عقلی مصالح کی بنیاد پر منصوص احکام میں اجتہاد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۷ء

(محمد عمار خان ناصر کے مقالہ ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ کے تقدمہ کے طور پر لکھا گیا۔)

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر و نواہی اور قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام و فرائض کا عقل و مصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں:

  • ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے اور بس! اس سے زیادہ ان میں غور و خوض کرنا اور ان میں مصلحت و معقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے۔
  • جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل و مصلحت پر ہے اور عقل و مصلحت ہی کے حوالے سے یہ واجب العمل ہیں۔ شریعت ان میں سے کسی کام کی اصل حاکم نہیں ہے، بلکہ اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ وہ اعمال کے حسن و قبح سے انسانوں کو آگاہ کر دے، اس لیے کسی عمل کے حسن و قبح تک رسائی ہوگی تو وہ وجوب، جواز یا حرمت کا درجہ اختیار کرے گا، اور حسن و قبح تک رسائی نہیں ہوگی تو اسے حکم کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔

حضرت شاہ صاحبؒ نے ان دونوں گروہوں کے موقف کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اصل بات ان دونوں کے درمیان ہے کہ شریعت کا کوئی حکم عقل و مصلحت کے خلاف نہیں ہے، لیکن چونکہ تمام انسانوں کی عقل یکساں نہیں ہے اور ہر شخص کا عقل و فہم کی ہر بات تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے قرآن و سنت کے احکام و قوانین کا مدار انسانی عقل و فہم اور اس کی سمجھ کے دائرے میں آنے والی حکمت و مصلحت پر نہیں ہے بلکہ صرف امر الٰہی پر ہے، اور وہ اسی لیے واجب العمل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حکم دیا ہے۔

ہمارے خیال میں اسے اگر ایک اور زاویہ سے بھی دیکھ لیا جائے تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی کہ:

  • کسی چیز یا عمل کے حسن و قبح کے ادراک اور اس تک رسائی کا ایک ذریعہ انسانی عقل و فہم ہے، اس کا دائرہ الگ ہے۔
  • جبکہ کسی چیز یا عمل کے حسن و قبح کے تعین کا اصل ذریعہ اللہ تعالیٰ کا علم اور حکمت ہے، اس کا دائرہ یقینا پہلے دائرے سے مختلف ہے۔

اگر ہم ان دونوں دائروں کے درمیان فرق کو سامنے رکھ لیں تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہے گا کہ انسانی عقل و فہم کا دائرہ بہت ہی محدود بلکہ محدود تر ہے، اور یہ دعویٰ کرنا اس کے بس کی بات ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی حکمت اور اس میں موجود ہر مصلحت کو سمجھ سکتا ہے اور اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات تو قطعی طور پر درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں ہے، کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے اور حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا، البتہ یہ بات ہمیشہ سے محل نظر چلی آ رہی ہے اور ہمیشہ محل نظر رہے گی کہ انسانی عقل و دانش اللہ تعالیٰ کے کسی حکم اور فیصلے کی حکمت و مصلحت کا کس حد تک ادراک کر سکتی ہے۔ اور جب یہ بات انسانی عقل و فہم کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے اور حکم کی ہر مصلحت و حکمت تک حتمی رسائی حاصل کر سکے تو احکام خداوندی کو انسانی عقل و دانش کے دائرے میں محدود کرنا اور محدود عقل و فہم کو احکام شرعیہ کا مدار قرار دینا کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں قرار پا سکتا۔

اس مسئلہ کو ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے اس پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ چلو انسانوں کے عقل و فہم کا دائرہ اور سطح مختلف ہونے کے باعث شخصی عقل کو تو مدار قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن عقل عام اور اجتماعی عقل چونکہ انسانی عقل کے تمام دائروں اور سطحوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور ان سب کی جامع ہوتی ہے، اس لیے عقل عام (Common Sense) کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اشیا و اعمال کے حسن و قبح اور مقصد و مصلحت کا تعین کرے اور اس کے فیصلے کو حتمی مان لیا جائے۔ لیکن یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہے، اس لیے کہ عقل عام کا دائرہ زمان و مکان دونوں حوالوں سے ہمیشہ مختلف رہا ہے اور ہمیشہ مختلف رہے گا، کیونکہ عقل عام مشاہدات، محسوسات، تجربات، مفادات، ضروریات اور معقولات کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے جبکہ ان میں سے کوئی چیز بھی کبھی ایک حالت میں نہیں رہتی۔ اور اگر ان امور کے زمانی و مکانی تغیرات کو احکام شریعت کے تعین میں دخیل اور معیار قرار دے دیا جائے تو پوری نسل انسانی کے لیے ایک عالمگیر اور ابدی دین کا تصور ہی عنقا ہو جائے گا اور بات پھر علاقائی اور محدود وقتی مذاہب کی طرف واپس لوٹ جائے گی۔

اس عقل عام کی کارستانیوں کا مشاہدہ ہم گزشتہ دو صدیوں کے دوران مغرب میں کر چکے ہیں جہاں انسانی خواہشات کی سان پر چڑھ کر اس عقل عام نے زنا، عریانی، سود اور ہم جنس پرستی جیسی لعنتوں کو بھی جواز کا درجہ دے دیا ہے بلکہ انہیں انسانی حقوق کے زمرے میں شمار کر لیا ہے۔ ہمارے خیال میں احکام شرعیہ کا مدار مقاصد و مصالح کو قرار دے کر مقاصد و مصالح کے بدلتے ہوئے معیارات کی بنیاد پر قرآن و سنت کے منصوص احکام میں تغیر و تبدل کے راستے تلاش کرنے کی موجودہ کوششوں کو مغرب کے اس فکری و تہذیبی انقلاب سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کیونکہ اگرچہ اس کے لیے اصطلاح ’’اجتہاد‘‘ ہی کی استعمال کی جاتی ہے لیکن اس کے اہداف و مقاصد کا رشتہ ’’اجتہاد‘‘ کے بجائے تشکیل نو (Reconstruction) سے جا ملتا ہے، جو اسلام کی بجائے مغرب کی اصطلاح ہے اور مارٹن لوتھر کے فکری اور تہذیبی انقلاب کا کرشمہ ہے جس کے خوفناک نتائج سے آج خود مغرب بھی حیران و پریشان ہو کر رہ گیا ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے صریح احکام میں تغیر و تبدل کے لیے مقاصد و مصالح، عقل عام اور انسانی فہم و دانش کو واحد اور حتمی معیار اور مدار قرار دے کر ان کی تشکیل نو کے تصور کو نہ عقلی طور پر قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسلام کا چودہ سو سالہ اجماعی تعامل اور قرآن و سنت کے طے شدہ اصول اس کی اجازت دیتے ہیں۔

البتہ قرآن و سنت کے بیان کردہ صریح احکام و قوانین کو ابدی اور غیر متبدل تسلیم کر لینے اور ان کی قطعیت و ابدیت پر مکمل ایمان کے بعد ان کے اطلاق و نفاذ اور تطبیق کے حوالے سے زمانے کے تغیرات، ضروریات کے تنوع اور احوال کے اختلاف کا لحاظ رکھنا اس سے مختلف امر ہے، اور اس کی گنجائش ہر زمانے میں موجود رہی ہے۔ ہماری رائے میں پہلی بات کا تعلق تشکیل نو سے ہے جبکہ دوسری بات کا تعلق اجتہاد سے ہے۔ اور اسلام اجتہاد اور تجدید کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ مسلّمہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی ترغیب دیتا ہے اور اس پر اجر و ثواب بھی بیان کرتا ہے، مگر وہ اسلام کی تشکیل نو کے تصور کو مسترد کرتا ہے اور اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ہماری رائے میں اجتہاد کے ضروری تقاضوں کی طرف پیشرفت کے حوالے سے مسلمانوں کے روایتی دینی حلقوں کی حد درجہ بلکہ ضرورت سے زیادہ احتیاط کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اجتہاد اور تشکیل نو کو خلط ملط کر دیا گیا ہے۔ اور اجتہاد کے نام پر پورے اسلام کی تشکیل نو کا حق مانگا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات اجتہاد کے دائرے کے امور کو بھی تشکیل نو کا تقاضا سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے اور ان معاملات میں عجیب نوعیت کا کنفیوژن پیدا ہو گیا ہے۔

عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک سیمینار میں پڑھے جانے والے زیر نظر مقالہ میں مسئلہ کے ان دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور انتہائی عرق ریزی اور نکتہ رسی کے ساتھ اس کے مختلف زاویوں کو اہل علم کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ مجھے مقالہ کے دونوں پہلوؤں سے اصولی طور پر اتفاق ہے کہ:

  1. مقاصد و مصالح کے معیارات تبدیل ہو جانے کی بنیاد پر قرآن و سنت کے صریح احکام میں تغیر و تبدل کا کوئی جواز نہیں ہے، اور
  2. جو امور اجتہاد کے دائرے میں آتے ہیں اور جن مسائل و معاملات میں احوال و زمانہ کے تغیرات کا مجتہدین کے ہاں ہمیشہ لحاظ رکھا جاتا رہا ہے، ان میں قطعی جمود کی موجودہ صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے، بلکہ اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت آج بھی موجود ہے بلکہ زمانے کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ البتہ اس مقالہ کی تمام جزئیات اور ترجیحات سے اتفاق ضروری نہیں ہے اور ہر علمی بحث و مباحثہ کی طرح اس کے مختلف پہلوؤں پر بھی مزید بحث، اختلاف اور نقد کی گنجائش موجود ہے۔

مجھے امید ہے کہ یہ مقالہ اس موضوع پر علمی بحث کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا اور ارباب علم و دانش کی سنجیدہ توجہ عزیز مقالہ نگار کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ثابت ہوگی۔

درجہ بندی: