پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظِ ختمِ نبوت سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۰ ستمبر ۲۰۱۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے اس سال بھی ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا جو ۲۸ ستمبر کو ایک شادی ہال میں منعقد ہوا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، پیپلز پارٹی کی ضلعی و مقامی قیادت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنماؤں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے بطور مہمان خصوصی اس میں شرکت کا اعزاز بخشا گیا اور میں اپنے ذوق و مزاج کے خلاف ساڑھے تین چار گھنٹے تک مسلسل اس مسند پر براجمان رہا۔

پی پی گکھڑ کے صدر میاں راشد طفیل ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جو تین پشتوں سے تحریک ختم نبوت اور دیگر دینی تحریکات کے ساتھ مسلسل وابستگی کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں بھی پوری سرگرمی کے ساتھ شریک چلا آرہا ہے۔ اور اس سیمینار میں میاں راشد طفیل کے دو بیٹوں حافظ عبد اللہ اور حافظ بلال کی تقاریر سن کر اندازہ ہوا کہ اگلی نسل بھی اس تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

گزشتہ سال اس سیمینار میں پی پی کے صوبائی صدر جناب قمر الزمان کائرہ مہمان خصوصی تھے، اس سال بھی انہوں نے آنا تھا مگر کسی اچانک مجبوری کے باعث نہ پہنچ سکے۔ سیمینار میں درجن بھر علماء کرام اور راہنماؤں نے خطاب کیا جن کا الگ الگ تذکرہ مختصر کالم میں مشکل ہے البتہ سب کی مشترکہ بات تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے ساتھ بے لچک وابستگی کا اظہار ، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم، اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی اس سلسلہ میں خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنا تھی۔ جبکہ سابق قادیانی مبلغ جناب شمس الدین کا خطاب بڑی توجہ کے ساتھ سنا گیا جس میں انہوں نے قادیانیت سے تائب ہونے کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔

مولانا قاری محمود اختر عابد نے، جو گکھڑ کی مسجد شاہ جمال کے خطیب ہیں اور بٹ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے خطاب میں بتایا کہ انہیں خواب میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ آنحضرتؐ آرام فرما ہیں اور آپؐ کے پاؤں مبارک کے تلوؤں کے ساتھ ایک صاحب اپنے سینے کو چمٹائے ہوئے ہیں، غور سے دیکھا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تھے۔ مجھے یہ خواب سن کر کوئی تعجب نہ ہوا، اس لیے کہ میں بھٹو مرحوم کے آخری ایام کے بارے میں جیل میں ان کے نگران کرنل رفیع الدین کی یادداشتوں میں بھٹو مرحوم کی یہ بات پڑھ چکا ہوں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے پر انہیں کوئی ندامت نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ قیامت کے دن ان کی نجات اور سرخروئی کا باعث بنے گا۔

میں نے اپنی گفتگو میں تحریک ختم نبوت کے دوران تحریک کے قائدین مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دیگر اکابرین کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے جرأت مندانہ کردار کا بھی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا اور گزارش کی کہ میں اس حوالہ سے دو باتوں پر بطور خاص بھٹو مرحوم کو خراج تحسین پیش کروں گا:

  1. ایک یہ کہ انہوں نے بطور وزیراعظم اس مسئلہ کو سرسری طور پر نہیں لیا بلکہ اسے ایوان میں تین ہفتوں سے زائد کے تفصیلی مباحثہ کا موضوع بنایا تاکہ اس کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ وہ چاہتے تو ایک دو گھنٹے کی مختصر بحث کے بعد کسی بل یا قرارداد کی صورت میں کوئی فیصلہ پارلیمنٹ سے منظور کرا سکتے تھے۔ مگر انہوں نے نہ صرف تمام ارکان اسمبلی کو بحث میں شریک کیا بلکہ قادیانی جماعت کے دونوں گروہوں کے سربراہوں مرزا ناصر احمد اور مولوی صدر الدین کو ایوان میں آنے اور اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دی جو کئی روز تک اپنا موقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی کے سوالات کا جواب بھی دیتے رہے۔ جبکہ اس سلسلہ میں اٹارنی جنرل یحیٰی بختیار مرحوم نے بھی سرگرم کردار ادا کیا اور ایوان کے اس طویل مباحثہ کو بامقصد بنا دیا۔ یہ ساری کارروائی نیٹ پر قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے اور الگ کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکی ہے جسے دیکھ کر بھٹو مرحوم کی فراست کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلہ کو باقاعدہ ایک مکمل اور جامع مقدمہ کی شکل دے کر قومی اسمبلی کے دستوری فیصلے کو اس طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا کہ کسی کے لیے اس کے کسی پہلو پر سوال اٹھانے کی گنجائش نہیں رہنے دی۔
  2. دوسری بات یہ کہ قادیانی مسئلہ ہمارے عقیدہ و ایمان کا مسئلہ ہے اور مذہبی مسئلہ ہے، مگر بھٹو مرحوم نے اسے مذہبی اور شرعی مسئلہ کے ساتھ ساتھ ایک قومی مسئلہ کے طور پر متعارف کرایا اور پارلیمنٹ کے فیصلے کو کسی مذہبی مطالبہ کی منظوری کے دائرے میں رکھنے کی بجائے یہ کہہ کر اسے قوم کے تمام طبقات اور پارٹیوں کے متفقہ قومی فیصلے کی حیثیت دے دی کہ قادیانی جماعت پاکستان میں وہی پوزیشن حاصل کرنے کے درپے ہے جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ کوئی قومی فیصلہ اور پالیسی ان کے منشا کے بغیر طے نہ ہو سکے۔

میں نے عرض کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض حلقوں کا یہ احساس و ادراک جو پارٹی کے بعض راہنماؤں کی آج کی تقاریر میں مجھے نظر آیا ہے بہت خوش آئند ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو اس فیصلے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ لیکن کریڈٹ اور فخر کے بجا اظہار کے ساتھ ساتھ اس فیصلہ کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری بنتا ہے اس لیے کہ ہمارے بڑوں نے تو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا معرکہ سر کیا تھا مگر ہمیں ان کے اس فیصلے کے تحفظ کا معرکہ درپیش ہے۔ قادیانیوں نے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے، بہت سے بین الاقوامی اور قومی حلقے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں وقتاً فوقتاً سازشیں سامنے آتی رہتی ہیں جن سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے توقع رکھتا ہوں کہ جس طرح اس نے قادیانی مسئلہ کو حل کرانے اور متفقہ دستوری فیصلہ کرانے میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا، عالمی سطح پر اور قومی دائرہ میں اس فیصلہ کے تحفظ بلکہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت، ناموس رسالتؐ کے تحفظ اور دستور کی اسلامی دفعات کی بقا و نفاذ میں وہ سرگرم کردار ادا کرے گی کیونکہ یہ اس کی قومی، ملی اور جماعتی ذمہ داری بنتی ہے۔