مائیکل سکاٹ سے چند باتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۸ و ۹ اپریل ۱۹۹۹ء

فرانس کی ایک ٹیلی ویژن کمپنی کے نمائندہ مسٹر مائیکل سکاٹ ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مغرب اور عالم اسلام کی موجودہ کشمکش کے حوالہ سے اسلامی تحریکات بالخصوص جہادی قوتوں کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کی تیاری میں مصروف ہیں اور اس کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ مائیکل سکاٹ گوجرانوالہ میں میرے پاس بھی آئے اور متعلقہ امور پر دو نشستوں میں ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایک نشست میں انہوں نے میرا انٹرویو لیا تو اس کے بعد میں نے کہا کہ میں بھی ان سے کچھ سوال و جواب کرنا چاہوں گا تو وہ دوسری نشست کے لیے تیار ہوگئے۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہوئی اور چونکہ میں انگلش سے بالکل نابلد ہوں اس لیے اس کے لیے ترجمانی کا سہارا لینا پڑا۔ مائیکل سکاٹ سے بعض اہم امور پر جو گفتگو ہوئی اس کے کچھ پہلو اختصار کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

  1. عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش کے محرکات
  2. عالمی تہذیبی کشمکش میں کمی کے امکانات
  3. کوسووو کے معاملے میں امریکی کردار
  4. اسامہ بن لادن کی جدوجہد
  5. نفاذ اسلام کی اسلامی تحریکات
  6. عالمی ذرائع ابلاغ کا جانبدارانہ طرز عمل

۱- عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش کے محرکات

مغرب اور عالم اسلام کی موجودہ کشمکش کے بارے میں انہوں نے میرا نقطۂ نظر معلوم کرنا چاہا تو راقم الحروف نے عرض کیا کہ یہ کشمکش تو موجود ہے اور دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے اسباب و عوامل کے حوالہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے یہودی ذہن کارفرما ہے، اور یہودیوں نے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں اور عیسائی دنیا کی کشمکش کے تاریخی پس منظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب کی عیسائی حکومتوں اور عالم اسلام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ورنہ اس کشمکش میں اصل مفاد یہودی قوم کا ہے جبکہ عیسائی قوت اور وسائل اس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ حالانکہ یہودیوں کی بہ نسبت مسلمان اور عیسائی آپس میں زیادہ قریب ہیں جس کا ذکر قرآن کریم نے بھی کیا ہے اور ہمارے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک تیسری قوت کے خلاف مسلمانوں اور عیسائیوں کے اتحاد کی پیش گوئی کی ہوئی ہے۔

اس لیے ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مغرب اور عالم اسلام کی موجودہ کشمکش یہودیوں کی پیدا کردہ ہے۔ اور اگر مغرب کے مسیحی دانشوروں تک میرا یہ پیغام پہنچ سکے تو ان سے میری گزارش ہے کہ وہ اس سازش کو پہچانیں اور مسیحی دنیا کی قوت اور وسائل کو یہودیوں کے حق میں استعمال ہونے سے روکیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ان سے گفت و شنید، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ بلکہ میں نے چند سال قبل امریکہ اور برطانیہ کے دو ذمہ دار مسیحی مذہبی راہنماؤں سے براہ راست اس مسئلہ پر گفتگو کی کہ انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات سے ایک سازش کے تحت باغی کیا گیا ہے جس کا نتیجہ حلال و حرام کے تصور سے آزاد سوسائٹی کی صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ شراب، بدکاری اور حرام خوری کی آزادی نے خاندانی سسٹم کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرہ کے ذہنی سکون کو غارت کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے انسانی معاشرہ کو آسمانی تعلیمات کے دائرہ میں واپس لانے کے لیے مسلمانوں اور مسیحی امت کے مذہبی راہنماؤں کو مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔

یہودیوں کے کردار کے حوالہ سے مائیکل سکاٹ نے کہا کہ اس معاملہ میں اہل مغرب کی سوچ کا انداز مختلف ہے۔ اور آپ لوگ یعنی مسلمان یہودیوں کو جس نظر سے دیکھتے ہیں ہم اہل مغرب انہیں اس طرح نہیں دیکھتے۔ بلکہ ہم انہیں مظلوم سمجھتے ہیں اور مغرب کا عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ یہودیوں پر صدیوں تک جو مظالم ہوتے رہے ہیں اس کے ردعمل میں یہودیوں کی موجودہ صورتحال ایک ’’تحفظاتی کیفیت‘‘ ہے۔ اور جب ہم یہودی قوم کے موجودہ حالات کو ان پر صدیوں سے ہونے والے مظالم کے پس منظر میں دیکھتے ہیں تو لازماً ان کے بارے میں ہماری سوچ مسلمانوں کے تاثرات سے مختلف ہوتی ہے۔

میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ یہ بات درست ہے کہ یہودیوں پر صدیوں تک مظالم ڈھائے گئے ہیں اور انہیں مصائب و مشکلات کے ایک طویل دور سے گزرنا پڑا ہے۔ لیکن یہ مظالم ہم مسلمانوں نے تو نہیں ڈھائے۔ ابتدائی دور کے ایک دو واقعات کے علاوہ مسلمانوں کی چودہ سو سال کی تاریخ میں کسی ایک واقعہ کی نشاندہی کر دی جائے کہ یہودی بحیثیت قوم کسی مسلمان حکومت یا قوم کے مظالم کا نشانہ بنے ہوں۔ یہ مظالم بھی تو ان پر مسیحی حکومتوں نے کیے ہیں اور یہودی صدیوں تک جس قتل عام اور اذیتوں کا نشانہ بنے ہیں وہ سب کچھ مسیحی حکومتوں اور قوموں کا کیا دھرا ہے۔ ماضی قریب میں یہودیوں کا قتل عام جرمن کی نازی حکومت نے کیا جو کہ عیسائی تھے۔ اس لیے اس بات کی کیا منطق ہے کہ عیسائیوں کے ظلم و تشدد کا صدیوں تک شکار رہنے کے بعد یہودیوں نے انہی عیسائیوں سے اتحاد کر لیا ہے؟ اور یہ اتحاد مسلمانوں کے خلاف ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی مسلمانوں سے ان کا علاقہ چھین کر وہاں یہودی سلطنت قائم کی گئی، عربوں کو تہس نہس کر دیا گیا، خلیج پر بزور شمشیر قبضہ کر لیا گیا اور پورے عالم اسلام کو سیاسی و اقتصادی طور پر جکڑ کر بے بس کر دیا گیا ہے۔ اگر یہودیوں کی موجودہ صورتحال ان پر صدیوں سے ہونے والے مظالم کا ردعمل ہے تو یہ ردعمل ظلم کرنے والوں کے خلاف کیوں ظاہر نہیں ہوا، اس کا نشانہ مسلمان ہی کیوں ہیں؟

مائیکل سکاٹ نے کہا کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا ہے؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہودیوں کے بارے میں مغرب والوں کی سوچ کا انداز مسلمانوں سے مختلف ہے اور وہ انہیں ایک مظلوم قوم سمجھتے ہیں جو صدیوں کی مظلومیت کے بعد اب سنبھل رہی ہے۔

۲- عالمی تہذیبی کشمکش میں کمی کے امکانات

مائیکل سکاٹ نے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں اس کشمکش میں اضافہ ہوگا یا اسے کم کرنے کا کوئی امکان بھی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ کشمکش دن بدن بڑھے گی اور اس میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مغرب کی مسیحی قوتوں کو ابھی تک اس کا احساس نہیں ہو رہا کہ ایک قوت انہیں استعمال کر رہی ہے اور انہیں عالم اسلام کے سامنے صف آرا کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر کوئی ایسا فورم موجود نہیں ہے جو اس کشمکش کو کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ایک اقوام متحدہ ہے لیکن وہ اس کشمکش میں غیرجانبدار نہیں بلکہ عالم اسلام کے خلاف خود فریق ہے۔

اقوام متحدہ کا اپنا تنظیمی ڈھانچہ اس قدر غیر متوازن ہے کہ عالم اسلام کو کسی بھی درجہ میں اس سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہو سکتی۔ عالم اسلام کو سلامتی کونسل کی ایک بھی مستقل نشست حاصل نہیں ہے، ویٹو پاور حاصل نہیں ہے، اور اقوام متحدہ کی پالیسی سازی میں کوئی مؤثر حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس لیے مغرب اور عالم اسلام کی موجودہ کشمکش میں اقوام متحدہ سے کسی مؤثر کردار کی توقع کرنا فضول ہوگا۔ ہاں اگر اقوام متحدہ کی ازسرنو تنظیم کر کے اس کے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں، معروضی حالات کے مطابق عالم اسلام کو اس میں پوری نمائندگی دی جائے، سلامتی کونسل کی مستقل نشستیں مسلم ممالک کے لیے بھی مخصوص کی جائیں، انہیں بھی ویٹو پاور حاصل ہو، پالیسی کی تشکیل اور کنٹرول میں انہیں مؤثر حیثیت حاصل ہو، اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر نظرثانی کر کے اس میں اسلامی عقائد و روایات اور کلچر کا بھی لحاظ رکھا جائے تو پھر شاید یہ ممکن ہو کہ اقوام متحدہ مغرب اور عالم اسلام کی کشمکش کو کم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکے۔

۳- کوسووو کے معاملے میں امریکی کردار

مائیکل سکاٹ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کوسووو کے مسئلہ پر امریکہ نے سربوں کے خلاف جو سخت رویہ اختیار کیا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میرا جواب یہ تھا کہ بوسنیا کے مسئلہ پر امریکہ اور مغرب کو اپنے جانبدارانہ رویہ کے حوالہ سے دنیا بھر میں جس رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، امریکہ اب اسے ’’بیلنس‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کوسووو میں سربوں کے خلاف سخت رویہ اپنا کر خود کو غیرجانبدار شو کرنا چاہتا ہے۔ لیکن عالم اسلام اتنا بے وقوف نہیں ہے اور پورے عالم اسلام کے بارے میں امریکہ کے مجموعی طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جزوی مسئلہ اس کے بارے میں مسلمانوں کے تاثرات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکے گا۔ مائیکل سکاٹ نے میری بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ اس کے ساتھ ایک اور بات کو بھی شامل کر لیں کہ سرب اور مشرقی یورپ کے دیگر عیسائی آرتھوڈکس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور روس بھی سربوں کی حمایت اس وجہ سے کر رہا ہے کہ روسی عیسائی بھی آرتھوڈکس فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے مسیحیوں کا تعلق رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں سے ہے اور آرتھوڈکس کے ساتھ ان کی صدیوں سے مخاصمت چلی آرہی ہے۔

اس پر میں نے سوال کیا کہ کیا پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک عیسائیوں کی بہ نسبت آرتھوڈکس عیسائیوں میں مسلمانوں کے خلاف زیادہ نفرت اور تعصب کی وجہ یہ تو نہیں کہ انہیں مشرقی یورپ میں ترکی کی خلافت عثمانیہ سے صدیوں تک سابقہ درپیش رہا ہے اور ان کے بہت سے علاقے ایک عرصہ تک خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رہے ہیں اور اس وجہ سے وہ مشرقی یورپ میں مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ مائیکل سکاٹ نے کہا کہ یہ بات درست ہے لیکن رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مسیحیوں کے جذبات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں کیونکہ بوسنیا کے مسئلہ پر مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر کردار فرانس کے صدر متراں نے ادا کیا تھا اور اب بھی امریکہ کو سربوں کے خلاف یورپی حکومتوں کی بھرپور حمایت حاصل نہیں ہے۔

۴- اسامہ بن لادن کی جدوجہد

مائیکل سکاٹ نے الشیخ اسامہ بن لادن کے بارے میں دریافت کیا کہ مغرب میں اسامہ کو ’’دہشت گرد‘‘ سمجھا جاتا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہمارے نزدیک اسامہ ’’فریڈم فائٹر‘‘ ہے اور آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس لیے ہماری تمام تر ہمدردیاں اور دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مغرب نے فلسطینیوں سے ان کا علاقہ چھین کر سازش اور جبر کے ساتھ وہاں یہودی سلطنت قائم کی ہے اور اس کو مسلسل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی دربدر پھر رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ خلیج میں شخصی حکومتوں اور بادشاہتوں کو تحفظ مہیا کر کے امریکہ اور اس کے حواری اس خطہ کے عوام کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے مسلسل محروم رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور مغربی حکومتوں نے عراق اور کویت کا تنازعہ سازش کے تحت کھڑا کر کے اس بہانے خلیج پر فوجی قبضہ کر لیا ہے اور عربوں کے تیل اور سرمائے کا وحشیانہ استحصال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اس جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کے خلاف آواز بلند کرنے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا کوئی اور معروف طریقہ عربوں کے پاس موجود نہیں ہے۔

اس لیے آزادی و خود مختاری کے حصول اور ناروا مغربی مداخلت کے خاتمہ کے لیے عرب نوجوانوں کے پاس ایک ہی طریقہ باقی رہ گیا ہے جو ’’اسامہ بن لادن‘‘ نے اختیار کیا ہے۔ یہ کوئی نیا اور انوکھا طریقہ نہیں ہے بلکہ نوآبادیاتی سسٹم کے خلاف آزادی کے مجاہدوں نے دنیا کے ہر خطے میں ہمیشہ آخری چارہ کار کے طور پر یہی طریقہ اپنایا ہے اور استعماری حملہ آوروں کو شکست دی ہے۔ اس لیے ہم اسامہ بن لادن کو اس طرز عمل میں مجبور اور حق بجانب سمجھتے ہیں اور اس کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔

مائیکل سکاٹ نے سوال کیا کہ عام پاکستانیوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ پاکستانیوں کو عربوں سے محبت ہے، حرمین شریفین سے عقیدت ہے اور یہودیوں سے نفرت ہے۔ وہ اسرائیل کے قیام اور خلیج میں امریکی فوجوں کی موجودگی کو ظلم سمجھتے ہیں اور خود پاکستان بھی اپنے قیام کے بعد سے اسی نوعیت کی امریکی مداخلت کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس لیے عام پاکستانی بھی اسامہ بن لادن سے محبت کرتے ہیں اور اسے خود اپنے ہی جذبات کا ترجمان سمجھتے ہیں۔

مسٹر مائیکل سکاٹ کا کہنا ہے کہ وہ بوسنیا کی جنگ کے دوران وہاں گئے تو انہیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ بہت سے نوجوان مختلف علاقوں سے وہاں آکر لڑائی میں شریک تھے جن کا اس خطہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن وہ بوسنیائی مسلمانوں کے شانہ بشانہ اس معرکہ میں سربوں کے خلاف لڑ رہے تھے اور شہید ہو رہے تھے۔ انہوں نے ایک برطانوی نوجوان کو دیکھا جس کی شادی ایک بوسنیائی خاتون سے ہوئی تھی، وہ وہاں مجاہد کی حیثیت سے جنگ میں شریک ہے۔ اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ دوسرے کئی علاقوں میں جا کر جہاد میں شریک ہو چکا ہے جن علاقوں کے ساتھ اس کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مائیکل سکاٹ کہتے ہیں کہ میرے ذہن نے سوچا کہ آخر وہ کون سا لنک اور تعلق ہے جو دنیا کے مختلف خطوں کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے علاقوں میں جا کر لڑنے پر مجبور کر رہا ہے؟ اور وہ یہی رشتہ معلوم کرنے کے لیے مختلف ممالک میں گھوم پھر رہے ہیں۔

۵- نفاذ اسلام کی اسلامی تحریکات

مائیکل سکاٹ کا ایک سوال عالم اسلام کی اسلامی تحریکات اور ان کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی تھا۔ میں نے گزارش کی کہ کم و بیش سبھی مسلم ممالک میں اسلامی تحریکات موجود ہیں جو مروجہ نو آبادیاتی سسٹم کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کے درمیان دینی اور نظریاتی رشتہ موجود ہے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھے اور ایک دوسرے سے ملے بغیر بھی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ، حمایت کرتے ہیں، اور جہاں موقع ملتا ہے تعاون سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان سب کا مقصد اور منزل ایک ہی ہے البتہ طریق کار مختلف ہے کہ ہر ملک کی تحریک نے اپنے معروضی حالات کے مطابق مناسب طریق کار اختیار کر رکھا ہے۔ جہاں ریاستی جبر زیادہ نہیں ہے وہاں نسبتاً کھلی فضا میں کام ہو رہا ہے اور جہاں ریاستی جبر میں تشدد ہے وہاں اس کے جواب میں بھی شدت کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ مثلاً پاکستان میں اسلامی تحریکات کو ریاستی جبر کا کچھ زیادہ نشانہ نہیں بننا پڑا اس لیے یہاں نفاذ اسلام کی جدوجہد کھلی فضا اور جمہوری ذرائع سے آگے بڑھ رہی ہے۔ مگر الجزائر میں جمہوری ذرائع سے آگے آنے والی اسلامی تحریک کو عسکری جبر اور فوجی تشدد کے ذریعہ دبانے کی کوشش کی گئی تو جواب میں بھی تشدد ابھرا جو کہ ایک فطری رد عمل ہے۔ خدانخواستہ پاکستان میں بھی اگر فوج کو اسلامی قوتوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جیسا کہ عالمی استعمار کے ایجنڈے میں شامل ہے، تو اس کا ردعمل بھی اسی طرح ہوگا۔

راقم الحروف نے مائیکل سکاٹ سے سوال کیا کہ مغرب میں رہنے والوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی تحریکات آگے بڑھ رہی ہیں، ان کی قوت اور باہمی ربط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس سوچ کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ زندگی کے اجتماعی معاملات سے مذہب کی لاتعلقی نقصان کا باعث بنی ہے، اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی تعلیمات کی طرف واپس جانا چاہیے اور اپنے اجتماعی نظام اور سوسائٹی سسٹم کو ان کی ہدایات کے تابع کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اسلامی تحریکات کا بنیادی فلسفہ یہی ہے اور وہ اسی کو لے کر مسلسل پیش رفت کر رہی ہیں۔

مائیکل سکاٹ نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ تصور موجود نہیں ہے اور ہم ریاستی اور حکومتی معاملات میں مذہب کے تعلق کو درست نہیں سمجھتے۔ لیکن ہم کسی مذہب کے خلاف بھی نہیں ہیں اور مذہب کو کسی بھی شخص کا ذاتی اور انفرادی معاملہ تصور کرتے ہیں۔

۶- عالمی ذرائع ابلاغ کا جانبدارانہ طرز عمل

راقم الحروف نے مائیکل سکاٹ سے عالمی ذرائع ابلاغ کے طرز عمل کے بارے میں دریافت کیا کہ ان کا رویہ اس قدر جانبدارانہ کیوں ہے؟ مائیکل نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عالمی ذرائع ابلاغ اور گلوبل میڈیا میں مسلمانوں، بالخصوص اسلامی تحریکات کو جائز مقام حاصل نہیں ہے اور ان کا نقطۂ نظر صحیح طور پر سامنے نہیں آرہا جس کی وجہ سے ’’کمیونیکیشن گیپ‘‘ پیدا ہوگیا ہے اور غلط فہمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مائیکل نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ ابلاغ کے جو عالمی ذرائع درست ’’پکچر‘‘ اور ’’معروضی صورتحال‘‘ پیش کرنے کے دعوے دار ہیں وہ بھی حالات کی تصویر کو ایک خاص زاویے سے دکھاتے ہیں اور عالمی حالات کی منظر کشی میں ان کی اپنی ترجیحات کا خاصا دخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسلامی تحریکات کے بارے میں صحیح صورتحال اور ان کا اپنا موقف سامنے نہیں آپاتا۔ مائیکل سکاٹ نے کہا کہ وہ اس کے اسباب کے بارے میں تو کوئی وضاحت نہیں کر پائیں گے، البتہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ عالمی ذرائع ابلاغ سے مسلمانوں اور اسلامی تحریکات کا موقف بھی خود ان کی اپنی زبان میں سامنے آنا چاہیے تاکہ ان کے بارے میں رائے قائم کرنے والے کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اپنی دستاویزی فلم میں اس بات کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اسلامی تحریکات کے راہنماؤں اور جہادی تحریکوں کے قائدین کا نقطۂ نظر خود ان کی زبان میں سامنے لائیں تاکہ تصویر کا یہ رخ بھی دنیا کے سامنے صحیح طور پر آجائے۔

خدا کرے کہ مسٹر مائیکل سکاٹ اپنے اس وعدہ کی پاسداری کر سکیں ورنہ وہ پہلے ’’مائیکل سکاٹ‘‘ نہیں ہیں، ان سے پہلے بھی بیسیوں ’’مائیکل سکاٹ‘‘ یہاں آچکے ہیں اور اسی طرح کی باتوں سے ہمارا دل بہلاتے رہے ہیں مگر جب واپس اپنے ڈیسک پر پہنچے تو ’’مائیکل سکاٹ‘‘ ہی ثابت ہوئے۔