اچھی حکمرانی، مگر کیسے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۱۰ء

۹ فروری ۲۰۱۰ء کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے معزز جج سردار محمد رضا خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا فریضہ ہے، اس غلط نظریہ کے باعث دوسرے سبھی متعلقہ اداروں نے خود کو ہلکا پھلکا سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ’’اچھی حکمرانی‘‘ پر توجہ ہی نہیں دی جا رہی۔ روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۰ء کے اداریہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت کے تین ستون (۱) مقننہ (۲) عدلیہ اور (۳) انتظامیہ غیر مؤثر ہو جائیں اور آئین کے مطابق کام نہ کریں تو اچھی حکمرانی ناپید ہو جاتی ہے۔

ہمیں چیف جسٹس صاحب کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس کے لیے دوسرے متعلقہ اداروں کو بھی دستور کے مطابق کام کرنا ہو گا، لیکن اس حوالہ سے اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ آخر دستور کے مطابق کام کرنے کا رجحان اس قدر کمزور کیوں ہو گیا ہے کہ اس پر بار بار زور دینے کی ضرورت پڑتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی دو اہم وجوہ ہیں:

  1. ایک یہ کہ دستور پاکستان کئی بار مطلق العنان آمروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر اپنے اس تقدس کو عام آدمی کے ذہن میں برقرار نہیں رکھ سکا جو کسی ملک کے دستور کو حاصل ہونا چاہیے۔
  2. اور دوسری وجہ یہ ہے کہ دستور کی اصل روح اور اساس کو عدلیہ سمیت کسی بھی قومی ادارے کی سنجیدہ توجہ حاصل نہیں ہے۔ دستور کی اصل روح اس کی یہ نظریاتی اساس اور اسلامی شناخت ہے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست بنایا جائے گا اور وطن عزیز میں مثالی اسلامی معاشرہ کو فروغ دیا جائے گا۔ بدقسمتی سے مقننہ اور انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینے کی ابھی تک فرصت نہیں ملی جبکہ عدلیہ نے بھی دستور کی اس اساس اور روح کو اجاگر کرنے کی اہمیت و ضرورت کو محسوس نہیں کیا۔

چند ماہ قبل چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے ایک کیس میں یہ ریمارکس دیے تھے کہ ’’اچھی حکومت‘‘ کے لیے ہمیں حضرت عمرؓ کی پیروی کرنا ہو گی، ہم چیف جسٹس محترم کو ان کے اپنے یہ ریمارکس یاد دلاتے ہوئے ان سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ اچھی حکومت اگر حضرت عمرؓ سے حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے دستور کی اسلامی دفعات کو عملی طور بروئے کار لانے کے لیے عدلیہ کو سب سے زیادہ کردار ادا کرنا ہو گا اور پاکستان کو ایک نظریاتی اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے قوم کی قیادت کرنا ہو گی۔ ورنہ خالی باتوں سے نہ لوگوں کو انصاف فراہم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ’’اچھی حکومت‘‘ کی توقع کی جا سکتی ہے۔