انسانی حقوق اور پاپائے روم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۷ء

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی پیشوا پاپائے روم پوپ بینڈیکٹ شانز دہم نے اسقاط حمل کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے انسانی حقوق میں شمار نہ کیا جائے۔ نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے ۱۳ تا ۱۹ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ پاپائے روم نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف یورپ کے سفارتکاروں اور نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسقاط حمل یکسر ناقابل قبول ہے اور اسے انسانی حقوق نہ سمجھا جائے، انہوں نے یورپی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ شرح پیدائش میں اضافہ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور اپنے ممالک کو بچوں سے محبت کرنے والی سرزمین میں ڈھالیں۔

انسانی حقوق کے لیے مختلف حوالوں سے عالمی سطح پر جو مہم اس وقت جاری ہے اس میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ تمام ممالک عورتوں کو اسقاط حمل کا غیر مشروط حق دلانے کا اہتمام کریں اور اس سلسلہ میں قانونی رکاوٹوں کو دور کریں۔ اس کی بنیاد دو باتوں پر ہے:

  1. ایک یہ کہ حمل کی حفاظت کرنا اور اسے ضائع ہونے سے بچانا عورت کے آزادانہ جنسی تعلق کے حق میں رکاوٹ ہے۔ کیونکہ مغرب میں عورت کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ اگر کسی بھی مرد کے ساتھ جنسی تعلق پر راضی ہے تو ایسا جنسی تعلق جرم نہیں ہے، البتہ اس کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کیا جائے تو یہ جرم ہے۔ چنانچہ مغربی عورتوں کی ایک بڑی تعداد یہ حق مانگ رہی ہے کہ انہیں اسقاط حمل کا غیر مشروط حق دلایا جائے تاکہ وہ حمل اور بچے کی ولادت کے خطرے سے نجات حاصل کر سکیں، جسے مسلم علماء کرام کے ساتھ ساتھ پاپائے روم بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اسے انسانی جان کا قتل قرار دیتے ہیں۔
  2. جبکہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسانی آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ہر عورت کو مانع حمل ادویات کے استعمال یا حمل ہوجانے کی صورت میں اسقاط حمل کا حق ملنا چاہیے، جس کے لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے علاوہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والی خواتین کی متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں نے بھی مطالبہ کیا ہے۔ مگر پاپائے روم نے اسے بھی مسترد کر دیا ہے اور یورپ کے لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی آبادی میں اضافے کو روکنے کی بجائے شرح پیدائش میں اضافے کے لیے کام کریں۔

ہم پاپائے روم کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ان سب امور کا مدار ایک اور بات پر ہے کہ سوسائٹی میں ’’زنا‘‘ کے عمل کی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کے اسباب کو، جن میں عورت مرد کا آزادانہ اختلاط سب سے بڑا سبب ہے، روکنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاتی ہیں؟ کیونکہ اگر سوسائٹی میں عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط کو قبول کر لیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں رضا مندی کے زنا کو بھی سند جواز دے دی گئی ہے تو پھر مانع حمل ادویات اور اسقاط حمل کا حق اس کے منطقی تقاضوں کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، اور اسباب کو جائز کا درجہ دے کر ان کے نتائج کو مسترد کرنے کے طرز عمل میں معقولیت تلاش کرنا مشکل نظر آنے لگتا ہے۔

اسلام نے اس کے لیے سادہ اور فطری طریقہ اختیار کیا ہے کہ ان دواعی اور اسباب کی حوصلہ شکنی کی جائے جو زنا کا ذریعہ بنتے ہیں جبکہ اسلام سے پہلے بائبل کی تعلیمات بھی اسی نوعیت کی ہیں۔ اس لیے پاپائے روم سے گزارش ہے کہ وہ مغربی سوسائٹی کے مذہب سے اجتماعی انحراف کی طرف توجہ دیں کہ تمام خرابیوں کی اصل جڑ وہی ہے۔

درجہ بندی: