ڈنمارک کی عدالت کا افسوسناک فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۸ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ جو ن ۲۰۰۸ء کے مطابق ڈنمارک کی اپیل کورٹ نے ڈنیش اخبار ’’جیلینڈر پوسٹن‘‘ میں جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت کے حوالہ سے مسلمانوں کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایک ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف رٹ دائر کی گئی تھی کہ نبی کریمؐ کے ۱۲ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کوئی قابل اعتراض (نعوذ باللہ) عمل نہیں ہے۔ اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کی کاروائیاں کی جا رہی ہیں اور ڈنمارک کے قانون میں اس کی ممانعت نہیں ہے کہ ایسی کاروائیوں کا مضحکہ نہ اڑایا جائے۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ ان کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف ڈنمارک کے مسلمانوں کے سات گروہوں نے مارچ ۲۰۰۸ء میں عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن ماتحت عدالت نے ان کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلمان اپیل کورٹ میں گئے اور اس نے بھی ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا ہے۔ مسلمان گروہوں کے ترجمان محمد نعیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس فیصلے پر شدید صدمہ ہوا ہے، یہ فیصلہ اگرچہ خلاف توقع نہیں ہے لیکن انتہائی افسوسناک ہے، اس لیے کہ ڈنمارک کی عدالت نے انصاف کے معروف تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر صرف مغربی نفسیات کے زیر اثر یہ فیصلہ صادر کر دیا ہے، کیونکہ کہ اگر اس عدالت کے بقول بعض مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کی کاروائیاں ہو بھی رہی ہیں تو اس سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کا کیا تعلق ہے کہ انہیں (نعوذ باللہ) تضحیک کا نشانہ بنایا جائے اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کا کیا قصور ہے کہ ان کے جذبات کو مجروح کیا جائے؟

بعض مسلمانوں کی جن کاروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے وہ خود مغرب کی جانبدارانہ اور معاندانہ کاروائیوں کا ردعمل ہیں۔ یہ عمل اور ردعمل موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ہے اور اس کی بنیاد پر جناب نبی اکرمؐ کو نشانۂ تضحیک بنانا مغرب کی مخصوص اسلام دشمن نفسیات ہی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ البتہ ہمارے نزدیک اس میں مسلم حکومتوں اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کی غیر ذمہ دارانہ روش اور مجرمانہ تغافل کا بھی دخل ہے کہ ان کی طرف سے عالمی سطح پر توہین رسالت کے حوالہ سے مسلمانوں کا موقف پیش کرنے اور ان کے جذبات کی صحیح طور پر ترجمانی کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا اور صرف رسمی بیانات اور قراردادوں پر قناعت کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مغرب کے مخصوص عناصر کو اپنے اسلام دشمن ایجنڈے میں پیشرفت کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔

درجہ بندی: