جنرل پرویز مشرف کے بارے میں قادیانیوں کی خوش فہمی

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ مئی ۲۰۰۲ء

مرزا طاہر احمد اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی صورت میں انہیں ایک ایسا حکمران میسر آگیا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کے حوالہ سے اپنے عزائم کی تکمیل کر سکیں گے، اسی لیے مرزا طاہر احمد اور ان کے ساتھ قادیانی جماعت مختلف دائروں میں پہلے سے زیادہ متحرک اور سر گرم دکھائی دے رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مذہبی دہشت گردوں کے خلاف مہم کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں امریکہ اور اس کی قیادت میں عالمی اتحاد کی سرگرمیوں کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس سے سیکولر حلقوں اور قادیانیوں کو یہ امید ہونے لگی ہے کہ پاکستان کے بارے میں ان کے ایجنڈے کی طرف عملی پیشرفت کا وقت آ گیا ہے۔ مرزا طاہر احمد کا ایجنڈا یہ ہے کہ:

  1. پاکستان کے دستور میں بھٹو حکومت کے دور میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ نے کیا تھا وہ ختم ہو جائے،
  2. اور اسی دستوری فیصلے پر عملدرآمد کے ناگزیر تقاضے پورے کرنے کے لیے ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کی صورت میں قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی اصطلاحات و علامات کے استعمال سے روکنے کا جو قانون نافذ کیا گیا تھا` وہ منسوخ کر دیا جائے۔

مرزا طاہر احمد نے ان دو فیصلوں کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور گزشتہ اٹھارہ برس سے لندن میں بیٹھ کر بین الاقوامی لابیوں اور مغربی حکومتوں کو مسلسل لابنگ کے ذریعے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لے تیار کیا ہے۔ مرزا طاہر احمد کی قیادت میں قادیانی جماعت نے پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے جمہوری اور دستوری فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور اسی مقصد کے لیے:

  • قادیانی جماعت نے جداگانہ بنیادوں پر ہونے والے عام انتخابات کا مسلسل بائیکاٹ کیا ہے کہ جداگانہ الیکشن میں حصہ لینے کی صورت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت عملاً قبول کرنا پڑتی ہے۔
  • شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کی قادیانیوں نے اسی وجہ سے مخالفت کی تھی اور اس کے لیے انہوں نے بین الاقوامی لابیوں کے ذریعہ پاکستان کی مسیحی اقلیت کو شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافے کے خلاف متحرک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
  • جب کہ ووٹروں کی فہرست بھی قادیانیوں نے اب تک اپنے ناموں کا اندراج صرف اس لیے نہیں کرایا کہ مسلم ووٹروں کے خانے میں اندراج کے لیے ووٹر کو عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ پر کرنا پڑتا ہے، جس میں قادیانیوں کے لیے خود کو مسلمانوں میں شامل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مرزا طاہر احمد نے بین الاقوامی سیکولر لابیوں اور مغربی حکومتوں کے ان رجحانات سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے جو پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے خلاف پہلے دن سے واضح طور پر موجود ہیں۔ کیونکہ مغربی حلقوں کے نزدیک پاکستان کے دستور میں:

  1. اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلق کو تسلیم کرنے،
  2. اسلام کو ریاست کا دستوری مذہب قرار دینے،
  3. اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کی ضمانت دینے کی دستوری دفعات کے ساتھ ساتھ،
  4. قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ

بھی ”بنیاد پرستی“ کی علامت ہے، اور مغربی حلقے اس کے خلاف نہ صرف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ پاکستان پر اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔ مرزا طاہر احمد کا خیال ہے کہ جداگانہ الیکشن ختم کر کے مخلوط الیکشن کا اعلان ان کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف پہلا قدم ہے کیونکہ اس صورت میں وہ عملی طور پر مسلمانوں سے الگ حیثیت اختیار کیے بغیر انتخابات میں شریک ہو سکیں گے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ بھی ان کے لیے مفید ثابت ہوا ہے کہ نئے انتظامات کے تحت شناختی کارڈ کے فارم اور مسلم ووٹروں کی فہرست میں نام شامل کرنے کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ حلف نامہ بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں دستوری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان فارموں میں شامل کیا گیا تھا جب کہ مخلوط انتخابات کا نظام رائج تھا۔ لیکن جداگانہ الیکشن کا طریق کار ختم کرنے کی آڑ میں یہ حلف نامہ بھی ختم کر دیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کی فہرستوں میں قادیانیوں کے اندراج کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے۔

مخلوط نظام انتخابات کے اعلان اور شناختی کارڈ کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کو ختم کرنے کے بعد سابق صدر جناب محمد رفیق تارڑ کے اس انکشاف کو بھی سامنے رکھ لیا جائے تو مرزا طاہر احمد کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف ہونے والی پیشرفت کا تسلسل مزید واضح ہو جاتا ہے کہ مرزا طاہر احمد نے بعض پاکستانی شخصیات کو چند ماہ قبل ہی لندن میں تارڑ صاحب کی صدارتی منصب سے برطرفی کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ تارڑ صاحب کے ماضی کے دور کی وابستگی اور اس محاذ پر ان کی خدمات کے پس منظر میں ایوان صدر میں ان کی موجودگی کو ان کے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ تصور کیا گیا اور اس رکاوٹ کو دور کرنا ضروری سمجھا گیا۔

قادیانی جماعت ان واقعات اور اقدامات کے حوالے سے خوش دکھائی دیتی ہے اور گزشتہ دو برس سے مرزا طاہر احمد کے خطبات و بیانات کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ وہ صورتحال میں اس تبدیلی کو اپنی کاوشوں کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک کے دینی حلقوں کی تشویش و اضطراب میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب آف کندیاں شریف کی قیادت میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ازسرنو متحرک ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مرکزی مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس آج ہفتہ کو چار بجے دن دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت اسٹریٹ نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں منعقد ہوا اور اس کے لیے تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا اللہ وسایا مسلسل سرگرم عمل ہیں۔

لیکن میں اس سے ہٹ کر ایک اور حوالہ سے قادیانیوں کی اس خوش فہمی کا جائزہ لینا چاہتا ہوں کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، اس سے قبل مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ایک سیکولر سیاستدان اور سوشلسٹ لیڈر تصور کرتے ہوئے قادیانیوں نے ان سے یہ امید وابستہ کر لی تھی کہ وہ پاکستان کے دینی حلقوں کے مسلسل دباؤ کے خلاف قادیانیوں کے مفاد کا تحفظ کریں گے اور ان کے عزائم کی تکمیل میں معاون ہوں گے، مگر مرحوم بھٹو کی تمام تر روشن خیالی اور لبرل خیالات کے باوجود قادیانیوں کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی تھی اور مختلف مواقع پر بھٹو مرحوم کے ساتھ بھرپور تعاون کے باوجود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے دستوری فیصلے کا سامنا بھٹو کے دور حکومت میں ہی کرنا پڑا تھا۔ اس سلسلہ میں بھٹو مرحوم کے اپنے خیالات کیا تھے؟ اس کے لیے میں ان کی زندگی کے آخری ایام میں جیل میں قید کے دوران ان کے تاثرات و جذبات کا حوالہ دینا چاہوں گا جو ان کی نگرانی پر مامور کرنل (ر) رفیع الدین نے کتاب ”بھٹو کے آخری ۳۲۳ دن“ میں ان الفاظ میں نقل کیے ہیں کہ:

’’احمدیہ مسئلہ! یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ایک دفعہ کہنے لگے ”رفیع یہ لوگ چاہتے تھے کہ میں ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دوں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے یعنی ہماری پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ “ ایک بار انہوں نے کہا کہ ”قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟“ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ ”کرنل رفیع کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میری موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کوٹھڑی میں پڑا ہوں؟“ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ’’ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد ﷺ کو آخری پیغمبر ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں“ پھر کہنے لگے ”میں تو بڑا گناہگار ہوں اور کیا معلوم کل یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف فرما دے“۔ میں بھٹو صاحب کی ان باتوں سے پہلے یہ اندازہ لگایا کرتا تھا کہ شاید ان کو گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہیں تھا لیکن اس دن مجھے احساس ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ‘‘

کرنل رفیع الدین کی ان باتوں سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھٹو مرحوم کا یہ فیصلہ صرف مسلمانوں کے دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ان کے داخلی دینی جذبات اور حب نبیؐ کا آئینہ دار بھی تھا۔ اس لیے مجھے مرزا طاہر احمد اور ان کی جماعت کی اس خوش فہمی پر حیرت ہو رہی ہے جو انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے وابستہ کر رکھی ہے، حالانکہ جس دن بھٹو کی طرح جنرل پرویز مشرف کے اندر کا مسلمان جاگ اٹھا تو قادیانیوں اور ان کی سرپرست بین الاقوامی لابیوں کی ساری منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ جائے گی۔