دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جون ۲۰۱۰ء

کافی عرصہ کے بعد حیدرآباد جانے کا اتفاق ہوا، متحرک جماعتی زندگی کے دور میں یہاں بہت آیا کرتا تھا۔ حضرت مولانا عبد الرؤف، حضرت مولانا عبد الحق، حاجی کرامت اللہ، حاجی شبیر احمد اور میرپور خاص کے حضرت مولانا حکیم دین محمد رحمہم اللہ سے ملاقاتیں اور جماعتی رفاقت کا ایک یادگار دور ہے جس کی یادیں کبھی کبھی دل و دماغ کے درجۂ حرارت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ اس دور کے بزرگوں میں مولانا شمس الدین اور حاجی شبیر احمد موجود ہیں اور بستر علالت پر ہیں، ان کی عیادت کا ثواب کمایا، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمان آرائیں اور مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کیں، اپنے پرانے دوست مولانا عبد المتین قریشی مرحوم کے بھائیوں سے مل کر اور ان کی دکان پر حاضری دے کر دل کو تسلی دی کہ پرانی روایات کا سلسلہ ابھی باقی ہے۔

۱۴ جون کو حیدرآباد کی معروف دینی درسگاہ جامعہ ریاض العلوم لیاقت کالونی کا سالانہ جلسہ تھا، جامعہ کے مہتمم مولانا نعیم اختر کا اصرار تھا کہ میں ضرور حاضری دوں۔ کراچی سے مولانا مفتی سید نجم الحسن امروہی بھی تشریف لائے اور جلسے سے خطاب کیا، ان سے یہ پہلی ملاقات تھی، ان کا ذوق اور محبت دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پرانے بزرگوں کی طرز ابھی قائم ہے۔ جامعہ ریاض العلوم کے سالانہ جلسۂ تقسیم اسناد میں مدارس کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور میں نے اپنی گزارشات تین سوالات کے پس منظر میں پیش کیں۔

  1. ان مدارس میں دی جانے والی تعلیم کا ہماری معاشرتی زندگی اور ہمارے مستقبل سے کیا تعلق ہے؟
  2. لاکھوں بچوں کو معنٰی و مفہوم کے بغیر حفظ قرآن کریم کروا کے طوطے کی طرح جو الفاظ رٹائے جاتے ہیں، اس کا فائدہ کیا ہے؟
  3. جب حکومت مدارس کا نظم و نسق سنبھالنے اور ان کے اخراجات سرکاری خزانے سے مہیا کرنے کے لیے تیار ہے تو دینی مدارس اس پیشکش کو قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اخراجات کی ذمہ داری سے آزاد ہو کر چندے کی جھنجھٹ سے نجات کیوں حاصل نہیں کرتے؟

ان سوالات کا بحمد اللہ تعالٰی تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا اور آخری سوال پر جو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ دینی مدارس اپنے اخراجات عوامی چندے اور اصحابِ خیر کے رضاکارانہ تعاون کے ذریعے پورے کرتے ہیں اور کسی سرکاری امداد کو قبول کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں، اس کے بنیادی طور پر تین اسباب ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

  • پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز ہی پر سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانیٔ دارالعلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے۔ چند سال قبل ایک اور مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے دینی مدرسہ کے مہتمم صاحب نے جو میرے ذاتی دوستوں میں سے ہیں، مجھ سے کہا کہ ہمارے مدارس تو زیادہ تر خلیج کے شیوخ کے تعاون سے چلتے ہیں اور اب باہر سے رقوم کی آمد میں رکاوٹیں شروع ہوگئی ہیں جس سے بہت مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے مدارس کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہمیں ایک بزرگ کی نصیحت اور تلقین فائدہ دے رہی ہے اور ہمارے ہاں اس قسم کی مشکلات اتنی زیادہ نہیں ہیں، انہوں نے تفصیل پوچھی تو میں نے اصول ہشتگانہ میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مذکورہ بالا ارشاد کا حوالہ دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ واقعی صاحبِ فراست بزرگ تھے۔
  • سرکاری امداد قبول نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس امداد کا پس منظر معلوم ہے کہ یہ کس طرف سے آرہی ہے اور کیوں آرہی ہے؟ ہمارے اپنے حکمرانوں کو تو اپنے تعلیمی بجٹ میں کبھی دینی تعلیم کا خیال تک نہیں آیا، ان کے ذریعے عالمی استعمار دینی مدارس میں رقوم تقسیم کر کے اپنی مداخلت کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے اور ہم اس چال کو بحمد اللہ تعالٰی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ہم استعمار کو جانتے ہیں اور استعمار ہمیں جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم یہ امداد کیوں قبول نہیں کر رہے اور ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ یہ رقوم ہمارے حکمرانوں کے ذریعے دینی مدارس میں کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟ ہمارا ایک دوسرے سے گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مسلسل واسطہ ہے۔ دینی مدارس نے ہمیشہ عوامی چندوں پر اور صدقہ و زکوٰۃ پر اپنا نظام چلایا ہے۔ ہمیں کسی صحیح امداد کو قبول کرنے سے انکار نہیں ہے، ہمیں بھی ہر وقت پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم عوام کے دروازوں پر شوق سے نہیں جاتے، لیکن جس امداد کا مقصد ہمیں ہمارے دینی کردار سے محروم کرنا ہو ہم اس کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتے، ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کی بقا اور ان کے موجودہ دینی و تعلیمی کردار کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ انتظامی اور مالی دونوں حوالوں سے آزاد رہیں اور کسی قسم کی سرکاری امداد یا مداخلت کو قبول نہ کریں۔
  • دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں دینے اور ان کے اخراجات کے لیے سرکاری رقوم قبول کرنے سے ہمارے انکار کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم اس تجربے سے ایک بار پہلے گزر چکے ہیں اور دوبارہ اس دام فریب کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں جب محکمہ اوقاف قائم ہوا اور آمدنی والی ہزاروں مساجد محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیں تو ان کے ساتھ بیسیوں دینی مدارس بھی محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں چلے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا انتظام علماء کرام سے بہتر چلایا جائے گا۔ اگر کوئی صاحب ہمت دوست ان مدارس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں اور اس کے لیے تحقیق کر رہے ہوں تو بہت سے ہوشربا انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔ میں مثال کے طور پر صرف دو مدرسوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ اوکاڑہ کے گول چوک کی جامع مسجد میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے ایک بڑا مدرسہ محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیا تھا جس کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس کے کمرے کرائے پر چڑھے ہوئے ہیں اور جامعہ عثمانیہ تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو چکا ہے۔ اسی طرح نیلا گنبد لاہور کی مسجد میں قائم مدرسہ رحیمیہ کی حالت زار دیکھ لی جائے کہ محکمہ اوقاف سے پہلے اس کی صورتحال کیا تھی اور اب وہ کس پوزیشن میں ہے۔ اسی دور میں محکمۂ تعلیم نے بہاولپور کی ایک بڑی دینی درسگاہ جامعہ عباسیہ کو تحویل میں لے کر اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا اور درس نظامی کے ساتھ عصری تعلیم کے امتزاج کے نام سے ایک مشترکہ نصاب متعارف کروانے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے علامہ شمس الحق افغانی، مولانا عبد الرشید نعمانی، مولانا حامد سعید کاظمی اور مولانا عبد الغفار حسن رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اکابر علماء کو وہاں تدریس کے لیے بلایا گیا تھا اور کچھ عرصہ تک مشترکہ دینی و عصری نصاب تعلیم کو چلایا گیا تھا۔ مگر آج دیکھ لیا جائے کہ اس کی پوزیشن کیا ہے اور دینی تعلیم کا کتنا حصہ اس کے نصاب میں باقی رہ گیا ہے؟

اس تلخ تجربہ کے بعد بھی اگر کوئی حلقہ دینی مدرس سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ سرکاری مداخلت یا کنٹرول کو قبول کر لیں گے تو اسے اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سال قبل ایک یورپی وفد میں شامل ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے سرکاری اہلکار اور بیوروکریٹس اس قدر کرپٹ کیوں ہیں کہ جو بھی ادارہ سرکاری تحویل میں جاتا ہے اس کی حالت دگرگوں ہو جاتی ہے؟ میں نے ان خاتون سے کہا کہ یہ سوال تو مجھے آپ سے کرنا چاہیے تھا اس لیے کہ یہ سب لوگ آپ حضرات کے شاگرد ہیں اور ان کو جو کچھ پڑھایا ہے آپ لوگوں ہی نے پڑھایا ہے۔