گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں اور لاہور ہائیکورٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۴ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تصدق حسین گیلانی نے فیصل آباد کے ایک نو عمر جوڑے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لو میرج کیسوں میں عدالتوں کی ہمدردیاں والدین کے ساتھ ہوتی ہیں مگر قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا ساتھ دیتا ہے، ایسی صورتحال میں عدالتیں معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے اس فعل کو روک سکتی ہیں اور نہ ایسے جوڑوں سے کوئی زبردستی کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیصل آباد کی نویں جماعت کی طالبہ سمیرا نفیس اور عامر لطیف نے گھر سے بھاگ کر ’’لو میرج‘‘ کر لی جس پر والدین نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم نے اپنی مرضی سے شادی کر لی ہے اس لیے والدین کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے چنانچہ شائستہ قیصر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اس جوڑے نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ کے اخراج اور ضمانت کی منظوری کے لیے درخواست دی جس پر فاضل عدالت نے ۲۶ مارچ تک ضمانت منظور کرتے ہوئے مندرجہ بالا ریمارکس دیے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو سامنے رکھتے ہوئے فاضل عدالت کے یہ ریمارکس ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں اس لیے کہ دستور میں ملک میں اسلامی قوانین کی عملداری کے وعدہ کے ساتھ ساتھ یہ ضمانت دی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکے گا جبکہ دستور کے مطابق قوانین کی تشریح و تعبیر ہائی کورٹس کی ذمہ داری اور استحقاق ہے۔

یہ واضح بات ہے کہ لڑکی کا گھر سے بھاگ جانا اور غیر محرم کے ساتھ گھومتے پھرنا اسلامی احکام کی رو سے جائز نہیں ہے۔ نکاح کی بات تو بعد میں ہے کہ اسے جائز قرار دیا جائے یا نہیں لیکن اس سے قبل لڑکی کا گھر سے بھاگنا اور غیر محرم لڑکے کے ساتھ کئی کئی روز آزادانہ گھومنا شرعی اور معاشرتی دونوں حوالوں سے ناقابل برداشت عمل ہے۔ لیکن ہماری اعلیٰ عدالتیں اس قسم کے کیسوں میں مسلسل یہ فیصلے صادر کرتی جا رہی ہیں کہ چونکہ بالغ لڑکی کی مرضی اس کے نکاح میں لازمی حیثیت رکھتی ہے اس لیے جو لڑکیاں گھر سے فرار ہو کر اپنی مرضی سے شادیاں کر رہی ہیں ان کو اس کا حق حاصل ہے اور اس سلسلہ میں والدین کے موقف کو ہر کیس میں بلا تامل مسترد کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ لاہور ہائی کورٹ کے محترم جج جسٹس تصدق حسین گیلانی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ قانون گھر سے بھاگنے والی لڑکی کا ساتھ دیتا ہے اس لیے وہ اس سلسلہ میں بے بس ہیں اور لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

ہم جسٹس تصدق حسین گیلانی صاحب سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کا دستور اسلامی احکام و قوانین پر عمل کی ضمانت دیتا ہے اور قوانین کی تعبیر و تشریح ہائی کورٹس کا کام ہے اس کے باوجود اگر کوئی ایسا قانون موجود ہے جو لڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کو سپورٹ کرتا ہے اور معاشرے میں شرمناک سمجھے جانے والے فعل کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے تو ایسے قانون کی موجودگی کی ذمہ داری خود ان ہائی کورٹس پر بھی عائد ہوتی ہے اس لیے ہمارے فاضل جج صاحبان کو اپنی اس ذمہ داری کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔