برطانیہ کے نومسلم مورس عبد اللہ سے ملاقات

میں اس وقت اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ڈنز میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے گھر میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ اس سے قبل دو روز میں نے گلاسگو میں گزارے اور مختلف احباب سے ملاقات کے علاوہ دو تین اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ ۶ اپریل کی شب ڈاکٹر رضوان مجھے گلاسگو سے لے کر گھر پہنچے تو رات کے دو بج چکے تھے اور میرا پروگرام یہ تھا کہ ظہر تک کا وقت ان کے پاس گزار کر واپس گلاسگو جاؤں گا تاکہ شام نو بجے برمنگھم کے لیے فلائٹ پکڑ سکوں جس کے لیے میں نے سیٹ بک کروا رکھی تھی۔ مگر رضوان کا اصرار تھا کہ میں ایک رات ان کے ہاں اور بسر کروں چنانچہ ان کے اصرار پر میں نے پروگرام تبدیل کر دیا اور بدھ کو بذریعہ طیارہ برمنگھم جانے کی بجائے جمعرات کو بذریعہ ٹرین سفر کرنے کا ارادہ کر لیا۔ رضوان کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دنوں تیسری بچی دی ہے اور آج اس کی بڑی بچی کی سالگرہ تھی اس لیے میں نے اس کے اصرار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے کہ بچوں کی اس طرح کی خوشیوں میں شرکت کا موقع کبھی کبھی ملتا ہے اور میں نے اس موقع کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

میں نے برمنگھم سے گلاسگو اور پھر گلاسگو سے برمنگھم کا ہوائی جہاز کا دو طرفہ ٹکٹ ۸۱ پاؤنڈ میں خریدا تھا اور واپسی کے لیے جمعرات کی شام ایڈنبرا سے برمنگھم کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ ۲۸ پاؤنڈ میں مل رہا تھا مگر اس صورت میں برمنگھم میں پہلے سے طے شدہ پروگرم میں شریک نہیں ہو سکتا تھا۔ جبکہ رضوان نے میرے لیے بیروک سے برمنگھم کے لیے ٹرین کا جو ٹکٹ خریدا وہ ۷۶ پاؤنڈ میں ملا اور میرا گلاسگو سے برمنگھم کا ہوائی جہاز والا ٹکٹ ضائع ہوگیا۔ ہم پاکستان سے آنے والے جب اس قسم کے نقصان کو پاکستانی کرنسی کے حساب سے دیکھتے ہیں تو دل پریشان ہونے لگتا ہے مگر رضوان نے اسے نارمل بات قرار دیا اور اس سے مجھے رضوان فیملی کی خوشی حاصل ہونے کے ساتھ ایک فائدہ اور بھی ہوا کہ شام کو ایک نومسلم سے ملاقات ہوگئی جس کی تفصیلات آگے چل کر عرض کروں گا۔

لطیفہ کی بات یہ ہوئی کہ رضوان نے ڈرتے ڈرتے مجھ سے پوچھا کہ اس کی اہلیہ کہہ رہی ہے کہ اگر ہم بچی کی سالگرہ پر کیک کاٹ لیں تو ماموں ناراض تو نہیں ہوں گے؟ میں نے کہا کہ نہیں بیٹا ناراضگی کی کون سی بات ہے۔ اصل میں اس کا یہ خیال تھا کہ ایک غیر شرعی رسم ہونے کی وجہ سے میں اس پر غصے کا اظہار کروں گا جبکہ ایسے معاملات میں میرا موقف اور طرز عمل یہ ہے کہ اس قسم کی علاقائی اور ثقافتی رسمیں اگر دین کا حصہ نہ سمجھی جائیں اور انہیں ثواب کے ارادے سے سرانجام دینے کی بجائے محض خوشی کی علاقائی اور ثقافتی رسم کے طور پر کیا جائے تو اس پر شریعت کے منافی ہونے کا فتویٰ لگا دینا اور غیظ و غضب کا اظہار کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں کسی چیز کا غیر شرعی ہونا اور بات ہے اور شریعت کے منافی ہونا اس سے مختلف امر ہے، ہمیں ان دونوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

بہرحال میں نے بدھ کا پورا دن رضوان کے ساتھ ڈنز میں گزارا، وہ مجھے چند میل کے فاصلے پر سمندر کے کنارے لے گیا جہاں ہم تھوڑی دیر بیٹھ کر موسم کو انجوائے کرتے رہے کہ یہاں کے لوگوں کے مطابق خاصے عرصہ کے بعد اس علاقے میں اتنا صاف اور خوشگوار موسم میسر آیا ہے کہ مسلسل کئی روز سے دھوپ ہے اور درجہ حرارت ۲۲ سینٹی گریٹ تک پہنچا ہے۔ رضوان اپنے بچوں کے بارے میں بتا رہا تھا کہ گزشتہ روز وہ اس درجہ حرارت پر بھی دوپہر کے وقت گرمی کی شکایت کر رہے تھے۔ ساحل سمندر سے واپسی پر ہم ایک زرعی فارم پر رکے، وہاں ایک گھر کی طرف اشارہ کر کے رضوان نے مجھے بتایا کہ یہ مورس کا گھر ہے جو نومسلم ہے اور ڈنز کے علاقہ میں رہنے والے تین چار مسلم گھرانوں میں سے ایک گھر یہ بھی ہے۔ ہمیں دیکھ کر مورس کے بیوی بچے باہر نکل آئے اور سلام کرنے لگے۔ رضوان نے بتایا کہ وہ چھٹی کے روز بچوں سمیت اس فارم پر آجاتے ہیں اور دن کا ایک حصہ یہاں گزارتے ہیں۔ اس لیے مورس کے چھوٹے چھوٹے بچے اس سے مانوس تھے۔ اسے دیکھ کر سلام کرنے لگے اور ایک بچے نے میری طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ رضوان نے بتایا کہ یہ میرے انکل ہیں تو وہ بچہ کہنے لگے کہ ہمارے بھی انکل ہیں۔

مورس گھر میں نہیں تھے اس لیے ہم گاڑی سے نہیں اترے اور چند لمحے وہاں رک کر گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ البتہ شام کو ڈنز میں جناب محمد سعید چودھری کی رہائش گاہ پر مورس سے تفصیلی ملاقات ہوگئی۔ محمد سعید کا تعلق میاں چنوں سے ہے، ہمارے محترم بزرگ مکتبہ رشیدیہ لاہور والے مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کے رشتہ داروں میں سے ہیں اور ڈنز میں آباد ہونے والی پہلی مسلمان فیملی ان کی ہے۔ ان کے بعد مورس کا خاندان یہاں آیا پھر ڈاکٹر رضوان کی فیملی آئی اور اب ایک اور مسلمان گھرانہ آباد ہوا ہے۔ اس طرح ڈنز کے علاقے میں اس وقت چار مسلمان خاندان آباد ہیں جن کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ہاں اس طرح بے تکلفی سے آتے جاتے ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ مجھے یہ ماحول دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ شام کو رضوان مجھے محمد سعید صاحب کے گھر لے گیا جہاں مورس بھی موجود تھا۔ میں نے رضوان سے کہا کہ میں مورس کے ساتھ انٹرویو کرنا چاہتا ہوں۔ مورس پہلے تو ہچکچائے اور پھر کچھ تردد کے بعد گفتگو پر آمادہ ہوگئے اور ہماری یہ گفتگو کم و بیش دو گھنٹے تک جاری رہی جس کے دوران ہم نے کھانا بھی کھایا اور مغرب کی نماز بھی باجماعت ادا کی۔ مورس نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات و احساسات کا بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ اظہار کیا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

مورس کا پرانا نام ’’مورس بڈن‘‘ ہے اور قبول اسلام کے بعد اس کا پہلا نام مورس عبد المجید تھا جسے بعد میں اس نے تبدیل کر کے مورس عبد اللہ رکھ لیا مگر عام طور پر مورس کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔ اس کا تعلق برطانیہ کے شہر نیوکاسل سے ہے، اس کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی اس کے مزاج میں تجسس تھا اور توہمات سے اسے نفرت تھی۔ وہ کرسمس فادر اور روحوں وغیرہ کے آنے پر یقین نہیں رکھتا تھا اور اسکول کی تعلیم کے دوران بھی کثرت سے سوالات کیا کرتا تھا۔ وہ کبھی چرچ نہیں گیا اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا ہونے پر یقین رکھتا تھا۔ البتہ خدا پر اس کا یقین تھا اور اپنے طور پر خدا سے سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کیا کرتا تھا۔ غریب لوگوں سے ہمدردی تھی اور جنگ سے سخت نفرت تھی بلکہ یہ دعا کرتا تھا کہ اے خدا! دنیا میں جتنا اسلحہ بھی ہے وہ سب پگھل جائے تاکہ جنگ نہ ہو اور لوگ امن کے ساتھ رہ سکیں۔

مورس عبد اللہ نے بتایا کہ مجھے بچپن سے ہی ڈراؤنے خواب آتے تھے اور میں ہر وقت سوچ بچار کرتا رہتا تھا۔ بارہ سال کی عمر میں مجھے پختہ یقین ہوگیا کہ خدا ہے مگر بائبل پر یقین نہیں تھا اور میں مسلسل اس تلاش میں تھا کہ خدا کہاں ہے؟ میں نے ایک روز ان الفاظ میں دعا مانگی کہ اے خدا! مجھے یقین ہے کہ تو ہے مگر تجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اس لیے آج کے بعد میں ہر وہ کام کروں گا جسے میں اچھا سمجھوں گا اور ہر اس کام سے بچوں گا جسے اچھا نہیں سمجھوں گا۔ اس کے بعد میں نے بہت سے ایسے کام بھی زندگی میں کیے جنہیں میں اچھا سمجھتا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ اچھے کام نہیں تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں آرمی میں چلا گیا اور امریکہ، ڈنمارک، قبرص، فرانس، یونان، روڈس اور مصر وغیرہ میں فوجی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ اس دوران بھی حقیقت کی تلاش میں میرا تجسس جاری رہا اور میں اپنے ساتھیوں سے بحث و مباحثہ کرتا رہا۔ میں نشہ بھی کرتا تھا، شراب بھی پیتا تھا اور ہر برے سے برا کام کر گزرتا تھا حتیٰ کہ جب انتہا ہوگئی تو واپسی کا خیال پیدا ہوا۔

آرمی سے فارغ ہونے کے بعد میں بطور انجینئر مصر چلا گیا جہاں دو سال رہا اور اس دوران مصر کے انجینئر دوستوں سے مختلف معاملات پر میرے بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری رہا۔ زیادہ تر غیب لوگوں کے حالات زیر بحث آئے۔ میں انہیں یہ کہتا کہ دیکھو ہمارا مغرب کا ڈیموکریسی کا نظام کتنا اچھا ہے، تمہارے ہاں یہ نظام نہیں ہے۔ ہمارے ہاں صفائی ہے، ڈسپلن ہے، تمہارے ہاں گندگی ہے، غربت ہے اور عام لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ ہم لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور تمہاری حالت کیا ہے! اس دوران مصر میں مجھے بھنگ اور حقے کی بھی عادت ہوگئی اور اس قسم کے بحث مباحثوں میں بھی میرا جوش و خروش بڑھتا رہا۔ ایک مصری انجینئر جس کا نام فہمی تھا، مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا تھا کہ جو صورتحال تم ہمارے مسلمانوں کی دیکھ رہے ہو یہ اسلام نہیں ہے۔ اسلام تو کتابوں میں ہے اس لیے اسلام کا مطالعہ کرو۔ اسی دوران جب میں نے اسے کہا کہ ہم لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور تم لوگ ابھی تک گندگی اور غربت میں ہو تو اس نے مجھے کہا کہ چاند پر جانے اور خلاء کے جس سفر کی تم بات کر رہے ہو اس کا ذکر تو قرآن کریم نے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔ مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا کہ کیا تم قرآن کریم میں مجھے یہ بات دکھا سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں دکھا سکتا ہوں، میں نے اس پر خاموشی اختیار کر لی اور سوچنے پر مجبور ہوگیا۔

ایک دن میں اپنی رہائش گاہ کی کھڑکی سے نیچے گلی میں جھانک رہا تھا کہ ایک چھوٹی سی مسجد دکھائی دی۔ میں نے دیکھا کہ ایک ضعیف شخص آیا او راندر چلا گیا جو تھوڑی دیر کے بعد اکیلا ہی اندر سے باہر نکلا اور واپس چلا گیا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ ایک ہی آدمی ہے جس نے عبادت کی ہے، پھر کچھ دیر کے بعد اذان کی آواز سنائی دی وہ شخص آیا اور مسجد میں چلا گیا۔ میں اپنی عمارت سے اترا اور مسجد میں گیا، وہاں باہر جوتوں کا ایک ہی جوڑا پڑا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بھی جوتے اتارنے چاہئیں چنانچہ میں جوتے اتار کر مسجد کے اندر گیا تو وہ ضعیف شخص نماز پڑھ رہا تھا اور سجدے میں تھا۔ میں نے بھی اسے دیکھ کر اسی طرح سجدہ کیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتا میں مسجد سے باہر نکل آیا۔

اس کے بعد میں نے اپنے مصری انجینئر دوست سے تقاضا کیا کہ وہ مجھے خلائی سفر کا تذکرہ قرآن کریم میں دکھائے اور کوئی اچھا سا انگریزی ترجمہ قرآن کریم کا مجھے مہیا کرے۔ اس پر وہ مجھے ایک مارکیٹ میں لے گیا جو بہت خوبصورت اور سجی ہوئی دکانوں پر مشتمل تھی، اس کے درمیان میں ایک پرانی سی دکان میں ایک ضعیف شخص بیٹھا تھا، دکان کی حالت بہت خستہ تھی، کتابوں پر گرد جمی ہوئی تھی، وہاں سے میں نے قران کریم کا یوسف طلال علی والا انگلش ترجمہ خریدا اور اپنے دوست سے تقاضا کیا کہ وہ مجھے قرآن کریم کی وہ آیت دکھائے جس میں خلائی سفر کا ذکر ہے۔ وہ سمجھدار آدمی تھا اس نے کہا کہ قرآن کریم ساتھ لے جاؤ اس کا مطالعہ کرو تمہیں خود ہی وہ آیت بھی مل جائے گی۔ میں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کر دیا۔ سورۃ الفاتحہ اور اس کے بعد سورۃ البقرہ کی چالیس پچاس آیات پڑھیں، یہاں تک مجھے وہ خلائی سفر والی آیت تو نہ ملی مگر میرے دل میں یہ بات اترنے لگی کہ یہ کتاب بہرحال سچی ہے اور ہدایت کا وہ راستہ اس میں موجود ہے جس کی مجھے بچپن سے تلاش تھی۔ میں نے قرآن کریم کا مطالعہ جاری رکھا، دو سال کے مطالعہ کے بعد مجھے وہ آیت مل گئی جس میں خلائی سفر کا تذکرہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ اگر تم میرے حکم کے بغیر زمین اور آسمان کے کناروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ مگر میرے حکم کے بغیر تم ایسا نہیں کر سکو گے۔

مورس نے بتایا کہ میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کم و بیش چھ سال جاری رکھا اور اس کے ساتھ ہی میرے دل میں دنیا سے بے رغبتی بڑھنے لگی، زندگی بے مقصد نظر آنے لگی اور بے مزہ سی ہو کر رہ گئی۔ مجھے ویسٹرن طرز زندگی سے نفرت ہونے لگی مگر میری حالت یہ تھی کہ قرآن کریم پڑھ کر روتا رہتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ نشہ بھی کرتا تھا۔ ایک دن میں نیوکاسل میں اپنے گھر میں تھا کہ صبح بیدار ہوتے ہی مجھے احساس ہوا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے میں گھر سے باہر جا رہا ہوں اور پھر میں قریب ہی واقع ایک مسجد میں چلا گیا۔ اس سے قبل میں یہاں کسی مسلمان سے نہیں ملا تھا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے کلمۂ شہادت پڑھایا اور میرا نام تبدیل کر کے مورس بڈن کی بجائے مورس مجید رکھ دیا۔ اس کے بعد تبلیغی جماعت والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے مجھے دوبارہ کلمہ پڑھایا اور نام مورس عبد المجید کر دیا۔ پھر میرا کچھ عرصہ ان سے تعلق رہا اس کے بعد مختلف مقامات پر جاتا رہا اور نیوکاسل میں کتابوں کی ایک دکان ’’بیت الحکمۃ‘‘ کے نام سے میں نے کھول لی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ’’بیت الحکمۃ کا نام یہاں کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا اس لیے اس کا نام ’’ہاؤس آف وزڈم‘‘ رکھا جائے مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور میں یہ دکان کچھ عرصہ کرتا رہا۔

پھر میں نے یہ سوچ کر نیوکاسل چھوڑ دیا کہ یہاں مسلمان کم ہیں اور مسلمانوں والا ماحول نہیں ہے۔ میں بیوی بچوں سمیت بلیک برن چلا گیا اس لیے کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، بہت مسجدیں و مدرسے ہیں اور اسلامی ماحول موجود ہے، اس سے بچوں کی تعلیم بھی اچھی ہوگی۔ مگر یہ تجربہ بہت تلخ ثابت ہوا۔ میرا خیال تھا کہ دینی معلومات میں اضافہ ہوگا، ماحول اور تربیت کا فائدہ ہوگا مگر لوگوں نے مجھے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا دیا۔ مختلف گروہ تھے ہر ایک مجھے اپنی طرف کھینچنے لگا، ایک کہتا کہ نماز میں پاؤں یوں رکھو، دوسرا کہتا نہیں بلکہ اس طرح رکھو۔ ایک کہتا ہاتھ اس جگہ باندھو، دوسرا کہتا کہ یہاں نہیں بلکہ یہاں باندھو۔ ایک کہتا کہ شہادت کی انگلی ایک بار اٹھاؤ، دوسرا کہتا کہ نہیں بار بار اٹھاتے رہو۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی کہ میں اسی کے کہنے پر چلوں، کسی دوسرے کی بات مانتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ ہر شخص اپنی بات کی دلیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتا۔ حدیثوں میں اس قدر تضاد دیکھ کر مجھے ان سے نفرت ہونے لگی۔ میں لوگوں سے کہتا کہ مجھے قرآن سے سمجھاؤ وہ کہتے کہ قران کریم اس وقت تک تم نہیں سمجھ سکتے جب تک حدیث نہ پڑھو۔ اور حدیث پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ عربی سیکھو اور کئی سال مدرسے میں رہ کر دینی تعلیم حاصل کرو۔ مجھے سخت پریشانی ہونے لگی۔

مورس نے بتایا کہ میرے مزاج میں تجسس تھا اور میں سوالات بہت کرتا تھا، میرے سوالات کی کثرت دیکھ کر وہ لوگ مجھے گمراہ اور کافر کہنے لگے۔ ہر گروہ مجھے اپنی کتابیں دیتا اور حدیثیں سناتا، مجھے ان میں واضح تضاد دکھائی دیتا۔ چنانچہ سخت پریشانی کی حالت میں بلیک برن کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور میں نے طے کر لیا کہ اب ایسی جگہ جا کر رہوں گا جہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہو، اس طرح میں اسکاٹ لینڈ کے اس علاقے میں آکر آباد ہوگیا۔

مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے بلکہ وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے۔ بلکہ وہ دوسرے جن نومسلموں کو جانتا ہے ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا، سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے، وہ انہیں پکا مسلمان بنانے اور اسلام کی بنیادی باتوں کی تعلیم دینے کی بجائے پہلے حنفی، شافعی، دیوبندی، بریلوی، تبلیغی اور شیعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ سخت پریشان ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے پر کوئی مسلمان اس سے یہ تو نہیں پوچھتا کہ تمہیں مسلمان ہونے کے بعد کیا پریشانی لاحق ہوئی ہے، اپنے خاندان کے ساتھ تمہارے تعلقات کا کیا حال ہے، تمہیں کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے، کسی معاشرتی الجھن سے تو تم دوچار نہیں ہوتے ہو، اور تمہیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت تو نہیں ہے؟ نومسلم سے یہ باتیں کوئی نہیں پوچھتا البتہ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کے فرقے میں شامل ہو جائے، کسی دوسرے فرقے کی بات نہ سنے اور کسی اور کی مسجد میں نہ جائے۔ مجھے اس کا تلخ تجربہ ہوا ہے اس لیے میں نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔

مورس نے کہا کہ مجھے ایک بات سے اور پریشانی ہے کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ان کے سارے مسئلے خدا نے ہی حل کرنے ہیں، اس لیے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے قدرت کے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور ماضی کے واقعات سنا سنا کر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ فلاں موقع پر خدا نے اس طرح ان کی مدد کی تھی۔ اسی طرح بہت سے مسلمان اس انتظار میں ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور دجال ظاہر ہوگا تو اس وقت سب کچھ ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انہیں اپنی حالت بہتر بنانے کے لیے خود کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا، اس طرح انتظار میں بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انہیں اپنے حالات درست کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ مورس نے کہا کہ نومسلم کو اسلامی احکام و فرائض کے ساتھ ساتھ بعض لوگ اپنے اپنے علاقائی کلچر کا بھی پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لباس بھی ان جیسا پہنے اور وضع قطع بھی انہی کی اختیار کرے۔ اس پر اس قدر سختی کی جاتی ہے کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ حالانکہ جو باتیں اسلام میں ضروری نہیں ہیں ان کے بارے میں نومسلموں پر اس قدر سختی نہیں ہونی چاہیے اور انہیں سادہ طریقے سے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

مورس نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ مسلمانوں کی اس عمومی حالت سے پریشان ہو کر یونیورسٹی کی مسجد میں گیا کہ وہاں قدرے پڑھا لکھا ماحول ہوگا مگر وہاں بھی صورتحال ویسی ہی تھی۔ اس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کئی بار وقت لگایا جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اسے دین کی معلومات حاصل ہوں گی اور علم میں اضافہ ہوگا مگر وہاں بھی اسے تبلیغی نصاب اور کچن کی صفائی کے کاموں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس نے قرآن کریم کا سالہا سال تک مطالعہ کیا تھا اس کے حوالے سے جب وہ کوئی سوال کرتا تو اسے جواب ملتا کہ تم قرآن کریم کو کیا جانتے ہو، تمہارے پاس کیا علم ہے؟ اس سے اس کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔ ایک مسجد میں رمضان المبارک کے دوران دیکھا کہ کھانے پینے کا سامان بہت ضائع ہو رہا ہے اور کھانے کا انداز بھی مجھے اچھا نہ لگا۔ اس قسم کے مناظر دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جس اسلام کی میں تلاش میں تھا یہ وہ اسلام نہیں ہے، اس لیے میں اب مسلمانوں کی آبادی سے الگ تھلگ یہاں زندگی بسر کر رہا ہوں۔

میں نے مورس عبد اللہ سے سوال کیا کہ اسلام کی دعوت دینے والوں کو نومسلموں کے ساتھ کیا طرزعمل اختیار کرنا چاہیے، اس نے کہا کہ

  • انہیں مسائل اور اختلافات میں نہ الجھائیں اور دین کی بنیادی باتوں کی سادہ انداز میں تعلیم دیں۔
  • انسانیت کے حوالے سے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تلقین کریں۔
  • اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل اور مشکلات معلوم کریں اور انہیں حل کرنے کے لیے ان سے تعاون کریں۔
  • انہیں قرآن کریم کے حوالے سے بات سمجھانے کی کوشش کریں اور احادیث کے اختلافات سے انہیں دور رکھیں اس سے ان کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔
  • دین کے مسائل سمجھانے کے لیے ’’کامن سینس‘‘ کا زیادہ استعمال کریں۔ مثلاً یہ بات سمجھانے کے لیے کہ مونچھیں تراشنی چاہئیں، انہیں فرض یا واجب کہہ کر بات نہ کریں بلکہ انہیں اس کے فائدے بتائیں کہ مونچھ تراشنے سے انہیں یہ فائدہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
  • انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عام لوگوں کی خدمت کا ایسا نظام بنائیں جس سے لوگ مذہب کی کسی تفریق کے بغیر فائدہ اٹھا سکیں تاکہ نومسلموں کو ضرورت پڑنے پر الگ سے چیریٹی کا اہتمام نہ پڑے۔
  • اسلام کے بارے میں ان کے مطالعہ اور اسٹڈی کا احترام کریں اور انہیں اس بات کا بار بار طعنہ نہ دیں کہ تم کیا جانتے ہو، تمہیں کیا آتا ہے اور تمہارے پاس کیا علم ہے؟
  • نومسلموں کو قرآن کریم کے بتائے ہوئے اچھے کاموں کو بجا لانے کی تلقین کریں، دیانت و امانت کی اہمیت سے آگاہ کریں او رخیر کے کاموں کی طرف رغبت دلائیں۔

مورس عبد اللہ کی گفتگو جاری تھی اور اس کے لہجے کا جوش و خروش بڑھ رہا تھا، وہ کبھی کبھی خاموشی سے آسمان کی طرف سر اٹھا کر گہری سوچ میں چلا جاتا، اس کا جی اور بھی بہت سی باتیں کرنے کو چاہ رہا تھا مگر رات کا وقت تھا اور دیر ہو رہی تھی۔ مجھے صبح سفر کرنا تھا اور اس سے قبل یہ رپورٹ بھی لکھنی تھی اس لیے بادل نخواستہ گفتگو کا مزید سلسلہ روک کر معذرت کرتے ہوئے شکریہ کے ساتھ ہم وہاں سے رات گیارہ بجے کے لگ بھگ رخصت ہوگئے۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مئی ۲۰۰۸ء
اصل عنوان: 
نومسلموں سے مسلمانوں کا سلوک