مولانا فضل رازقؒ

   
مجلہ: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ اور انہی خوبیوں کے اجتماع کے باعث ان کی اچانک وفات ان کے معاصرین کے لیے بالخصوص بہت زیادہ رنج و الم کا سبب بنی ہے۔ مولانا فضل رازق ۱۹۴۸ء کے اواخر میں علاقہ دربند (ہزارہ) کے معروف اور ممتاز علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا قاضی عبد الخالقؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور راقم الحروف کے والد محترم شیخ الحدیث محمد سرفراز خان صفدر مدظلہم العالی کے ہم سبق تھے۔ ان کا خاندان پشت ہا پشت سے علماء کا خاندان چلا آتا ہے اور اس وقت بھی اس خاندان کے درجنوں افراد مختلف مقامات میں علمی و دینی خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔

مولانا فضل رازق نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور تعلیم کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق مدظلہم العالی سے دورۂ حدیث پڑھ کر سند فراغت سے بہرہ ور ہوئے جبکہ دورۂ تفسیر دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ سے پڑھا۔

مولانا مرحوم سے میرا تعارف اس وقت ہوا جب وہ گوجرانوالہ ضلع کے معروف قصبہ منڈھیالہ تیگہ میں مدرسہ دارالتوحید والسنہ کے صدر مدرس اور اس سے ملحقہ جامع مسجد کے خطیب کی حیثیت سے یہاں آئے۔ وہ سیاسی طور پر جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ تھے اور سچی بات یہ ہے کہ وہ ضلع گوجرانوالہ میں ہمارے انتہائی مخلص، بے لوث، پرجوش اور بے تکلف رفیق ثابت ہوئے اور اسی وجہ سے انہیں ضلعی جمعیۃ کا ناظم چن لیا گیا۔ انہوں نے ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۶ء تک ضلع گوجرانوالہ میں کام کیا، اس دوران جماعتی زندگی میں جدوجہد کے مختلف مراحل آئے اور ہر موقع پر وہ ہمارے ساتھ صفِ اول میں رہے۔

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں انہوں نے پرجوش اور متحرک کردار ادا کیا، وہ انتہائی پرجوش اور شعلہ نوا مقرر تھے، اس شعلہ نوائی کے ساتھ علمی پختگی کے امتزاج نے ان کی خطابت کو کچھ ایسا رنگ دے دیا تھا کہ منڈھیالہ تیگہ کے علاقے میں اپنے مخالفین کے حلقوں میں وہ ’’جادگر مولوی‘‘ کے نام سے یاد کیے جاتے تھے۔ تحریک ختم نبوت میں انہوں نے اپنی شعلہ نوائی کے ساتھ محاذ کو گرم رکھا اور لوگوں کو گرمایا۔

اکتوبر ۱۹۷۵ء میں جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ’’کل پاکستان نظام شریعت کنونشن‘‘ منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے پانچ ہزار کے قریب علماء کرام اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ اجتماع گوجرانوالہ کی تاریخ کے چند یادگار اجتماعات میں سے تھا۔ مولانا فضل رازق نے کنونشن کی کامیابی کے لیے شب و روز محنت کی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ مسلسل جدوجہد کے ساتھ کنونشن کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اسی کنونشن کے انعقاد کی پاداش میں مسجد نور و مدرسہ نصرۃ العلوم پر بھٹو حکومت نے انتقام کا نزلہ گرا اور صوبائی محکمہ اوقاف نے مدرسہ و مسجد دونوں کو اپنی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ مگر یہ حکم نامہ گوجرانوالہ کے زندہ دل علماء اور عوام کے نعرۂ مستانہ کا زیادہ دیر تک سامنا نہ کر سکا۔ حکومتی اقدام کے خلاف مزاحمت کی تحریک منظم ہوئی، اپریل ۱۹۷۶ء سے اکتوبر ۱۹۷۶ء تک کم و بیش چھ ماہ تک گوجرانوالہ کے درودیوار ’’تحریک واگزاریٔ مسجد نور‘‘ کے کارکنوں کے پرجوش نعروں سے گونجتے رہے۔ تین سو کے قریب علماء اور کارکنوں نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا جس کے نتیجہ میں محکمۂ اوقاف نہ صرف مسجد و مدرسہ کا چارج لینے میں ناکام رہا بلکہ اسے بعد از خرابیٔ بسیار اپنا حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ اس تحریک کو منظم کرنے اور اسے پرجوش انداز میں جاری رکھنے میں بھی مولانا فضل رازق کی صلاحیتوں، خلوص اور محنت کا خاصہ دخل رہا۔ انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی کے ہمراہ ضلع بھر کا دورہ کر کے اجتماعات سے خطاب کیا اور عوام کو تحریک کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں اس میں شریک ہونے کے لیے تیار کیا۔

۱۹۷۶ء کے آخر میں ہی مولانا فضل رازق ہری پور ہزارہ کے احباب کے پرزور اصرار پر شیرانوالہ گیٹ ہری پور کی جامع مسجد کے خطیب کی حیثیت سے وہاں منتقل ہوگئے اور مسجد کی خطابت کے ساتھ ساتھ مدرسہ تدریس القرآن کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا۔ ان کے دور میں پرانی مسجد گرا کر مسجد کی نئی اور خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی جس کی تکمیل کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اور انہی کے دور میں مدرسہ تدریس القرآن کے لیے مسجد کے ساتھ متصل جگہ حاصل کر کے مدرسہ کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہ دونوں عمارتیں ہری پور کے عوام کو ہمیشہ مولانا فضل رازق کی یاد دلاتی رہیں گی۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں انہوں نے پرجوش حصہ لیا۔ اس موقع پر ان کی قائدانہ صلاحتیں ابھر کر سامنے آئیں اور انہیں ہزارہ کے علماء اور سیاسی راہنماؤں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہوا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور خداداد صلاحیتوں اور پر خلوص جدوجہد کے نتیجے میں انہوں نے ہزارہ کی دینی و سیاسی قیادت میں اہمیت حاصل کر لی۔

۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۶ء تک مرحوم کے ساتھ میری مسلسل رفاقت حاصل رہی ہے اور اس کے بعد بھی ان سے رابطہ رہا ہے، مجھے اس امر کے اعتراف میں کوئی باک نہیں ہے کہ اس دوران اختلاف کے مواقع بہت کم ہیں اور اتنے کم کہ اگر کوئی ہیں بھی تو مجھے یاد نہیں ہیں۔ میں نے انہیں اختلاف کرنے والے اور اڑ جانے والے نہیں بلکہ ماننے والے اور مان کر چلنے والے ساتھیوں میں پایا ہے۔ البتہ آخری دنوں میں ایک ایسا موقع آیا جس نے اس یکسانیت کو متاثر کیا کہ مجھے سرحد کونسل میں ان کی شمولیت سے اختلاف تھا۔ کونسل کی رکنیت اختیار کرنے سے قبل انہوں نے مجھ سے مشورہ کیا تھا اور میں نے انہیں منع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کسی سرکاری کونسل کی رکنیت قبول کرنے کی بجائے صوبہ سرحد میں علماء کی قوت کو منظم کرنے اور صوبائی قیادت کو مستحکم کرنے میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو صرف کرنا چاہیے۔ لیکن انہوں نے علاقائی ضرورتوں اور مصلحتوں کو ترجیح دیتے ہوئے سرحد کونسل میں اپنی نامزدگی کو قبول کر لیا اور ان کا یہ فیصلہ ہمارے تعلقات کی گرم جوشی پر بھی اثر انداز ہوا۔ تاہم رائے کے اختلاف کے باوجود ان کے خلوص، نیک نیتی، حق گوئی اور بے لوثی کا احترام میرے دل میں آخر دم تک قائم رہا اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ سرحد کونسل کے اجلاسوں اور مختلف سرکاری تقریبات میں ان کی حق گوئی اور بے باکی کے متعدد واقعات نے میرے اس حسن ظن کو مجروح نہیں ہونے دیا۔

مولانا مرحوم کھلی اور بے تکلف طبیعت کے حامل اور بذلہ سنج نوجوان تھے اور موقع محل کے مطابق اپنی بات کہہ جانے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور تھے۔ ہری پور کے دوستوں کی روایت ہے کہ کچھ عرصہ قبل جنرل محمد ضیاء الحق کسی تقریب میں شرکت کے لیے ہری پور آئے، جمعۃ المبارک کا دن تھا نماز جمعہ شیرانوالہ گیٹ کی جامع مسجد میں ادا کی، اس موقع پر خطاب بھی کیا اور مسجد کے ساتھ مدرسہ تدریس القرآن کی تعمیر کے لیے چند لاکھ روپے کی رقم کا اعلان کیا۔ مولانا فضل رازق مرحوم نے تبسم زیر لب کے ساتھ صدر محترم سے سوال کیا کہ ’’جناب صدر! یہ رقم نوے دن تک مل جائے گی؟‘‘ صدر موصوف پہلے تو چونکے پھر ان کے لبوں پر روایتی مسکراہٹ پھیل گئی اور جواب دیا کہ رقم اس سے بھی پہلے مل جائے گی۔ اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ دیر قبل پشاور میں غالباً مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے موقع پر مولانا موصوف نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی موجودگی میں ان سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلامی قوانین پر عملدرآمد کی منفی صورتحال کے حوالے سے تند و تیز گفتگو کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ جب اسلام کا نفاذ آپ کے بس کی بات نہیں ہے تو اس کا نام لینا چھوڑ دیں اور اپنا کام کریں۔

بہرحال مولانا مرحوم ایک حق گو عالم تھے اور ان کی حق گوئی ہر ماحول اور سوسائٹی میں قائم رہی۔ اب وہ ہم میں نہیں ہیں اور ہم ان کے لیے صمیم قلب سے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائیں، نیکیوں کو قبول فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter