مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جون ۲۰۱۱ء

۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا۔ خانیوال کے مفتی خالد محمود ہمارے عزیز فاضل نوجوان ہیں، ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد رمضان ازہرؒ کے ساتھ ایک عرصہ تک جماعتی رفاقت رہی، ان کی ٹریفک کے ایک حادثہ میں شہادت ہوگئی تھی، دلچسپی کی بات یہ ہے کہ آنجہانی مرزا طاہر احمد نے ان کی شہادت کو بھی اپنے مباہلے کے نتیجے میں فوت ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل کر لیا تھا اور قادیانی جریدہ الفضل میں ان کا نام باقاعدہ اس حوالے سے شائع ہوا تھا۔

مفتی خالد محمود کے بھائی مجھے لینے کے لیے شورکوٹ آئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آج میرا آرام کا موڈ ہے، انہوں نے کہا کہ آج آپ کو آرام ہی کرائیں گے۔ جو اس ترتیب کے ساتھ تھا کہ دس بجے ڈسٹرکٹ پریس کلب میں ’’دفاع اسلام اور استحکام پاکستان‘‘ کے عنوان سے سیمینار تھا جس سے میرے علاوہ مولانا عبد الکریم نعمانی، مفتی خالد محمود اور ہفت روزہ شب و روز کے مدیر جناب امتیاز اسعد نے بھی خطاب کیا، ظہر کے بعد اڈہ بارہ میل کے قریب ہمارے پرانے جماعتی ساتھی حاجی عبد الغفور صاحب کے قائم کردہ جامعہ قاسمیہ تعلیم القرآن للبنات میں طالبات سے خطاب ہوا، عصر کے بعد زکریا پبلک ہائی اسکول کبیر والا میں اساتذہ کے ایک اجتماع میں حاضری دی اور مغرب کے بعد دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کے مہتمم حضرت مولانا ارشاد احمد مدظلہ کے حکم پر دارالعلوم کے طلبہ سے خطاب کی سعادت حاصل کی، درمیان میں بحمد اللہ تعالٰی تھوڑا بہت آرام بھی ہوتا رہا۔ دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا میں طلبہ سے جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ نذر قارئین ہے:

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ دارالعلوم کبیر والا ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، ملک کی دینی تحریکات اور اساتذہ و طلبہ کی مسلکی ذہن سازی میں اس دینی درسگاہ کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔۔۔۔۔ اس عظیم درسگاہ میں اساتذہ اور طلبہ سے مخاطب ہوں۔ حدیث میں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک شخص سامنے سے گزرا جس کا حال پراگندہ تھا، بال بکھرے ہوئے اور میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آنحضرتؐ نے اسے طلب فرمایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ تم غسل کر کے تیل وغیرہ لگاؤ، کنگھی کرو اور دھلے ہوئے کپڑے پہنو۔ اس نے جواب دیا کہ میرے پاس سینکڑوں اونٹ ہیں اور میں ہزاروں بکریوں کا مالک ہوں۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’فلیرٰی اثرہ علیک‘‘ اگر تجھ پر اللہ تعالٰی کا اس قدر کرم ہے تو تجھ پر اس کے اثرات بھی نظر آنے چاہئیں۔ یعنی تیرے لباس اور جسم سے محسوس ہونا چاہیے کہ تجھ پر اللہ تعالٰی کے اس قدر احسانات ہیں۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دنیوی دولت کے حوالے سے فرمائی ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالٰی نے دنیا کی دولت سے نوازا ہے اسے تحدیثِ نعمت کے طور پر جائز حدود میں اس کا اظہار کرنا چاہیے۔ مگر میں یہ بات آپ حضرات سے دینی علم کی دولت کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے اور دین کا علم رکھنے والوں پر بھی اس کے اثرات لوگوں کو نظر آنے چاہئیں۔ آپ حضرات کو اللہ تعالٰی نے علم دین جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے تو آپ کی وضع قطع، چلنے پھرنے، لباس، تراش و خراش اور لوگوں کے ساتھ آپ کی ملاقات اور معاملات سے دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ہم کسی عالم دین یا دینی علوم کے طالب علم سے بات کر رہے ہیں یا اس کے ساتھ ہمیں کوئی معاملہ درپیش ہے۔ ہم لوگ دین کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں اس لیے اس بات کا بطور خاص اہتمام ہونا چاہیے کہ ہماری کسی بات یا عمل سے دین کے بارے میں لوگوں کا تاثر مجروح نہ ہو۔ جبکہ دین کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ہم اپنے اکابر کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور ان کا نام لے کر سوسائٹی میں ہم اپنا تعارف کرواتے ہیں، اکابر علماء دیوبند کا تذکرہ ہمارا ایک مستقل حوالہ ہوتا ہے اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم ان اکابر کی کمائی اور برکات سے ہی فیضیاب ہو رہے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور ان کے بعد اکابر علماء دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان جیسے دیگر اکابر اس سوسائٹی میں ہمارا سب سے بڑا حوالہ ہیں جس سے اس معاشرے میں ہماری پہچان ہوتی ہے۔

ایک دفعہ شیرانوالہ لاہور میں علماء کرام کا اجتماع تھا اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ خطاب فرما رہے تھے، انہوں نے علماء کرام کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم جن اکابر کا نام لیتے ہیں آج کے لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا مگر وہ ہماری زبانوں سے ان کا نام سنتے ہیں اور ہمیں ان کا نمائندہ سمجھتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ وہ ہمیں دیکھ کر ہی ہمارے ان اکابر کے بارے میں رائے قائم کریں گے کہ جیسے یہ ہیں وہ بھی ایسے ہی ہوں گے، اس طرح اگرچہ ہم اپنا تعارف ان اکابر کے نام سے کرواتے ہیں لیکن لوگوں کی نظر میں ہم ان اکابر کی پہچان بن گئے ہیں اس لیے اکابر کے بارے میں ان کا تاثر وہی ہوگا جو وہ ہمیں دیکھ کر قائم کریں گے۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے معاملات اور معمولات میں اس بات کا لحاظ رکھنا ہوگا کہ ہماری وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ہمارے اکابر کے بارے میں تصور خراب نہ ہو اور وہ ہمیں دیکھ کر اکابر کے بارے میں غلط تاثر قائم نہ کر لیں۔ اچھی اولاد وہ ہے جو اپنے والدین اور بزرگوں کی نیک نامی میں اضافہ کرے لیکن اگر ہم اپنے بزرگوں کی نیک نامی میں اضافہ نہ کر سکیں تو کم از کم ان کی بدنامی کا باعث بننے سے ہمیں بہرحال گریز کرنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی عزیز طلبہ سے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں اور اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں اس لیے کہ یہ محاورہ مشہور ہے کہ ’’نیم حکیم خطرۂ جان اور نیم ملّا خطرۂ ایمان‘‘۔ حکیم ادھورا ہوگا تو لوگوں کی صحت خراب کرے گا اور ملّا ادھورا ہوگا تو لوگوں کا ایمان خراب کرتا پھرے گا۔ میں ایک بات اکثر عرض کیا کرتا ہوں کہ اس وقت ہمیں جن فتنوں کا سامنا ہے اور جن فتنوں سے لوگوں کو بچانے کے لیے ہم مسلسل فکرمند رہتے ہیں ان میں سے کسی بھی فتنے کا تجزیہ کر لیجئے! آپ کو ہر فتنے کے پیچھے کوئی نہ کوئی ’’نیم ملّا‘‘ کھڑا دکھائی دے گا۔ کوئی تعلیم کے حوالے سے نیم ملّا ہوگا اور کوئی تربیت کے حوالے سے نامکمل ہوگا ،اس لیے کہ صرف تعلیم ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ فکری، اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت بھی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں فکرمندی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کا اہتمام تو ہے مگر دینی اعمال کی پابندی، فکری طور پر ذہن سازی، روحانی تربیت اور اخلاق سازی کی طرف ہماری توجہ اس درجے کی نہیں ہے جیسے ہونی چاہیے اور اس کے نقصانات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔

دینی مدارس کے طلبہ سے میری ہمیشہ یہ گزارش ہوتی ہے کہ انہیں اپنے اس وقت کی قدر کرنی چاہیے جو تعلیم کے لیے انہیں میسر ہے، یہ وقت دوبارہ زندگی بھر نہیں ملے گا، اس وقت کو تعلیم حاصل کرنے میں ہی صرف کرنے کی کوشش کریں اور دوسرے کاموں میں اس وقت کو ضائع نہ کریں۔ اگر تعلیم کی طرف توجہ نہیں ہوگی، غیر حاضریاں ہوں گی، سبق میں دھیان نہیں ہوگا، وقت کی پابندی نہیں ہوگی، فرائض و واجبات کا اہتمام نہیں ہوگا، ذکر و اذکار کا شوق و ذوق نہیں ہوگا اور اساتذہ کی شفقت و توجہ سے محرومی ہو گی تو تعلیم نامکمل رہ جائے گی اور آپ ملّا کی بجائے نیم ملّا بنیں گے، اپنا نقصان تو کریں گے ہی، لوگوں کا دین بھی خراب کریں گے اور فائدہ کی بجائے نقصان اور خسارے کا ذریعہ بنیں گے۔ اس لیے طلبہ سے میری گزارش ہے کہ تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں، سبق اور تکرار کا اہتمام کریں، مطالعہ اور غور و فکر کی عادت ڈالیں، دینی فرائض اور ذکر و اذکار کی پابندی کریں اور اپنے اساتذہ کی شفقت اور دعائیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ دین اور علم بہرحال اسی ذریعے سے حاصل ہوگا اور اسی طرز پر چل کر ہم دین کی خدمت کرنے والے صحیح ’’ملّا‘‘ بن سکیں گے۔ اللہ تعالٰی مجھے اور آپ سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔