کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۱ء

گزشتہ روز (۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء ) گوجرانوالہ کے مختلف طبقات کے سرکردہ لوگوں نے کرپشن کے خلاف ایک ’’واک‘‘ کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ سیاستدان حضرات، تاجر راہنماؤں، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان، علماء کرام و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، سرکاری افسران، صحافیوں، اساتذہ، خواتین، طلبہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس واک کا اہتمام گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے ڈی آئی جی پولیس (ویلفیئر) ذوالفقار احمد چیمہ کی سرکردگی میں کیا اور یہ حضرات پیدل مارچ کرتے ہوئے جنرل بس اسٹینڈ سے ماڈل ٹاؤن کی مکرم مسجد تک گئے، جہاں مختلف راہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں کو کرپشن سے نجات دلانے کے لیے مشترکہ جد و جہد کریں گے۔

راقم الحروف نے اس موقع پر اپنے خطاب میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر کیا کہ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ایران فتح ہوا تو جنگ سے واپس آنے والے ایک سپاہی نے حضرت عمرؓ کو فارس کے بادشاہ کے سونے کے کنگن پیش کیے، جو اس نے غنیمت کا مال حاصل کرتے ہوئے سنبھال لیے تھے اور امانت کے طور پر ان کی حفاظت کر کے انہیں امیر المؤمنین کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ حضرت عمرؓ اس سپاہی کی دیانت سے بہت متاثر ہوئے اور اپنی مجلس کے شرکاء کے سامنے اس کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ہماری فوج کے سپاہی اس قدر دیانتدار ہیں۔ اس پر محفل میں شریک ایک بزرگ نے امیر المؤمنین سے عرض کیا کہ حضرت اصل بات یہ ہے کہ آپ خود دیانتدار اور فرض شناس ہیں اس لیے آپ کی دیانت کے اثرات آپ کے ملازمین اور سپاہیوں پر بھی ہیں اور ان کی دیانت کی وجہ آپ کی دیانت ہے۔

اس لیے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مقتدر حضرات، حکمران طبقہ اور بڑے کہلانے والے لوگ کرپشن کے خاتمہ کی طرف پہل کریں، اگر حکمران دیانتدار ہوں گے تو ان کا عملہ اور حکومت کے ملازمین جس درجہ کے بھی ہوں، ان میں دیانت پیدا ہو گی اور وطن عزیز کو کرپشن سے نجات دلائی جا سکے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ’’واک ‘‘ عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ایک اچھی کوشش ہے، اس مہم کو جاری رہنا چاہیے اور علماء کرام کو خاص طور پر آگے بڑھ کر اس جد و جہد کی قیادت کرنی چاہیے۔