دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس ایک بار پھر بین الاقوامی اور قومی سطح پر اعتراضات اور تنقید کے ساتھ ساتھ قومی پالیسی کے تحت بعض متوقع اہم اقدامات کا ہدف ہیں اور میڈیا اور لابنگ کے محاذ پر سیکولر لابیاں اس صورتحال کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کرنے میں پوری چابکدستی کے ساتھ مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا۔ میں نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ اچھے طالبان اور برے طالبان کا کوئی فرق باقی نہیں رہا اور ہم نے پاکستان کے اندر تمام طالبان کے خلاف آپریشن کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ اچھے طالبان اور برے طالبان کا فرق تو ختم کر دیا گیا ہے مگر اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد کا فرق قائم کر دیا گیا ہے، اس لیے کہ جب نئی پالیسی میں صرف مذہبی حوالہ سے دہشت گردی کرنے والوں کو فوجی عدالتوں میں پیش کرنے کی بات کی گئی ہے تو ان دہشت گردوں کو خودبخود استثنا مل گئی ہے جو ملک میں لسانی بنیادوں پر یا قومیتوں کے عنوان سے دہشت گردی کر رہے ہیں۔ حالانکہ دہشت گرد تنظیموں کی جو فہرست خود حکومت نے جاری کی ہے اس میں ایک درجن سے زائد ایسی دہشت گرد تنظیموں کے نام موجود ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اپنے افکار کے حوالہ سے مذہب کے مخالف کیمپ میں شمار ہوتی ہیں۔اس لیے ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ گڈ ٹیررسٹ اور بیڈ ٹیررسٹ کا یہ فرق ختم کر کے تمام دہشت گردوں کے خلاف یکساں پالیسی اختیار کی جائے اور سب کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں دینی مدارس کو بطور خاص ہدف بنائے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ دینی مدارس مجموعی طور پر ملک بھر میں مثبت اور مفید تعلیمی خدمات سر انجام دے رہے ہیں البتہ جن مدارس کے بارے میں یہ ثبوت مل جائے کہ وہ دہشت گردی کی کسی کاروائی میں ملوث ہیں ان کے خلاف ضرور کاروائی کی جائے مگر اسے سب دینی مدارس کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔ مدارس کے خلاف مسلسل جاری مہم میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کی اکثریت رجسٹرڈ نہیں ہے اور وہ قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں، حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ دینی مدارس کی غالب اکثریت ملکی قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہے اور اس کے علاوہ وفاقوں کے ساتھ بھی وابستہ ہے جو حکومتی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معروضی حقیقت ہے کہ بے شمار دینی مدارس کی رجسٹریشن کی درخواستیں متعلقہ محکموں کے میزوں پر پڑی ہیں اور سالہا سال سے ان درخواستوں کو منظور کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک بات یہ بھی قابل توجہ ہے کہ ہمارے دو سابق وزرائے داخلہ چوہدری شجاعت حسین اور عبد الرحمن ملک اور موجودہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی بار بار کہہ چکے ہیں کہ دینی مدارس کی غالب اکثریت کا دہشت گردوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور متعدد بار سرکاری طور پر انکوائری اور سروے کے باوجود دینی مدارس کے نظام اور دہشت گردی کے درمیان کسی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ اس کے بعد بھی اگر بین الاقوامی اور قومی سیکولر لابیاں دہشت گردوں کے عنوان سے دینی مدارس کے خلاف کردار کشی اور نفرت خیزی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور میڈیا کے بہت سے ذرائع اسے سپورٹ کر رہے ہیں تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔

اس موقع پر ہم دینی مدارس کے وفاقوں اور حکومت پاکستان کے درمیان ۲۰۱۰ء کے دوران ہونے والے ایک معاہدہ کا حوالہ دینا چاہیں گے جو ۷، اکتوبر ۲۰۱۰ء کو طے پایا اور اس پر دینی مدارس کے وفاقوں کی طرف سے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا عبد المالک خان، ڈاکٹر یاسین ظفر اور مولانا قاضی نیاز حسین نقوی کے دستخط ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر داخلہ اے رحمان ملک، سیکرٹری داخلہ قمر زمان چودھری اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شاہد حامد نے دستخط کیے تھے، یہ دس نکاتی معاہدہ درج ذیل ہے،

  1. اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت نے اس امر پر اتفاق کیا کہ وہ میٹرک (مساوی ثانویہ عامہ ) اور انٹرمیڈیٹ (مساوی ثانویہ خاصہ) کے نصاب میں لازمی عصری مضامین کو شامل کریں گے۔
  2. اتحاد تنظیمات مدارس کے شامل پانچوں بورڈز اپنا دینی نصاب طے کرنے میں آزاد اور خود مختار ہوں گے البتہ لازمی عصری مضامین حکومت پاکستان کے مجوزہ نصاب کے مطابق ہوں گے۔
  3. اتحاد تنظیمات مدارس کے پانچوں رکن بورڈز کو پاکستان میں قائم دیگر تعلیمی بورڈز کی طرح ایکٹ آف پارلیمنٹ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے باضابطہ قانونی حیثیت دی جائے گی۔
  4. پانچوں بورڈز کو حکومت کی جانب سے قانونی حیثیت ملنے کے بعد ان کا رابطہ وزارت تعلیم سے ہو گا۔
  5. عصری مضامین کی تعلیم اور امتحانات کے معیار میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے ہر بورڈ کی مجلس نصاب میں حکومت اپنے دو نمائندے نامزد کرے گی۔
  6. حکومت مدارس کے بارے میں کوئی بھی معلومات حاصل کرنے کے لیے ان پانچوں بورڈز سے رابطہ کرے گی، اگر حکومت کو کسی مدرسے کے خلاف شکایت ہو تو کسی بھی کاروائی سے پہلے متعلقہ بورڈ کو اعتماد میں لے گی۔
  7. کوئی مدرسہ ایسی تعلیم نہیں دے گا اور نہ ہی ایسا مواد شائع کرے گا جس سے عسکریت اور فرقہ واریت کو فروغ ملے۔ ہر مدرسہ آرڈیننس نمبر x1x مجریہ ۲۰۰۵ء ترمیم شدہ سوسائٹی ایکٹ ۱۸۶۰ کی پابندی کرے گا، لیکن اس ایکٹ کے تحت مختلف ادیان یا مسالک و مذاہب کی تقابلی تعلیم یا قرآن و سنت اور فقہ و اصول فقہ کے مضامین کی تدریس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہو گی۔
  8. معیار تعلیم، نصاب تعلیم اور امتحان میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان اور اتحاد تنظیمات مدارس کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے سے ’’ادارہ‘‘ کا قیام عمل میں آئے گا جس کی ہیئت، دائرہ کار اور نام طے کرنے کا عمل آج سے تیس دن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔
  9. پارلیمنٹ کے ایکٹ کا مسودہ اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کی مشاورت اور اتفاق رائے سے طے پائے گا اور اس میں کوئی بھی تبدیلی باہمی اتفاق رائے سے ہی کی جائے گی۔
  10. غیر ملکی طلبہ کی رجسٹریشن وزارت داخلہ کے ذریعے کی جائے گی۔

اس معاہدہ پر فریقین کے ذمہ دار حضرات نے ۷، اکتوبر ۲۰۱۰ء کو دستخط کیے تھے اور اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا مگر اس پر آج تک حکومتی سطح پر عملدرآمد نہیں ہوا، نہ سابقہ حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے اور نہ ہی موجودہ حکومت نے اس کے مطابق قانون سازی کی طرف کوئی پیشرفت کی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ مسائل جو باہمی اتفاق رائے سے طے پا گئے تھے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہا تھا، وہی امور پھر سے زیر بحث ہیں اور انہیں دینی مدارس کے خلاف کردارکشی کی منفی مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک بیان میں بجا طور پر کہا ہے کہ اس معاہدہ کی کسی بھی شق کی اگر مدارس کی طرف سے خلاف ورزی ہوئی ہے تو وہ اس پر جواب دہ ہیں لیکن اگر حکومتوں نے ہی اس پر عملدرآمد سے گریز کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس کے مطابق قانون سازی کو مسلسل ٹالا جا رہا ہے تو اس کا ملبہ دینی مدارس پر ڈال دینا صریحاً نا انصافی کی بات ہے۔

ہم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے یہ درخواست کریں گے کہ وہ اس معاہدہ کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کریں اور دینی مدارس کے خلاف میڈیا، لابنگ اور دیگر ذرائع سے جاری رکھنے والی مہم کا نوٹس لے کر انصاف کے تقاضے پورے کریں۔