دینی جدوجہد کی معروضی صورتحال کی بحث

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ جنوری ۲۰۱۰ء

دینی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں معروضی صورتحال کے حوالے سے ان کالموں میں گفتگو کر رہا ہوں، اس میں ماضی کے تجربات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور مستقبل کے امکانات اور ضروریات کا جائزہ بھی اس کا حصہ ہے۔ اس پس منظر میں حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب نے ایک مضمون میں مجھ سے تقاضا کیا کہ دوسرے حضرات کو توجہ دلانے کی بجائے خود اس سمت پر پیشرفت کیوں نہیں کرتا؟ اس کے جواب میں ایک قدرے تفصیلی مضمون میں راقم الحروف نے ان اسباب کا تذکرہ کیا جو اس بارے میں میری عملی پیشرفت میں حائل ہیں۔ اس میں ماضی میں قائم ہونے والے ایک مسلکی اتحاد ’’کل جماعتی مجلس عمل علماء اسلام‘‘ کا بھی تذکرہ کیا اور عرض کیا کہ اچھی خاصی محنت اور بہت وقیع متحدہ محاذ بن جانے کے باوجود وہ نہ چل سکا۔ اس پر برادر محترم مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری نے گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اتحاد کی ناکامی میں میری غلط روی کا دخل ہے، میں نے جوابی مضمون میں اس کی وضاحت کی جو شاہ صاحب محترم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے، اس ضمن میں دونوں طرف کے مضامین کے اقتباسات دہرانے کی بجائے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بخدا میں ابھی تک یہ بات نہیں سمجھا کہ شاہ صاحب محترم میری کون سی بات کی تردید کر رہے ہیں۔

میں نے لکھا ہے کہ ’’مجلس عمل علماء اسلام‘‘ کی تشکیل کے بعد بعض اہم جماعتوں اور ان کے قائدین کو اس بارے میں تحفظات تھے اور ان تحفظات کے باعث ایک متبادل متحدہ کونسل بھی وجود میں آرہی تھی جس کی وجہ سے میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو ایک نئی کشمکش کی فضا میں فرنٹ پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لیے کوئی مسئلہ کھڑا کیے بغیر میں خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا۔ شاہ صاحب محترم نے اپنے جوابی مضمون میں نہ صرف اس متبادل یا متوازی متحدہ محاذ کے وجود کو ’’اسلام آباد کی کاغذی علماء کونسل‘‘ قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا دستاویزی ثبوت فراہم کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے اس سلسلے میں تحفظات تھے۔ یہی بات تو میں نے عرض کی ہے کہ تحفظات اور کشمکش کا ماحول پیدا ہو رہا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اس میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی شخصیت کسی طرف سے بھی استعمال ہو۔ اس لیے میں یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں کہ شاہ صاحب محترم میرے فیصلے سے اختلاف کرنے کے باوجود اس کے اسباب و عوامل کی موجودگی سے انکار نہیں کر رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے میری تائید ہی بنتی ہے۔

دوسری گزارش میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ’’مجلس عمل علماء اسلام‘‘ اور اس کے بعد ’’اسلام آباد کی کاغذی علماء کونسل‘‘ کے سامنے آنے کے بعد میں نے صرف اتنا ہی تو کیا ہے کہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا، نہ مجلس عمل میں متحرک رہا اور نہ ہی کاغذی علماء کونسل کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میرے پیچھے ہٹ جانے کے بعد باقی ساری کی ساری مجلس عمل تو موجود تھی، اسے لے کر چلنے میں شاہ صاحب محترم کے لیے کون سی چیز رکاوٹ تھی؟

میں نے اپنے غیر متحرک ہوجانے کے اسباب میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ محترم شاہ صاحب کا ارشاد تھا کہ مجلس عمل کے وجود میں آجانے کے بعد سارے کے سارے دینی و ملی کام مجلس عمل ہی کے فورم سے ہونے چاہئیں اور کسی جماعت کو کسی دینی و قومی مقصد کے لیے الگ سے کام نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ جبکہ شاہ صاحب محترم اپنے اس وضاحتی مضمون میں بھی اس موقف پر قائم نظر آتے ہیں اس لیے میں واقعتاً نہیں سمجھ پایا کہ شاہ صاحب میرے بیان کردہ اس دور کے معروضی حقائق میں سے کون سی بات کی نفی کر رہے ہیں؟

شاہ صاحب محترم نے اپنے مضمون کے آخر میں مجھے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں کسی نئے اتحاد کی تحریک کرنے کی بجائے مجلس عمل علماء اسلام کو ہی زندہ کروں۔ تو اس سلسلہ میں صرف اتنا عرض ہے کہ اس کے لیے سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام کا انتظار کرنا ہوگا کہ ’’زندہ کرنے‘‘ کا معجزہ انہیں دیا گیا ہے، ان کے سوا یہ بات شاید کسی اور کے بس میں نہ ہو۔

میں شکر گزار ہوں کہ شاہ صاحب محترم نے اپنے پہلے مضمون کی بہ نسبت دوسرے مضمون میں لب و لہجہ کو خاصا نرم کرنے کی کوشش فرمائی ہے جو ان کی مہربانی ہے۔ مگر اس کے باوجود حافظ شیرازیؒ کی زبان میں یہ گزارش کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں کہ:

بدم گفتی وخورسندم جزاک اللہ نکو گفتی
جواب تلخ می زیبد لب لعل شکر خارا

مجھے برادرم مولانا اللہ وسایا صاحب اور بعض دیگر دوستوں نے فون پر زور دے کر کہا ہے کہ میں اس بحث کو آگے نہ بڑھاؤں اور یہیں سمیٹ دوں، اس لیے ان مختصر گزارشات کے ساتھ میں اس بحث کے اس حصے کو سمیٹ رہا ہوں اور آئندہ حضرت شاہ صاحب محترم کے ساتھ مکالمے کی صورت میں مزید کچھ عرض نہیں کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ البتہ ہمارے اس مکالمے کے حوالے سے بعض اور بزرگوں نے بھی اس بحث میں حصہ لیا ہے ان کے بعض ارشادات کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں مولانا مجاہد الحسینی، مولانا محمد احمد حافظ، مولانا عبد القدوس محمدی اور مولانا ولی خان المظفر کے ارشادات اس وقت میرے سامنے ہیں اور ان کی روشنی میں چند معروضات پیش کر رہا ہوں۔

مجھے مولانا مجاہد الحسینی کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ اس وقت اصل ضرورت ایک نئی دینی جماعت کی ہے جو غیر سیاسی ہو اور مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کرتی ہو۔ مگر ’’غیر سیاسی‘‘ سے میری مراد یہ ہے کہ وہ جماعت ووٹ، الیکشن اور اقتدار کی سیاست سے الگ رہے، پاور پالیٹکس کا حصہ بننے کی بجائے مشترکہ دینی، ملی اور قومی مقاصد کے لیے تحریکی انداز میں کام کرے اور رائے عامہ، عوامی دباؤ اور اسٹریٹ پاور کے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرے جو دینی تحریکات کی اصل قوت ہوا کرتی تھی اور جو ہم نے خاصی حد تک کھو دی ہے۔

ہماری دینی جدوجہد خصوصاً نفاذ اسلام کی تحریک کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس سلسلہ میں کام کرنے والی بہت سی جماعتیں مسلکی دائروں میں محدود ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک خاص حد سے آگے بڑھ نہیں پا رہیں۔ میں اس سلسلہ میں یہ حوالہ دینا چاہوں گا کہ انقلابِ ایران کے بعد مجھے علماء اور وکلاء کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور حافظ حسین احمد بھی شامل تھے۔ یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے، اس موقع پر ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پاکستان میں کوئی عالم دین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خمینی صاحب کی طرح ایک عوامی انقلاب کی قیادت کر سکے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک نہیں بلکہ ہمارے پاس اس وقت دو شخصیات موجود ہیں جو خمینی بن سکتی ہیں۔ مولانا مفتی محمودؒ یا مولانا شاہ احمد نورانیؒ میں سے جو بھی آگے بڑھے گا قوم اس کو خمینی کا مقام دینے کے لیے تیار ہوگی مگر مصیبت یہ ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ آگے بڑھیں گے تو مولانا شاہ احمد نورانیؒ کے پیروکار ان کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے، اور اگر مولانا شاہ احمد نورانی پیشرفت کریں گے تو یہ بات مولانا مفتی محمودؒ کے پیروکاروں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ ہمارے ہاں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا گیئر ہمیشہ اس مقام پر آ کر پھنس جاتا ہے۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کی جتنی بھی تاویل کر لی جائے مگر اس کے وجود سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے میرے نزدیک کسی دینی جدوجہد یا تحریک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلکی ترجیحات سے بالاتر ہو اور اس کے لیے میرے خیال میں قیام پاکستان سے پہلے کی مجلس احرار اسلام ایک اچھی مثال ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دیگر طبقات کے اہل دانش نے مل کرا یک جماعت تشکیل دی اور مسلکی ترجیحات سے بالاتر ہو کر ملی و قومی مقاصد کے لیے عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔

مولانا محمد احمد حافظ نے مجھے اس جدوجہد سے ’’گریزپا‘‘ قرار دینے کا تکلف فرمایا ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں سالہا سال سے اس جدوجہد کے لیے کسی نہ کسی حد تک ہر وقت مصروفِ عمل ہوں اور مسلسل اس کے بارے میں لکھ بھی رہا ہوں۔ انہیں مغالطہ اس سے ہوا ہے کہ میں نے حافظ عبد الوحید اشرفی کے مضمون کے جواب میں وہ کردار ادا کرنے سے معذرت کی ہے جس کا انہوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ میں دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیے داعی بنوں اور قیادت میں مؤثر کردار ادا کروں۔ میں نے یہ عرض کیا ہے کہ میں خود کو اس پوزیشن میں نہیں پاتا اور موجودہ حالات میں یہ بات میرے بس میں نہیں ہے، لیکن اس سطح سے نیچے رہتے ہوئے دینی جماعتوں کے اتحاد اور کسی دینی مقصد کے لیے جدوجہد میں شریک ہونے سے مجھے کبھی انکار نہیں رہا اور نہ کبھی آئندہ ہوگا کیونکہ کسی بھی دینی جدوجہد میں شریک نہ ہونے اور اس میں حسب استطاعت کردار ادا نہ کرنے کو میں ’’گناہ کبیرہ‘‘ تصور کرتا ہوں۔

البتہ مولانا محمد احمد حافظ کے اس ارشاد سے میں متفق ہوں کہ ہمارے دینی مدارس فکری تربیت کے حوالے سے بانجھ ہو چکے ہیں اور وہ فضا اب کسی حد تک بھی موجود نہیں ہے جو اب سے ۳۰ برس پہلے تک مدارس میں فکری، اخلاقی بلکہ دینی تربیت کے حوالے سے دکھائی دیتی تھی۔ ہمارے طلبہ بلکہ مدرسین کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ہماری ماضی قریب کی دینی و ملی تحریکات کن مقاصد کے لیے تھیں، جنگ آزادی میں کون کون سے حضرات نے قائدانہ کردار ادا کیا اور دیگر ملی تحریکات کے اہداف کیا تھے؟ ہمارے دینی مدارس میں ذہنی تیاری اور فکری تربیت کے دائرے محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں جس سے کنفیوژن اور انتشار بڑھتا جا رہا ہے اور اسی کنفیوژن اور ذہنی انتشار سے بہت سی پس پردہ قوتیں مسلسل ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ مسئلہ بڑے دینی مدارس اور وفاق المدارس کی قیادت کے سوچنے کا ہے مگر وہاں اس کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ کئی برسوں سے میرا معمول ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو ہفتہ وار لیکچر کی صورت میں انسانی حقوق، معاصر مذاہب کے تعارف، ماضی قریب کی دینی تحریکات اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے فکری و علمی پہلوؤں کی طرف سے سرسری انداز میں توجہ دلانے کی کوشش کرتا ہوں تو بہت سے طلبہ میرے منہ کی طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے میں اس دنیا کی نہیں بلکہ کسی اور دنیا کی بات کر رہا ہوں اور شاید میں انہیں اس طرح گمراہ کر کے اکابر کے مسلک سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

مولانا عبد القدوس محمدی کے ارشادات کے بارے میں صرف یہی عرض کروں گا کہ انہوں نے میرے ہی جذبات کی ترجمانی کی ہے جس پر میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ مولانا ولی خان المظفر کی اس بات سے مجھے کلی اتفاق ہے کہ کسی بھی نئی دینی جماعت کو ’’اینٹی جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے جذبے کے تحت نہیں بننا چاہیے اور مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی سے گریز کرنا چاہیے۔ مجھے اس بات سے صرف اتفاق نہیں ہے بلکہ میں خود اس بات کا داعی ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بہت سے ساتھیوں کی اس خواہش سے ہمیشہ اختلاف کیا ہے کہ ہمیں جمعیۃ علماء اسلام کے ’’درخواستی گروپ‘‘ کو بحال کرنا چاہیے۔ گزشتہ بیس سال سے یہ موقف چلا آرہا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام کو متحد ہونا چاہیے اور اس نام سے اور کوئی جماعت نہیں بننی چاہیے۔ جمعیۃ علماء اسلام کا قومی سیاست میں ہمیشہ مؤثر کردار رہا ہے، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ جمعیۃ کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن قومی سیاست اور دینی جدوجہد میں جمعیۃ علماء اسلام کی حیثیت، مقام اور کردار سے اختلاف حقائق کے انکار کے مترادف ہوگا۔ مگر مجھے مولانا ولی خان المظفر کے اس ارشاد سے قطعی اتفاق نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اختلاف کا اظہار نہ کیا جائے اور ان کی کسی پالیسی پر تنقید نہ کی جائے۔ یہ خانقاہی نظام نہیں بلکہ سیاسی میدان ہے اور سیاسی زندگی کی بنیاد اختلاف رائے اور تنقید پر ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں فکری تربیت کے فقدان کا ایک نامحمود نتیجہ اور ثمرہ یہ بھی ہے کہ ہم سب نے خود کو اختلاف اور تنقید سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ فلاں صاحب نے آپ کے خلاف کتاب لکھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر انہیں میری کچھ باتوں سے اختلاف ہے تو ان پر لکھنا ان کا حق ہے۔ فرمانے لگے کہ انہوں نے آپ پر سخت تنقید کی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بھی ان کا حق ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، میرا موقف لوگوں کے سامنے ہے، ان کا موقف بھی آگیا ہے، لوگ خود فیصلہ کر لیں گے کہ کس کی بات درست ہے۔ میں نے ان سے یہ بھی گزارش کی کہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمارا نصف صدی سے یہ اختلاف چلا آرہا ہے کہ انہوں نے اپنے دستور میں صحابہ کرامؓ کو تنقید سے بالاتر تسلیم نہیں کیا حالانکہ اہل سنت کا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ صحابہ کرامؓ تنقید سے بالاتر ہیں۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ہم نے صحابہ کرامؓ کے ساتھ تنقید سے بالاتر ہونے والوں کا دائرہ بہت زیادہ وسیع کر لیا ہے جسے مزید وسیع کرتے جا رہے ہیں بلکہ خود بھی اس میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا ولی خان المظفر سے گزارش ہے کہ کردار کشی، توہین، استحقار اور استخفاف الگ چیز ہے جبکہ اختلاف اور تنقید اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ اپنے قائدین اور بزرگوں کے ساتھ ان کے احترام اور ادب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اختلاف اور ان کی پالیسیوں پر تنقید ہم سب کا حق ہے اور یہ چیز جماعتی زندگی کی جان ہوتی ہے، اس کے بغیر کوئی سیاسی جماعت، جماعت نہیں رہتی بلکہ عقیدت مندوں کا ایک جھرمٹ بن کر رہ جاتی ہے۔

مولانا ولی خان المظفر کو خدشہ ہے کہ نئی دینی جماعت یا دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیے کام کرنے والوں کے ذہن میں متبادل قیادت کھڑی کرنے کا داعیہ ہے۔ ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں ہو بھی، مگر انہیں یقین رکھنا چاہیے کہ کم از کم میرے ذہن میں یہ بات کسی درجے میں بھی بحمد اللہ نہیں ہے اور میرے انتہائی محتاط طور پر چلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ میرے ذہن میں غیر سیاسی دینی جماعت یا اتحاد کا مقصد متوازن یا متبادل قوت وجود میں لانا نہیں بلکہ ایک معاون قوت کو منظم کرنا ہے، ورنہ اگر متبادل قیادت یا متوازی جماعت کھڑی کرنے کا پروگرام ہو تو ذاتی طور پر میرے لیے اس کے امکانات بھی موجود ہیں اور بحمد اللہ تعالیٰ مواقع بھی میسر ہیں مگر میں نے ایسا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے۔ اس لیے مولانا فضل الرحمان اور ان کے رفقاء سے ہی مسلسل عرض کر رہا ہوں کہ تحریکی قوت اور اسٹریٹ پاور کے بغیر محض پارلیمانی سیاست پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے مؤثر راستہ نہیں ہے۔ پارلیمانی سیاست کو عوامی دباؤ اور اسٹریٹ پاور کی حمایت اور پشت پناہی میسر ہوگی تو وہ اپنا کردار زیادہ مؤثر طریقے سے ادا کر سکے گی ورنہ وہی کچھ ہوتا رہے گا جو اس وقت ہو رہا ہے۔

ماضی میں بھی یہ صورتحال رہی ہے کہ سیاسی میدان میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اپنے رفقاء کی ٹیم کے ساتھ پارلیمانی سیاست میں متحرک رہے ہیں مگر غیر سیاسی دینی محاذ پر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور حضرت مولانا عبد الستار تونسوی مدظلہ اور ان جیسے دیگر اکابر علماء کرام کی قیادت میں عوامی دباؤ کی قوت ان کی پشت پر رہی ہے۔ آج یہ عوامی قوت پارلیمانی سیاست کی پشت پر موجود نہیں ہے اور اس خلا کو پر کیے بغیر محض پارلیمانی سیاست کے ذریعے ملکی صورتحال میں کسی اصلاح اور ملکی نظام میں کسی تبدیلی کی امید کو میں خود فریبی سمجھتا ہوں۔

مولانا ولی خان المظفر کو مجھ سے شکایت ہے کہ میں ان کے خیال میں ذہنی انتشار اور فکری کنفیوژن کا شکار ہوگیا ہوں۔ ان کا یہ ارشاد پڑھ کر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ایک بار پھر کسی سے ذہنی انتشار اور اور فکری کنفیوژن کا مطلب پوچھ لینا چاہیے کیونکہ بسا اوقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ اور جملوں کے معانی بدل جایا کرتے ہیں اس لیے کہ اب تک ان جملوں کا جو معنی ہمارے ذہن میں ہے بحمد اللہ تعالیٰ اس سے اپنے ذہن و فکر کو محفوظ پاتا ہوں۔ اس لیے کہ متحرک جماعتی زندگی سے کنارہ کشی کے بعد گزشتہ دو عشروں سے جو صدا مسلسل لگا رہا ہوں وہ قارئین سے مخفی نہیں ہے اور اس صدا میں اب تک کوئی الجھاؤ یا فرق نہیں آیا۔ اور اس صدائے فقیر کے بعض پہلو دہرانا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ:

  • پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے صرف سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد کافی نہیں ہے بلکہ پبلک پریشر اور عوامی قوت بھی اس کی ناگزیر ضرورت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کی طرح غیر سیاسی دینی قوتیں اور جماعتیں بھی میدان میں متحرک رہیں۔
  • نفاذ شریعت کے لیے سطحی نعرے بازی اور جذباتی تقریروں سے آگے بڑھ کر ذہن سازی کے لیے ہوم ورک، لابنگ، ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال اور دینی قوتوں کا باہمی ربط و تعاون بھی ضروری ہے۔
  • نفاذ شریعت کا راستہ روکنے کا جو کام عالمی سطح پر ہے اور بین الاقوامی لابیاں اس کے لیے مسلسل متحرک ہیں، ان کے کام کو سمجھنا، طریق واردات سے واقفیت حاصل کرنا اور ان کے سدباب کے لیے منصوبہ بندی کرنا بھی دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔
  • ہمارے مدارس کے مدرسین و طلبہ، مساجد کے خطباء و ائمہ اور دینی جماعتوں کے راہنما و کارکنوں کی غالب اکثریت اسلام اور مغرب کے درمیان انسانی حقوق کے عنوان سے لڑی جانے والی عالمی ثقافتی جنگ سے سرے سے واقف نہیں ہے، اس لیے ان حضرات کو اس کے لیے تیار کرنا اور یونانی فلسفہ کی طرح مغربی فلسفہ کو تدریسی نصاب میں شامل کرنا دینی مدارس کے فرائض میں شامل ہے۔
  • دینی جماعتوں اور حلقوں کے درمیان کشمکش، ایک دوسرے کے کام کی نفی اور استخفاف و استحقار کا روز افزوں ذوق و مزاج ہمارے لیے زہر قاتل ہے، اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ اور دینی جدوجہد کو صحیح رخ پر آگے بڑھانے کے لیے انتہائی درجہ میں لازم ہے کہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیا جائے، ایک دوسرے کے کام کا احترام کیا جائے اور باہمی مشاورت، مفاہمت اور تعاون کی فضا قائم کی جائے۔
  • علمی مسائل اور خاص طور پر جدید فکری اور ثقافتی مسائل پر باہمی بحث و مباحثہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور محاذ آرائی سے ہٹ کر علمی انداز میں اس بحث و مباحثہ کو آگے بڑھانے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، وغیر ذٰلک۔

یہ وہ باتیں ہیں جو میں مسلسل عرض کر رہا ہوں اور ان کے لیے لابنگ اور ہوم ورک بھی کسی نہ کسی حد تک کر رہا ہوں۔ اگر اس کا نام کنفیوژن اور ذہنی انتشار ہے تو میں مولانا ولی خان المظفر سے درخواست کروں گا کہ وہ خصوصی اوقات میں میرے لیے اس پر استقامت کی دعا فرماتے رہیں، آمین یا رب العالمین۔