انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کیپ ٹاؤن

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ نومبر ۲۰۰۸ء

میں اس وقت جنوبی افریقہ کے ساحلی شہر کیپ ٹاؤن میں ہوں جو جنوب میں دنیا کا آخری شہر کہلاتا ہے، سٹی کے کنارے پر ایک ہوٹل میں ہمارا قیام ہے اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حسب معمول چائے کا کپ پی کر قلم کاغذ سنبھالے یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ میں پاکستان سے علماء کرام کے ایک وفد کے ساتھ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو جوہانسبرگ حاضر ہوا تھا جہاں سے جمعہ کی صبح ہم کیپ ٹاؤن پہنچے۔ وفد میں علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے علاوہ ملت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مولانا مفتی شاہد محمود اور مولانا راشد فاروقی بھی شامل ہیں۔

لاہور سے جب ہم کراچی کے لیے طیارے پر سوار ہوئے تو ایک پرانی یاد ذہن میں تازہ ہوگئی۔ ۱۹۸۵ء کے دوران لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں حاضری کے لیے مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور راقم الحروف ہم سفر تھے اور اس کے ۲۳ برس بعد کیپ ٹاؤن میں ختم نبوت کانفرنس کے سفر میں ان دونوں بزرگوں کے فرزند مولانا زاہد محمود قاسمی اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی میرے ساتھ شریک سفر ہیں۔ زندگی کے بعض واقعات میں ایسی مطابقت ہوتی ہے کہ اسے محض اتفاق قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے لندن کا پہلا سفر جولائی ۱۹۸۵ء میں ختم نبوت کی جدوجہد کے حوالے سے کیا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں امریکہ کا پہلا سفر بھی اسی مقصد کے لیے ہوا تھا کہ ان دنوں امریکہ کے ایوانِ بالا میں قادیانیوں کی حمایت میں زور و شور سے لابنگ ہو رہی تھی اور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دستوری فیصلے کو منسوخ کرانے کے لیے امریکہ کی سرکاری پالیسی پر بحث جاری تھی۔ ہمارے مخدوم زادہ مولانا میاں محمد اجمل قادری نے مجھے تیار کیا کہ ہم دونوں امریکہ چلتے ہیں اور اس لابنگ میں پاکستان کے دینی حلقوں کے موقف کی ان حلقوں تک رسائی کے لیے کوئی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ویزے اور ٹکٹ وغیرہ کے سارے مراحل محترم میاں صاحب نے ہی طے کیے تھے۔ ہم وہاں ٌپہنچے لیکن وہ کچھ نہ کر سکے جس کے لیے ہم نے یہ سفر طے کیا تھا البتہ مجھے یہ سعادت حاصل ہوگئی کہ بروکلین نیویارک کی مکی مسجد میں تقریباً ایک ہفتہ تک روزانہ عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانیت کے حوالے سے درس دیتا رہا۔

اب میرا جنوبی افریقہ کا پہلا سفر ہے تو اس کا مقصد بھی ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونا ہے۔ یہ کانفرنس جو ’’سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے کیپ ٹاؤن کے سٹی کونسل ہال میں منعقد ہو رہی ہے اس کا اہتمام انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشیل کونسل کے تعاون و اشتراک سے کیا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کی تعطیلات کے دوران انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی نے مکہ مکرمہ سے فون پر مجھ سے رابطہ کیا اور کانفرنس کے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے تقاضا کیا کہ میں اس میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ مدرسہ میں اسباق کا آغاز ہو چکا ہے اس لیے اگر ضروری ہو تو صرف دو چار دن کے لیے حاضری کا پروگرام بنا سکوں گا اس سے زیادہ وقت شاید نہ دے سکوں۔ چنانچہ پروگرام بن گیا لیکن سیٹوں وغیرہ کی ایڈجسٹمنٹ نے سفر کا دورانیہ تقریباً ایک عشرے تک پھیلا ہی دیا کہ ۲۹ اکتوبر کو سفر کا آغاز ہوا ہے اور ۷ نومبر کے جمعہ کے لیے گوجرانوالہ واپس پہنچ پاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

علامہ خالد محمود صاحب کی سربراہی میں ہم لاہور سے روانہ ہوئے، رات کراچی میں قیام کیا، جمعرات کو امارات ایئرلائنز کے ذریعے دبئی پہنچے اور جنوبی افریقہ کے وقت کے مطابق رات نو بجے کے لگ بھگ، جبکہ پاکستان میں اس وقت بارہ بجے رات کا عمل ہوگا، ہم جوہانسبرگ پہنچ گئے۔ رات خانقاہ خلیلیہ مکیہ میں قیام ہوا اور جمعۃ المبارک کو صبح کی فلائٹ پر سوار ہو کر نو بجے کے لگ بھگ کیپ ٹاؤن میں حاضری ہوئی۔ لاہور سے کیپ ٹاؤن تک ہمارا فضائی سفر مجموعی طور پر ۱۴ گھنٹے کے لگ بھگ تھا۔ مسلم جوڈیشیل کونسل جنوبی افریقہ نے، جو ہماری میزبان ہے، کیپ ٹاؤن کے علاقہ ٹیبل ماؤنٹ کے دامن میں سمندر کے کنارے ایک ہوٹل میں ہمارے قیام کا اہتمام کر رکھا ہے۔ اس وقت جب میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں بائیں جانب تا حدِ نظر سمندر ہی سمندر نظر آرہا ہے، میرے ہاتھ میں قلم ہے اور ذہن قدرت باری تعالیٰ کی ان فیاضیوں اور مہربانیوں کے حیرت کدے میں گم ہے کہ اب سے صرف پچاس دن قبل یعنی رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کے دوران میں اسی سمندر کے دوسرے کنارے پر واقع نیویارک میں بروکلین کی مکی مسجد کے خطیب حافظ محمد صابر صاحب کی رہائش گاہ میں بیٹھا امریکہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں وہ رپورٹ مرتب کر رہا تھا جو میں نے پاکستان کے مختلف دینی اداروں، جماعتوں اور شخصیات کو بھجوائی ہے۔ اور اب اسی سمندر کے دوسرے کنارے پر واقع کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہوں، کل کانفرنس کی تیسری نشست سے میں نے خطاب کیا ہے اور آج کانفرنس کی رپورٹ اور اس کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کر رہا ہوں۔

کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت سے جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے ناظم اعلیٰ مولانا سید محمد شاہد، برطانیہ سے مولانا محمد لقمان میرپوری، علامہ ڈاکٹر خالد محمود کے فرزند انجینئر طارق محمود، اور آسٹریلیا سے ہمارے پرانے دوست مولانا سید محمد اسد اللہ طارق گیلانی جو وہاں امام طارق سید کے نام سے معروف ہیں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ جبکہ جنوبی افریقہ کے بہت سے سرکردہ علماء کرام اس میں شریک ہیں جن کی تفصیل اگلے کسی کالم میں عرض کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ہمارے وفد کے ارکان نے جمعۃ المبارک کے موقع پر کیپ ٹاؤن کی مختلف مساجد میں اجتماعات سے خطاب کیا جبکہ میں نے مسجد السلام میں نماز جمعہ ادا کی جہاں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مولانا عبد الحفیظ مکی نے خطبۂ جمعہ دیا اور اس سے قبل اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی اہمیت، افریقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں اور اس سلسلہ میں دینی جماعتوں اور افراد کی بیداری اور تیاری کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

مغرب کے بعد کانفرنس کا افتتاحی سیشن ہوا جس کے مہمان خصوصی جنوبی افریقہ کی مسلم کمیونٹی کے ممتاز راہنما جناب ابراہیم رسول تھے جو کیپ ٹاؤن کے گورنر رہ چکے ہیں اور اب جمہوریہ جنوبی افریقہ کے صدر کے مشیرِ خاص ہیں۔ اس نشست میں مختلف طبقات کے سرکردہ حضرات کی شرکت نے اسے کیپ ٹاؤن کے مسلمانوں کا نمائندہ اجتماع بنا دیا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک جمہوریہ انڈونیشیا کے قونصل جنرل اور سعودی عرب کے سابق سفیر الشیخ عبد خبیر نے بھی شرکت کی۔ جناب ابراہیم رسول نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عقیدۂ ختم نبوت اور دین کے دیگر بنیادی عقائد کا تحفظ اور نئی نسل کے ایمان کو بچانے کے لیے جدوجہد ضروری ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اب سے ایک صدی پہلے کے ماحول کے دائرہ میں کام کرنے کی بجائے آج کے بین الاقوامی تناظر اور عالمی ماحول کو سامنے رکھ کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ آج کا عالمی ماحول انسانی حقوق کے فروغ، مذاہب کے درمیان مکالمہ و مفاہمت اور گلوبلائزیشن کا ماحول ہے۔ اس ماحول اور تناظر کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر ہی ہم آج کی دنیا کو اپنا موقف سمجھا سکیں گے۔ ہم اپنے عقائد اور دین کی بنیادوں سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہو سکتے لیکن اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کے لیے وقت کی ضروریات اور زمانے کے اسلوب سے آگاہی اور اس کے مطابق تیاری ناگزیر ہے۔ اور وہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر علماء کرام کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ دین کی بات کو ایک صدی پہلے کے ماحول کی بجائے آج کے ماحول کو سامنے رکھ کر کریں بلکہ اگلی صدی کے امکانات کو بھی سامنے رکھیں۔

جنوبی افریقہ میں علماء کی تنظیموں کے مشترکہ فورم ’’علماء اتحاد کونسل‘‘ کے سربراہ الشیخ ابراہیم جبریل نے کانفرنس کے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ مولانا عبد الحفیظ مکی نے کانفرنس کے مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا، مسلم جوڈیشیل کونسل کے راہنما الشیخ امین فقیر نے افریقی ممالک میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے حوالہ سے بات کی اور کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الخالق نے جو جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فضلاء میں سے ہیں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ کانفرنس کی افتتاحی نشست کا آغاز باقاعدہ دعا سے ہوا اور ہمیں بتایا گیا کہ یہاں دینی اجتماعات کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ شخصیت پروگرام کی کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے جس میں تمام شرکاء شریک ہوتے ہیں اور پھر پروگرام شروع کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خطیبِ پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی یاد آگئے جو آزادی کی جنگ میں مجلس احرار اسلام کے شعلہ نوا خطیب تھے اور تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر رہے ہیں۔ ہم نے انہیں دیکھا کہ وہ جلسہ میں اپنے خطاب کا آغاز دعا سے کیا کرتے تھے، پہلے اجتماعی دعا کراتے اور پھر تقریر شروع کرتے۔ ان کے بعد یہ معمول ہم نے جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عبد الحکیم کا دیکھا، وہ بھی تقریر سے پہلے دعا کراتے تھے۔ بلکہ اس سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی ہوا کہ جامعہ مخزن العلوم خانپور کے ایک جلسہ میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور مولانا عبد الحکیمؒ کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ ترتیب میں مولانا عبد الحکیم صاحب کا نمبر آخر میں رکھا گیا تھا لیکن جب ہماری تقریروں کے بعد مولانا عبد الحکیم نے آخری خطاب کا آغاز کیا اور شروع میں دعا کرا دی تو لوگ یہ سمجھے کہ جلسہ ختم ہوگیا ہے اور ان بزرگ نے صرف دعا ہی کرانا تھی۔ چنانچہ دعا ختم ہوتے ہی لوگ جوتیاں اٹھا کر چل دیے اور مولانا عبد الحکیم صاحب لوگوں کو دوبارہ بٹھانے کے لیے بڑی مشکل سے یہ باور کرا سکے کہ انہوں نے دعا جلسہ کے اختتام کے لیے نہیں بلکہ خطاب کے آغاز کے لیے مانگی ہے۔

کیپ ٹاؤن کی تین روزہ سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کی ابتدائی رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش ہے، باقی تفصیلات بھی ان شاء اللہ تعالیٰ پیش کی جاتی رہیں گی۔