یو ایم ٹی لاہور میں جمہوریت پر سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اگست ۲۰۱۹ء

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور (UMT) نے ۲۱ و ۲۲ اگست کو پاکستان میں جمہوریت کی صورتحال اور اسے درپیش مسائل و مشکلات کے حوالہ سے دو روزہ سیمینار کا اہتمام کیا جس میں ملک کے ممتاز ارباب فکر و دانش نے اظہار خیال کیا۔ مجھے ۲۱ اگست کو جس نشست میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا اس سے خطاب کرنے والوں میں جنرل (ر) محمود احمد، جسٹس (ر) خالد رانجھا، جناب اویس غنی، جناب افراسیاب خٹک اور جناب دلشاد کنور خصوصاً قابل ذکر ہیں، میری معروضات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مختلف مسائل کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جن میں جمہوری نظام میں بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی بار بار دخل اندازی، عدلیہ کا کردار، الیکشن کے نظام کی کمزوریاں، عوام میں سیاسی شعور کی کمی، برادری ازم، دھڑے بندی، سیاستدانوں کی مخصوص نفسیات اور دیگر اہم امور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ میں اس مسئلہ کے صرف ایک پہلو کے بارے میں مختصرًا کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کے جس منفرد ماڈل کو متعارف کرایا تھا اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں تحفظات ابھی تک موجود ہیں جن کا بار بار اظہار کیا جاتا ہے اور کنفیوژن کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔

جمہوریت کا متعارف مفہوم تو یہ ہے کہ:

  1. عوام کی حاکمیت ہو،
  2. پارلیمنٹ مکمل طور پر خودمختار ہو، اور
  3. حکمرانی کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہو۔

جبکہ ہم نے جس جمہوریت کی بات کی ہے اس میں:

  1. حاکمیت اعلٰی اللہ تعالٰی کی ہے،
  2. پارلیمنٹ قرآن و سنت کی پابند ہے، اور
  3. حکومت کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے۔

گویا ہم نے جمہوریت کے معروف تصور کی صرف تیسری شق کو اختیار کیا ہے اور وہ بھی ہمارے لیے غیر معروف نہیں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے جانشین کے طور پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب اسی اصول پر ہوا تھا۔ وہ نہ تو اقتدار پر طاقت کے زور سے قابض ہوئے تھے، نہ انہیں جناب نبی اکرمؐ کی طرف سے نامزد کیا گیا تھا، اور نہ ہی کسی خاندانی استحقاق پر وہ حکمران بنے تھے، بلکہ انہیں امت کی اجتماعی صوابدید اور اعتماد کی بنیاد پر حکمران چنا گیا تھا، جو آج کے دور میں جمہوری صورت کہلاتی ہے۔ جبکہ ہمارے پاس ان تینوں اصولوں کے حوالہ سے دور حاضر کی مثال بھی موجود ہے کہ دنیا کی سب سے آئیڈیل جمہوریت برطانیہ میں حاکمیت اعلٰی بادشاہ سلامت کی ہے اور برطانوی پارلیمنٹ قومی روایات کی پابند سمجھی جاتی ہے۔

اس سب کچھ کے باوجود جمہوریت کے اس ماڈل کے بارے میں، جو ہم نے دستور میں اختیار کیا ہے، بحث و تمحیص اور تحفظات کے اظہار کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پارلیمنٹ میں ایک موقع پر ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دینے کا تقاضہ کیا گیا تو یہ سوال پورے شد و مد کے ساتھ سامنے آیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند کر دیا گیا تو اس کی خودمختاری اور ساورنٹی کا معروف تصور ختم ہو جائے گا، حتٰی کہ خالص جمہوریت کے علمبردار حضرات کے نزدیک دستور کی اس طرح کی اور دفعات بھی قابل اعتراض سمجھی جاتی ہیں۔ دوسری طرف جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حکومت کا حق صرف عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے خلافت کا روایتی تصور پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور پھر جمہوریت کے کفر یا اسلام ہونے کی بحث بھی چھڑ جاتی ہے۔

یہ کنفیوژن اور تحفظات ابھی تک بہت سے حلقوں میں پائے جاتے ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔ میرے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ قدیم و جدید تصورات کے حامل حضرات یعنی ’’مسٹر‘‘ اور ’’ملا‘‘ کے درمیان مفاہمت اور اشتراک عمل کا ماحول ہم قائم نہیں کر سکے اور معاشرتی تقسیم کی جو دیوار ۱۸۵۷ء کے بعد برطانوی حکمرانوں نے اپنے نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ہمارے درمیان کھڑی کر دی تھی، ہم پاکستان بن جانے کے بعد اسے ختم نہیں کر سکے اور اسی ماحول میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات سیاسی جدوجہد اور پارلیمنٹ میں تو سیٹوں پر اکٹھے بیٹھ جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ہر شعبہ میں وہ آمنے سامنے ہیں۔ میڈیا میں، عوامی ذہن سازی و لابنگ میں، اور بین الاقوامی معاملات میں ایک دوسرے کے مقابل دکھائی دیتے ہیں جبکہ تعلیم کے میدان میں یہ تقسیم سب سے زیادہ نظر آتی ہے کیونکہ دینی و عصری تعلیم کے ایک نظم کے تحت یکساں اہتمام کی جو صورت مغل دور میں حتٰی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بھی صدیوں تک قائم رہی ہے اور اسے ۱۸۵۷ء کے بعد ختم کر دیا گیا تھا، پاکستان کا ریاستی نظام اس تقسیم کو ختم کر کے قرآن کریم، حدیث، فقہ، سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، سرکاری زبان، میڈیکل اور دیگر ضروری علوم کی مشترکہ تعلیم کا ماحول اور نظام قائم کرنے میں ابھی تک سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا، جو اس فکری خلفشار کا سب سے بڑا سبب ہے۔

اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جمہوریت کا جو منفرد ماڈل ہم نے قائد اعظمؒ کے فرمودات اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالہ سے تشکیل دیا تھا، اس کے بارے میں علمی اور فکری طور پر پوری قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے جو علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات باہمی اشتراک و مفاہمت کے ساتھ ہی کر سکتے ہیں، بالخصوص ملک میں اسلامی قوانین کے ادراک اور نفاذ کے لیے علماء کرام اور وکلاء کا باہمی اشتراک عمل اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اہم ترین تقاضہ ہے اور اس کے بغیر نفاذ شریعت کی خواہش قابل عمل نظر نہیں آتی۔ مجھے جمہوریت کے حوالہ سے بیان کیے جانے والے دیگر پہلوؤں سے انکار نہیں ہے وہ سب اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں، البتہ میں نے جمہوریت کے ایک اہم نظری اور فکری پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے اور تمام ارباب فکر و دانش سے میری گزارش ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ فرمائیں، اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔