دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۰ء

مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے۔

اس خطہ پر برطانوی استعمار کے تسلسل کے دور میں یہی صورتحال تھی اور اب امریکی استعمار کو بھی جنوبی ایشیا میں قدم جمانے کی راہ میں وہی رکاوٹیں دکھائی دے رہی ہیں بلکہ عملاً بھگتنا پڑ رہی ہیں۔ سابق صدر پاکستان صدر محمد ایوب خان مرحوم نے ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ نامی اپنی خودنوشت سوانح میں اس طبقہ کی سخت جانی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مولویوں کا یہ گروہ اس قدر سخت جان ہے کہ قیام پاکستان کے موقع پر تقسیم ہند کی مخالفت کے موقف میں علماء کے اس گروہ کو جس خوفناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے پیش نظر توقع یہ تھی کہ یہ طبقہ شاید اب کئی عشروں تک سر اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا، مگر پاکستان بننے کے صرف پانچ برس بعد یہ طبقہ تحریک ختم نبوت کے عنوان سے حکومت کے سامنے کھڑا تھا اور اس نے دوسرے طبقات کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔

مغرب کے ارباب دانش اس حقیقت کا پوری طرح ادراک رکھتے ہیں اور عالمی پریس میں اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی ہوتا رہتا ہے، حتٰی کہ مغربی ممالک جانے والے پاکستانی مسلمانوں میں سے جس شخص کا تعلق دین کے ساتھ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے، بسا اوقات ائیرپورٹس پر انکوائری کے دوران اسے اس سوال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ کیا وہ دیوبندی مسلمان تو نہیں ہے؟

اسی وجہ سے پاکستان میں دینی مدارس کو کسی نہ کسی طرح سرکاری کنٹرول میں لانے اور مختلف حوالوں سے ان کی آزادی اور تعلیمی تشخص کو ریاستی تعلیمی نظام میں تحلیل کر دینے کی پالیسیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ چنانچہ ہمارے خیال میں پاکستان میں دینی مدارس کے تمام وفاقوں کے مشترکہ وفاقی تعلیمی بورڈ کے قیام کے مبینہ پروگرام کو بھی اس پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دینی مدارس کے وفاقی تعلیمی بورڈ کے قیام کے تمام تر فوائد و منافع کے باوجود موجودہ معروضی صورتحال میں ہمارے تحفظات کم ہونے کی بجائے ان میں کچھ اضافہ ہی ہوا ہے۔

دینی مدارس اس خطہ کے مسلمانوں میں دینی شعور کو بیدار رکھنے، نئی نسل کے ایک بڑے حصے کو دینی تعلیمات کے ساتھ وابستہ رکھنے اور ان کے دلوں میں دینی اقدار و روایات کے تحفظ اور دفاع کا جذبہ اجاگر کرنے کی جو جدوجہد گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی اساس ہی ان کے جداگانہ تعلیمی تشخص، آزادانہ تعلیمی نظام و نصاب اور ان کی انتظامی و مالیاتی خود مختاری پر ہے۔ ان میں سے کوئی ایک ستون بھی خدانخواستہ کمزور ہوا تو دینی مدارس اپنا موجودہ کردار باقی نہیں رکھ سکیں گے۔ اس لیے دینی مدارس کے تمام وفاقوں بالخصوص وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت سے ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس نازک مرحلہ پر پھونک پھونک قدم رکھا جائے اور باہمی ربط و مشاورت کا ماحول قائم رکھتے ہوئے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کو دوسری ہر بات پر اولیت دیتے ہوئے اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کی جائے۔