باہمی مشاورت کی اہمیت اور شرعی حیثیت

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

۳۰ نومبر تا ۲ دسمبر ۲۰۲۰ء کو تبلیغی جماعت کے ساتھ سالانہ سہ روزہ کی ترتیب بن گئی اور مرکزی جامع مسجد کامونکی میں تشکیل ہوئی۔ اس دوران مختلف بیانات، متعدد شخصیات سے ملاقاتوں، اور دینی اداروں میں حاضری کے علاوہ تبلیغی جماعت کی ایک شورائی نشست میں مشورہ کی اہمیت کے حوالہ سے مختصر گفتگو کا بھی موقع ملا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مشورہ اور شورائی نظام و ماحول اسلام کے امتیازات میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خصوصیات میں اس بات کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے کہ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ ان کے معاملات باہمی مشاورت کے ساتھ طے ہوتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ جاری تھا اور آپؐ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی مگر آپؐ کے لیے بھی حکم خداوندی یہ تھا کہ ’’وشاورھم فی الامر‘‘ آپ مسلمانوں سے اپنے معاملات میں مشاورت کرتے رہیں۔ اس لیے جناب رسول اللہ کا زندگی بھر معمول رہا کہ درپیش معاملات میں زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ مشاورت کا اہتمام فرماتے تھے اور جن امور میں وحی کا نزول نہیں ہوتا تھا ان کے فیصلے باہمی مشاورت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی مشاورت کے بیسیوں واقعات احادیث میں مذکور ہیں جن میں سے دو کا تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ مشورہ کی ضرورت اور اس کی اہمیت و حیثیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے آجائے۔

غزوۂ بدر اسلام کا فیصلہ کن معرکہ تھا جس کے بعد دو مسئلے سامنے آئے۔ ایک یہ کہ جنگ میں جو غنیمت حاصل ہوئی ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ گزشتہ شریعتوں میں جہاد سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کو استعمال میں لانا درست نہیں تھا اور اسے کھلے میدان میں جمع کر کے آگ کی نذر کر دیا جاتا تھا۔ جبکہ جناب نبی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ ’’احلت لی الغنائم‘‘ مجھے جو امتیازی امور عطا کیے گئے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ غنیمت میرے لیے یعنی امت مسلمہ کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ بدر کے موقع پر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں سوال پیدا ہوا تو قرآن کریم کی آیات وحی کے طور پر نازل ہو گئیں کہ پانچواں حصہ بیت المال کے لیے الگ کر کے باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے۔

دوسرا مسئلہ جنگی قیدیوں کے بارے میں تھا کہ بدر میں ستر افراد قید ہوئے تھے، اس کا فیصلہ آنحضرتؐ نے مشاورت کے ذریعے کیا، غزوۂ بدر میں شریک حضرات سے آپؐ نے مشورہ کیا کہ ان قیدیوں کے بارے میں کیا فیصلہ کرنا چاہیے؟ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے۔ بحث و تمحیص کے بعد فیصلہ حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے پر ہوا کہ سب قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کر دیا گیا۔ اس فیصلہ پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تنبیہ فرمائی جیسا کہ سورہ الانفال کی آیات ۶۷، ۶۸، ۶۹ میں ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔ ان آیات کو حضرت عمرؓ کے موافقات میں شمار کیا جاتا ہے یعنی جن آیات مبارکہ میں حضرت عمرؓ کی کسی رائے کی تائید کی گئی ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بطور خاص قابل توجہ ہے کہ تنبیہ کے باوجود فیصلہ وہی نافذ ہوا جو مشورہ میں طے ہوا تھا، اسے تبدیل نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’فکلوا مما غنمتم حلالا طیبًا‘‘ یہ مال جو حاصل ہوا ہے حلال و طیب ہے اسے کھاؤ۔ اس سے مشورہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جو بات مشورہ میں طے ہو جائے اگرچہ بظاہر ناپسندیدہ ہو مگر عمل اسی پر ہونا چاہیے۔

دوسرا واقعہ غزوۂ احد کا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ مکہ مکرمہ سے قریش کا لشکر مدینہ منورہ پر حملہ کے لیے روانہ ہو گیا ہے تو صحابہ کرامؓ کو مشورہ کے لیے مسجد میں جمع کیا اور اس پر مشورہ چاہا کہ ہمیں مدینہ منورہ کے اندر محصور ہو کر دفاعی جنگ لڑنی چاہیے یا میدان میں نکل کر کھلا مقابلہ کرنا چاہیے۔ خود حضورؐ نے مدینہ منورہ میں رہ کر دفاعی جنگ لڑنے کی رائے دی مگر چونکہ مشاورت تھی اس لیے جو لوگ میدان میں جا کر کھلے مقابلہ کے حق میں تھے مجلس نے ان کی رائے کو مان لیا اور فیصلہ ہوا کہ مدینہ منورہ سے نکل کر کھلے میدان میں قریش کے لشکر کا مقابلہ کریں گے۔ مگر اس کے بعد جب میدان جنگ میں نکلنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، بعض حضرات کو خیال ہوا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کھلے میدان میں نکلنے کی نہیں تھی تو ہم نے اس کے خلاف رائے دے کر غلطی کی ہے اس لیے ہمیں اپنی رائے واپس لینی چاہیے۔ چنانچہ وہ حضرات آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اپنی رائے پر ندامت کا اظہار کیا اور گزارش کی کہ ہم اپنی رائے واپس لیتے ہیں، آپ مدینہ سے باہر جا کر لڑنے کا فیصلہ واپس لے لیں۔ جس پر جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہتھیار باندھنے کے بعد جنگ کیے بغیر اتارا نہیں کرتے، جس کا مطلب یہ تھا کہ جو فیصلہ مشورہ میں ہو چکا ہے اس پر عمل ہو گا اور اسی کے مطابق اپنے لشکر کو لے کر آپؐ مدینہ سے باہر احد کے دامن میں جا کر مورچہ زن ہو گئے۔ یہ واقعہ بھی یہ سبق دیتا ہے کہ مشورہ میں جو طے ہو جائے اسی پر عمل کرنا چاہیے اور اگر فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی کی رائے بدل جائے تو وہ فیصلہ پر اثر انداز نہیں ہو گی۔

البتہ یہاں ایک بات طالبعلمانہ طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاورت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے عملی طور پر یہ صورت اختیار فرمائی کہ آبادی سے نکل کر احد کے دامن میں رک گئے جس سے مدینہ منورہ سے نکل کر کھلے میدان میں جانے کی بات پوری ہو گئی، جبکہ آبادی سے زیادہ دور بھی نہیں گئے تاکہ آبادی کی پشت پناہی اور تعاون حاصل ہوتا رہے، یہ جناب نبی کریمؐ کی حکمت عملی تھی۔

مشورہ کی اہمیت اور مشاورتی فیصلہ پر عملدرآمد کے حوالہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بھی بہت سے ارشادات و واقعات تاریخ میں موجود ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ باہمی مشاورت مسلمانوں کی ایک نمایاں خصوصیت اور اسلام کے نظامِ اجتماعی کا اہم شعبہ ہے جس کی برکات و ثمرات اور منطقی نتائج واضح ہیں۔ حضرات خلفاء راشدینؓ کے فیصلوں کی بنیاد بھی اکثر و بیشتر مشاورت پر ہوتی تھی اور آج بھی ہمارے لیے محفوظ اور بابرکت راستہ یہی ہے۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۹ دسمبر ۲۰۲۰ء)
موضوع: