قومی سلامتی پالیسی اور مدارس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۴ء

دینی مدارس کے بارے میں عالمی استعمار کے ایجنڈے کا وقتاً فوقتاً حکومتی پالیسیوں کے ذریعہ اظہار ہوتا رہتا ہے اور مدارس کی کردار کشی کی مہم کے ساتھ ساتھ انہیں کسی نہ کسی طرح سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے پورے جنوبی ایشیا میں کام کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ، اسلامی عقائد و افکار کا تحفظ اور دینی اقدار و روایات کی پاسداری ہے اور وہ بحمد اللہ تعالیٰ اپنے اہداف و مقاصد میں مجموعہ طور پر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

دینی مدارس کا یہ نظام عام مسلمانوں کے رضاکارانہ تعاون سے چلتا ہے اور مخیر مسلمان ان اداروں کی مالی سرپرستی کر کے ان کے اخراجات کی کفالت کرتے ہیں۔ عالمی استعمار کو ان مدارس سے یہ شکایت ہے کہ ان کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں دین کے ساتھ وابستگی اور قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس کا ماحول قائم ہے جو استعماری مقاصد کی تکمیل بالخصوص مغربی تہذیب و ثقافت اور فکر و فلسفہ کی ترویج میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے استعماری قوتوں اور لابیوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش چلی آرہی ہے کہ مدارس کے اس نظام کو یا تو بالکل ختم کر دیا جائے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنا دیا جائے کیونکہ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں عقیدہ کی پختگی، دینی اعمال کا ماحول، اسلامی روایات کے ساتھ وابستگی اور مغرب کی اسلام دشمن تہذیب و ثقافت کے ساتھ نفرت کی موجودہ صورتحال کا باعث یہ دینی مدارس ہیں، اور ان مدارس کی آزادانہ تعلیمی پالیسی اور مالی و انتظامی خودمختاری ان کے معاشرتی کردار کی بنیاد ہے جسے سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لا کر غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

چنانچہ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے یہ آنکھ مچولی جاری ہے کہ انہیں قومی دھارے میں لانے اور علماء و طلبہ کا معاشرتی مقام بلند کرنے کے دلفریب نعرے کی آڑ میں ان کی موجودہ آزادانہ حیثیت سے محروم کر دیا جائے۔ مختلف اوقات میں مختلف حکومتوں نے اس کے لیے پالیسیاں وضع کیں اور ان پالیسیوں پر عملدرآمد کی کوشش بھی کی گئی لیکن یہ دینی مدارس کے منتظمین اور اساتذہ و طلبہ کا خلوص اور ان کے پیچھے اکابر و اسلاف کی دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ اب تک اس قسم کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ ۱۹۷۶ء میں جب محکمہ اوقاف پنجاب نے اسی پالیسی کے تحت جامع مسجد نور و مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کو سرکاری تحویل میں لینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا تو شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں نے استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدرؒ، اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی سر پرستی میں مزاحمتی تحریک چلائی تھی اور سینکڑوں علماء کرام اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور بیسیوں احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کے بعد محکمہ اوقاف اپنا یہ آرڈر واپس لینے پر مجبور ہو گیا تھا ۔ اس وقت راقم الحروف نے ایک وفد کے ہمراہ ملک کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کیں تو روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر محترم جناب نظامی صاحب نے اپنی گفتگو میں یہ فرمایا تھا کہ مولوی صاحب! آپ بہت ٹھیک کر رہے ہیں مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ ’’ٹیسٹ کیس‘‘ ہے، اگر آپ اس محاذ پر پسپا ہو گئے تو دوسرے مدارس پر سرکاری تسلط کا دروازہ کھل جائے گا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم بھی اسے ’’ٹیسٹ‘ کیس‘‘ سمجھ کر ہی ڈیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اس مہم میں کامیاب ہوئے اور دینی مدارس کے خلاف ایک بڑی سرکاری پالیسی کا راستہ رک گیا۔

اس کے بعد بھی اس قسم کی پالیسیاں سامنے آتی رہی ہیں اور دینی مدارس کے باہمی اتحاد اور حوصلہ کے ساتھ ان کا راستہ روکا ہے۔اب پھر ’’قومی سلامتی پالیسی‘‘ کے عنوان سے اسی پالیسی کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ مدارس کو ’’قومی دھارے‘‘ میں لانے کا لالچ دے کر سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لانے کا پروگرام پیش کیا گیا ہے اور اسے قومی سلامتی کا تقاضہ قرار دے کر ملکی ضرورت کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔ جبکہ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ قومی وحدت و سلامتی کے حوالہ سے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا، دینی مدارس، علماء کرام اور دینی کارکنوں نے ہمیشہ قومی خودمختاری، وحدت اور سلامتی کے لیے نہ صرف محنت کی ہے بلکہ قربانیاں دی ہیں ۔ہم مبینہ قومی سلامتی پالیسی کی تفصیلات کو موضوع بحث بنانے کی بجائے اصولی طور پر حکومت پاکستان سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ دینی مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار کی اساس ہی اس پر ہے کہ وہ سرکاری کنٹرول سے آزاد اور تعلیمی و انتظامی امور میں خودمختار ہیں، جبکہ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ انہیں اس خودمختاری سے محروم کرنا معاشرے کو دینی تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے جو کسی صورت میں قابل قبول بلکہ قابل برداشت نہیں ہو گا۔

حکومت کو اگر مدارس سے قومی سلامتی کے حوالہ سے کچھ شکایات ہیں تو دینی مدارس کے وفاقوں کے ذریعے ان کے ازالہ کی صورتیں نکالی جا سکتی ہیں۔ لیکن ان شکایات کو دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے خاتمہ کے لیے بہانہ بنانا قطعی طور پر غلط بات ہو گی اور ماضی کی طرح اب بھی عالمی استعمار کے اس ایجنڈے کو نئے انداز میں آگے لانے کی مہم میں حکمران طبقات کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔