آغا خان تعلیمی بورڈ اور حکومتی وضاحتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۵ء

آغا خان تعلیمی بورڈ کے بارے میں حکومتی وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان وضاحتوں سے مسئلہ صاف ہونے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے ۔کچھ عرصہ قبل حکومت نے آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ کو ایک پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کے طور پر منظور کیا اور یہ خبریں منظر عام پر آنے لگیں کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو آغا خان بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی اسکیم زیرغور ہے۔ اور ایک مرحلہ پر یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی کہ اسلام آباد کے وفاقی ثانوی تعلیمی بورڈ کو آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے سوال پر وفاقی بورڈ کے ارکان میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے اور خود وفاقی وزیرتعلیم نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر اب وفاقی وزیرتعلیم یہ کہہ رہے ہیں کہ آغا خان بورڈ کو امتحانی بورڈ قرار دیا گیا ہے جس کے ساتھ سرکاری بورڈوں کا الحاق نہیں ہوگا بلکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو اس کے ساتھ منسلک ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیرتعلیم کا یہ کہنا ہے کہ مذہبی جماعتیں اس سلسلہ میں بلاوجہ شور مچا رہی رہیں اور ان کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہم نے اس سلسلہ میں ابتدا میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ملک کے دینی حلقوں کو آغا خان بورڈ کے ساتھ ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کے الحاق پر دو وجہ سے اعتراض ہے:

  1. ایک اس لیے کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نصاب و نظام کی ’’اصلاح‘‘ کے لیے امریکہ نے آغا خان فاؤنڈیشن کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کیا ہے اور اسے اس مقصد کے لیے خطیر رقم دی ہے کہ وہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق پاکستان کے تعلیمی نظام و نصاب میں تبدیلیاں لائے۔ روزنامہ جنگ لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق آغا خان فاؤنڈیشن کے سربراہ شمس الحق لاکھانی نے تازہ ترین انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے آغا خان بورڈ کے قیام کے لیے چار ملین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے دینی حلقوں اور محب وطن شہریوں میں اس بات پر تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ اس طرح آغا خان بورڈ کے ذریعے ملک کے تعلیمی نظام کا کنٹرول امریکہ کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
  2. دینی حلقوں کی تشویش کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خود آغا خان بورڈ پاکستان کے عوامی حلقوں کے لیے محل نظر ہے۔ اس لیے کہ آغا خانی فرقہ ملک کی ایک چھوٹی سی مذہبی اقلیت ہے جس کے عقائد و نظریات ملک کی غالب اکثریت کے عقائد سے متصادم ہیں۔ اور ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر پاکستان کے تعلیمی معاملات کو کسی ایسی اقلیت کے حوالے کرنے کا دستوری، شرعی یا اخلاقی کسی حیثیت سے کوئی جواز نہیں ہے۔

ہمارے خیال میں وفاقی وزیرتعلیم یہ کہہ کر معاملہ کو ہلکا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف ایک پرائیویٹ تعلیمی بورڈ ہے جس کا سرکاری نظام تعلیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی تشویش بے جا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دینی حلقوں کا اس سلسلہ میں احتجاج بالکل درست ہے اور حکومت کو اس حوالہ سے عوامی جذبات اور دستوری تقاضوں کا احترام کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیرتعلیم سے ہماری گزارش ہے کہ اگر بات صرف پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کی ہی ہے تو اسی طرح کے پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کے طور پر دینی مدارس کے وفاقوں کو منظور کرنے میں کیا رکاوٹ ہے جنہوں نے مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کے بورڈوں کو پرائیویٹ امتحانی بورڈ کے طور پر منظور کیا جائے۔ کیا حکومت اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے دینی مدارس کے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟

درجہ بندی: