور بیداری کو قائم رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ بطور خاص پیش پیش ہوتی ہیں۔

ایک محاذ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا ہے جبکہ دوسرا محاذ وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا ہے۔ اور چونکہ اس وقت جغرافیائی اور نظریاتی دونوں محاذوں پر ملک و قوم کو علاقائی اور بین الاقوامی یلغار کا سامنا ہے اس لیے دونوں کی ضرورت و اہمیت کی طرف قوم کو متوجہ کرنا اور بیدار رکھنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔

قادیانی مسئلہ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ اب سے کم و بیش ایک صدی قبل جب ملک پر برطانوی استعمار کی حکومت تھی مشرقی پنجاب کے ضلع گورداس پور کے قصبہ قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے مہدی اور مسیح ہونے کا اور پھر نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا، اور اپنی فلسفیانہ تحریرات کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لیا۔ مسلمانوں کا چودہ سو برس سے یہ عقیدہ چلا آرہا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں جن کے بعد وحی اور نبوت و رسالت کا باب بند ہو چکا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب تک جن لوگوں نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے یا آئندہ کریں گے وہ سب جھوٹے اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے عقائد میں یہ بھی شامل ہے کہ گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمانوں پر زندہ اٹھا لیے گئے تھے۔ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اور دنیا پر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا غلبہ قائم کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں فوت ہوں گے۔ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک میں ان کی تدفین ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی صحیح احادیث میں موجود ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان سے پہلے مسلمانوں میں امام مہدیؒ کا ظہور ہو چکا ہوگا۔ ان کا نام محمد ہوگا، ان کی والدہ محترمہ کا نام آمنہ اور والد گرامی کا نام عبد اللہ ہوگا۔ اور وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہوں گے۔ یہ دونوں بزرگ یعنی امام مہدیؒ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام مل کر امت مسلمہ کی قیادت کریں گے اور اسلامی خلافت کا احیاء کریں گے۔

مسلمانوں کے ان عقائد کے ماحول میں مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ کہ (نعوذ باللہ) وہ نبی اور رسول ہیں، وہی حضرت عیسٰی ہیں، اور امام مہدی کا مصداق بھی انہی کی شخصیت ہے، مسلمانوں کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول بلکہ قابل برداشت نہیں تھا۔ اس لیے تمام مکاتب فکر نے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں کے ان اجتماعی جذبات کی ترجمانی کرنے والوں میں اس وقت کے تمام اکابر شامل تھے جن میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ ، حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ، امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، اور مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو مسلمان اپنی صفوں میں شامل نہیں سمجھتے تو ان کا معاشرتی مقام اور حیثیت کیا ہوگی؟ یہ سوال اس وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس وقت کے نبوت کے دعوے داروں مسیلمہ کذاب، طلیحہ اور سجاح کے ساتھ صحابہ کرامؓ نے جنگ کی تھی اور ان کے الگ وجود کو برداشت نہیں کیا تھا۔ اس لیے اب کیا ہوگا اور قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ اور طرز عمل کیا ہوگا اور کیا ہونا چاہیے؟ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے یہ تجویز دی کہ اس وقت جنگ اور قتل و قتال کا ماحول نہیں ہے اور نہ ہی جدید سوسائٹی اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔ اس لیے قادیانیوں کو دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر معاشرے کا حصہ تسلیم کر لیا جائے اور انہیں اس حیثیت سے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ وہ تمام حقوق دے دیے جائیں جو غیر مسلم اقلیتوں کو حاصل ہوتے ہیں۔

چنانچہ قیام پاکستان کے بعد ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر نے علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ملک کے دستور و قانون میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا جائے۔ اس پر 1953ء میں عوامی سطح پر تحریک ختم نبوت بپا ہوئی جس کے مطالبات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس وقت ملک کے وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خان کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا جو اپنی سرکاری حیثیت کو ملک میں اور بیرون ملک قادیانیت کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اس تحریک کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت ختم ہوگئی اور چودھری ظفر اللہ خان وزارت خارجہ سے سبکدوش ہوگئے۔ مگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ منظور نہ ہوا، حالانکہ اس کے لیے ملک بھر کے عوام نے شدید احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور جان و مال کی قربانیاں دینے کے علاوہ ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے جیل و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی تھیں۔

البتہ اس مطالبہ کی منظوری کے لیے تحریک مسلسل چلتی رہی تا آنکہ 1974ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے طویل بحث و مباحثہ کے بعد اس مطالبہ کو منظور کر کے دستوری ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا۔ اس موقع پر قادیانیوں کے دونوں گروہوں کے سربراہوں مرزا ناصر احمد اور مولوی صدر الدین کو پارلیمنٹ کے فلور پر مسلسل چودہ روز تک اپنے موقف کی وضاحت اور سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ اسمبلی میں موجود علماء کرام مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبد المصطفیٰ ازھریؒ ، مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، اور دیگر معزز ارکان کے علاوہ ملک کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے بھی اس بحث میں حصہ لیا۔ طویل بحث و تمحیص کے بعد جب پوری اسمبلی قادیانیوں کے مسلمان نہ ہونے پر مطمئن ہوگئی تو وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی قیادت میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا متفقہ دستوری فیصلہ صادر کر دیا۔ جبکہ قومی سطح پر بحث و مباحثہ کے علاوہ عالم اسلام کے علمی و دینی مراکز سے بھی راہ نمائی کے لیے رابطہ کیا گیا اور امت مسلمہ کی نمائندہ تنظیم رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی قرارداد منظور کر دی۔

مگر قادیانیوں نے دستور و قانون، منتخب پارلیمنٹ اور عالم اسلام کے اس متفقہ فیصلے کو مسترد کر دیا اور وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے خود کو مسلمان کہلانے پر بضد ہوگئے۔ ان کے اس رد عمل سے اس بحران نے ایک نئی شکل اختیار کر لی اور قادیانی گروہ نے ملت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی عالمی سطح پر مورچہ بندی کر کے پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے مخالف بین الاقوامی حلقوں کے اور اپنے استعماری آقاؤں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔ یہ گٹھ جوڑ اب تک قائم ہے اور پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کے خلاف بین الاقوامی سیکولر حلقوں کی مہم میں قادیانی گروہ ان کے شریک کار بلکہ آلۂ کار کے طور پر مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی قادیانیوں نے دستوری فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے اندر اسلام کے نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر و اصطلاحات کا ناجائز استعمال جاری رکھا جس پر مسلمانوں کو شدید اعتراض تھا۔ اور یہ بات دستور و قانون کی بھی صریح خلاف ورزی تھی، اس لیے 1984ء میں ایک بار پھر عوامی سطح پر تحریک ختم نبوت منظم ہوئی جس کی قیادت حضرت خواجہ خان محمدؒ ، مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ ، مولانا تاج محمودؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، اور علامہ علی غضنفر کراروی شامل تھے۔ چنانچہ عوامی احتجاج اور تحریک کی وجہ سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات اور شعائر کے استعمال سے قانونی طور پر منع کر دیا گیا۔ یہ صدارتی آرڈیننس صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے ملک کے تمام دینی حلقوں کے متفقہ مطالبے پر نافذ کیا تھا، جبکہ بعد میں عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ نے اس کی توثیق کر کے اسے دستوری اور جمہوری حیثیت بھی دے دی۔

اس وقت سے قادیانیوں کی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف محاذ آرائی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جاری ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان دشمن سیکولر حلقوں کے ساتھ مل کر اسلام، ملت اسلامیہ اور وطن عزیز کے خلاف لابنگ اور پروپیگنڈے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ملک کی اسلامی نظریاتی شناخت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو جہاں قومی خود مختاری کی بحالی، ملکی معاملات میں بین الاقوامی مداخلت سے نجات، اور علاقائی سطح پر ملکی سرحدات کے تحفظ کے چیلنجز درپیش ہیں، وہاں ان مطالبات کا بھی سامنا ہے کہ:

  • دستور پاکستان کی نظریاتی اساس ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو ختم کر دیا جائے۔
  • دستور کی اسلامی دفعات کو تبدیل کر کے ملک کو سیکولر ریاست بنایا جائے۔
  • تحفظ ختم نبوت سے متعلقہ دستوری اور قانونی شقوں کو ختم کر کے قادیانیوں کو ملک کے اندر اور باہر اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔
  • تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کو ختم کر دیا جائے۔
  • ملک میں قرآن و سنت کے جو چند قوانین رسمی اور علامتی طور پر نافذ ہیں انہیں بھی منسوخ یا تبدیل کر دیا جائے۔
  • اور قرآن و سنت کے حوالہ سے قانون سازی کو قطعی طور پر شجر ممنوعہ قرار دے دیا جائے۔

اس مہم میں ملکی اور بین الاقوامی سیکولر حلقوں کے ساتھ قادیانی گروہ بھی پوری طرح شریک اور سرگرم ہے۔ اس لیے تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے کی جانے والی جدوجہد ملک کی اسلامی شناخت کے تحفظ اور مسلمانوں کے عقائد و ایمان کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملک و قوم اور دین و ملت کے خلاف عالمی نظریاتی و ثقافتی یلغار کی روک تھام کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں کام کرنے والی تمام جماعتیں اور حلقے خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ اور قرآن و سنت کی جامع تعلیمات پر یقین رکھنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جدوجہد میں شریک ہو اور جو کردار بھی وہ کسی دائرہ میں یا کسی سطح پر ادا کر سکتا ہے، اس سے گریز نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔