مولانا فضل الرحمان پر حملے ، استعمار کی سازش!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اپریل ۲۰۱۱ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل دو خودکش حملے ملک بھر کے دینی کارکنوں اور محب وطن عناصر کے لیے باعث تشویش و اضطراب ہیں اور ان حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر سینے میں دل رکھنے والا ہر شخص غمزدہ ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل فون پر میں نے مولانا موصوف سے اس سانحہ پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی ہے اور شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کی ہے، اللہ تعالٰی قبول فرمائیں۔

مولانا فضل الرحمان ہمارے مخدوم و محترم قائد حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فرزند و جانشین ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر کی حیثیت سے ملک کی قومی سیاست کا ایک متحرک اور اہم کردار ہیں۔ صوبائی اور مرکزی سطح پر جمعیۃ علماء اسلام کے ایک متحرک عہدے دار کے طور پر میری حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ کم و بیش ایک عشرہ تک قریبی رفاقت رہی ہے اور اس دوران مولانا فضل الرحمان کی زندگی کے مختلف ادوار کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ ان کا وہ دور بھی نگاہوں کے سامنے ہے جب وہ طالب علم تھے اور جمعیۃ طلباء اسلام صوبہ سرحد کے صدر کی حیثیت سے متحرک تھے۔ پھر وہ دور بھی کھلی آنکھوں سے دیکھا بلکہ بھگتا جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی اچانک وفات کے بعد ان کے جانشین کے طور پر مولانا فضل الرحمان کے انتخاب پر جماعتی صفوں میں اختلاف پیدا ہوا اور جمعیۃ علماء اسلام دو حصوں میں بٹ گئی۔ اس کے ساتھ ایم آر ڈی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کا مسئلہ بھی مابہ النزاع تھا۔ ان دو مسئلوں پر جمعیۃ علماء الاسلام دو حصوں درخواستی گروپ اور فضل الرحمان گروپ میں تقسیم ہوگئی اور کم و بیش ایک عشرہ تک دونوں گروپوں کے درمیان معرکہ آرائی کا محاذ گرم رہا، جسے گرم رکھنے میں خود میرا بھی حصہ شامل تھا کہ کہ میں جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ کا متحرک کردار شمار ہوتا تھا۔ مگر سیاسی سطح پر شدید اختلاف، مخالفانہ بیان بازی اور ایک دوسرے کے خلاف لابنگ کے تمام حربوں کے باوجود ہمارے ذاتی تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے۔ اس دور میں بھی ہم جب آپس میں ملتے تو دوستوں کی طرح ملتے اور بے تکلفانہ گفتگو اور گپ شپ کرتے، اس دور کے دو واقعات ایسے ہیں جنہیں بہرحال تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہونا چاہیے اس لیے ان کا تذکرہ کر رہا ہوں۔

مولانا فضل الرحمان ان دنوں مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں رہائش پذیر تھے، سید خورشید عباس گردیزی جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ ملتان ڈویژن کے امیر تھے اور ان کے ہاں درخواستی گروپ کا ڈویژنل کنونشن تھا جس سے میں نے خطاب کیا اور مولانا فضل الرحمان کی سیاسی پالیسیوں پر جو کچھ میں کہہ سکتا تھا میں نے کہا۔ رات کو عوام ایکسپریس سے مجھے لاہور آنا تھا جو نصب شب کے قریب ملتان سے روانہ ہوتی تھی۔ خاصا وقت تھا، میں نے گردیزی صاحب سے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں معلوم کریں اگر وہ موجود ہوں تو ملاقات کر لیتے ہیں۔ فون پر معلوم کیا تو وہ اپنے گھر میں موجود تھے، ہم عشاء کے لگ بھگ ان کے ہاں جا پہنچے، گردیزی صاحب مجھے وہاں پہنچا کر واپس چلے گئے۔ ہم نے تھوڑی دیر گفتگو کی اور چائے پی، اس دوران بی بی سی کی خبریں اکٹھی سنیں، اس میں بھی ایک لطیفہ ہوا جس کا ذکر پھر کسی موقع پر کروں گا ،ان شاء اللہ تعالٰی۔ عوام ایکسپریس کا وقت قریب آیا تو میں نے مولانا سے کہا کہ مجھے ریلوے اسٹیشن تک پہنچائیں، انہیں اچانک خیال آیا کہ ان کی گاڑی تو ورکشاپ میں ہے، اس لیے پریشانی ہوئی کہ اس وقت نصب شب کے قریب متبادل انتظام کس طرح ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ کوئی بات نہیں میں باہر سے رکشہ لے کر چلا جاتا ہوں۔ یہ سوچ کر ہم دونوں مدرسہ قاسم العلوم سے باہر نکلے اور رکشہ تلاش کرتے کرتے کچہری چوک تک جا پہنچے۔ ہم دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بے تکلفانہ گپ شپ کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ میں نے مولانا صاحب سے کہا کہ جناب اگر اس وقت آدھی رات کو جمعیۃ علماء اسلام کے کسی کارکن نے ہمیں ملتان کے کچہری چوک میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گپ شپ کرتے دیکھ لیا تو اس غریب کا کیا حال ہوگا؟ اتنے میں ایک خالی رکشہ سامنے آیا تو مولانا فضل الرحمان نے اسے روکتے ہوئے مجھے کہا کہ ’’جلدی یہاں سے بھاگو‘‘ اور میں رکشہ میں سوار ہو کر ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔

دوسرا واقعہ اس سے زیادہ دلچسپ ہے کہ حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ جمعیۃ علماء اسلام (درخواستی گروپ) کے امیر بھی تھے، محبوب راہنما بھی تھے، شفیق بزرگ اور سرپرست بھی تھے۔ ایک مرتبہ ہم نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی مسجد نور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے حضرت کا خطاب رکھا ہوا تھا، شہر میں اشتہارات کے ذریعے خوب تشہیر کی گئی تھی اور جمعیۃ علماء اسلام کے کارکن بڑی تعداد میں جمع تھے۔ میں جمعۃ المبارک سے قبل نصرۃ العلوم میں حضرت درخواستی سے ملا اور عرض کیا کہ جامع مسجد میں جمعہ پڑھا کر میں دوبارہ حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔ مگر جب مرکزی جامع مسجد میں جمعہ سے قبل خطاب کے لیے منبر پر بیٹھا تو ابھی خطبہ مکمل نہیں کر پایا تھا کہ مولانا فضل الرحمان میرے سامنے نمازیوں کی دوسری صف میں آ براجمان ہوئے اور مجھے دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا۔ انہیں اس طرح اور اس موقع پر اچانک سامنے بیٹھا دیکھ کر ذہن میں ہلچل سی مچ گئی کہ اب کیا کروں؟ اگر انہیں نظر انداز کر دیتا ہوں تو مہمان کے اکرام کے خلاف ہے اور اگر خطاب کا موقع دیتا ہوں تو ادھر نصرۃ العلوم میں حضرت درخواستی جمعہ پڑھا رہے ہیں، شہر میں اس کا تاثر کیا ہوگا اور حضرت کیا سمجھیں گے؟ پھر خدا جانے مولانا فضل الرحمان تقریر میں کیا کہہ ڈالیں۔ اس ذہنی کشمکش میں تقریر تو میں نے جاری رکھی مگر طے کر لیا کہ خطبہ اور نماز کے لیے مولانا فضل الرحمان سے کہہ دوں گا۔ چنانچہ میں نے تقریر مکمل کی اور مولانا فضل الرحمان نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھیوں کو ماحضر تناول کی دعوت دی جس میں کچھ وقت لگ گیا۔

ادھر کسی ستم ظریف نے حضرت درخواستی کے کان میں جا کر پھونک دیا کہ راشدی نے آپ کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کو جمعہ کے لیے بلایا ہوا ہے اور وہاں جمعہ کی نماز انہوں نے پڑھائی ہے۔ جبکہ اصل بات اتنی تھی کہ وہ لاہور سے اسلام آباد جا رہے تھے اور راستہ میں جمعہ کا وقت ہونے پر رک گئے تھے کہ ملاقات ہو جائے گی اور جمعہ بھی پڑھ لیں گے۔ اس لیے جب میں حضرت درخواستیؒ کی خدمت میں حاضری کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم پہنچا تو حضرت کا موڈ آف تھا۔ حضرت درخواستیؒ کو جاننے والے حضرات سمجھتے ہیں کہ ایسے موقع پر کیا ہوا کرتا تھا، وہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ حضرت نے دیکھتے ہی فرمایا او بے وفا! نکل جاؤ یہاں سے، پھر نہ صرف مصافحہ سے انکار کر دیا بلکہ کمرہ کا دروازہ بند کروا دیا۔ مجلس میں موجود لوگ حیران و پریشان تھے مگر میں جانتا تھا کہ یہ حضرت کی محبت کا اظہار ہے کیونکہ ان کا جلال بھی ہمارے لیے شفقت کی علامت ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہوا تو مجھے اندر بلا کر پوچھا کہ تم نے میرے مقابلہ میں فضل الرحمان کو کیوں بلایا؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا البتہ اتفاقاً ایسا ہوگیا ہے، اس پر حضرت درخواستیؒ کا موڈ معمول پر آیا اور بات رفع دفع ہوگئی۔

یہ واقعات میں نے اس لیے بھی عرض کرنا ضروری سمجھے ہیں کہ آج کے دینی کارکنوں کے سامنے یہ بات آجائے کہ باہمی محاذ آرائی کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف سلیقہ کے ساتھ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر بھی کیا جا سکتا ہے بلکہ کیا جانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان کی پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، ان کے طریق کار پر بھی بحث ہو سکتی ہے بلکہ حدود کے دائرے میں ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس بات میں کوئی کلام نہیں ہے کہ وہ اس وقت قومی سیاست میں اپنی مسلسل محنت، فراست اور مہارت کے ساتھ جو مقام حاصل کر چکے ہیں وہ ہم سب کے لیے باعث عزت و وقار ہے۔ انہوں نے ان مخدوش حالات اور انتہائی گھمبیر صورتحال میں جس طرح جمعیۃ علماء اسلام کے علماء کرام اور کارکنوں کو جوڑ رکھا ہے اور انتہائی احتیاط اور حوصلہ کے ساتھ انہیں لے کر مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں وہ میرے جیسے شعوری کارکنوں کے لیے اس لیے بھی حوصلہ افزا ہے کہ قومی سیاست کا محاذ نہ صرف یہ کہ خالی نہیں ہے بلکہ وہاں ایک مؤثر دینی قوت موجود ہے جو بہت سی باتوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ دستوری ترامیم کے دوران دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ، تحریک ختم نبوت، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور پارلیمنٹ سے قومی خودمختاری کے تحفظ کی متفقہ قرارداد کی منظوری میں مولانا فضل الرحمان کا کردار تسلی دلاتا ہے کہ اسلامائزیشن کی طرف اس وقت کوئی عملی پیش رفت ہو سکے یا نہیں، کم از کم ماضی کے اقدامات اور بزرگوں کی کمائی کی حفاظت کا سامان ضرور موجود ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ میں مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر دو خودکش حملوں کو استعماری سازش سمجھتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتا ہوں، شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں، جمعیۃ علماء اسلام کے تمام ارکان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور بارگاہ ایزدی میں میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا فضل الرحمان کی حفاظت فرمائیں اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو اپنے بزرگوں کی روایات کے مطابق قومی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔