ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ (ملخص از جنگ کراچی ۸ جنوری ۱۹۷۸ء)

پاکستان کے بارے میں امریکہ کا رویہ باہمی دفاعی معاہدوں کے باوجود ہمیشہ محل نظر رہا ہے اور مذکورہ بالا خبر غماز ہے کہ ابھی تک امریکہ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر لیا اور وہ اسلحہ کے معاملہ میں کافی حد تک خود کفالت کی راہ پر گامزن ہے لیکن پاکستان کا فرانس سے ایٹمی پراسیسنگ پلانٹ خریدنے کا معاملہ ابھی تک امریکہ کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔ حالانکہ پاکستان بار بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی پلانٹ کو پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔

ہماری رائے میں پاکستان کو بڑی طاقتوں پر سہارا کرنے کی بجائے خود اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ کام میں لانے اور اسلامی ممالک کے تعاون سے اسلحہ کی بھاری صنعت کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی راستہ پاکستان اور عالم اسلام دونوں کے لیے عزت و وقار اور سلامتی کا واحد راستہ ہے۔