’’اصول فقہ‘‘ پر شریعہ اکیڈمی کا خط و کتابت کورس

   
مجلہ: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
۲ مئی ۲۰۰۶ء

۲ مئی ۲۰۰۶ء کو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جو یونیورسٹی کے ایک شعبہ ’’شریعہ اکیڈمی‘‘ کی طرف سے اصول فقہ کے ’’خط و کتابت کورس‘‘ کے اجرا پر افتتاحی تقریب کے طور پر منعقد ہوا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس محترم جسٹس ناظم حسین صدیقی تھے، جبکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے تقریب کی صدارت کی، یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمود احمد غازی کے علاوہ ملک کے معروف قانون دان سید افضل حیدر اور راقم الحروف نے خطاب کیا، اور شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی نے شرکاء کو کورس کی تفصیلات اور مقاصد سے آگاہ کیا۔

اسلامی علوم میں ’’اصول فقہ‘‘ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس علم میں ان اصول و ضوابط پر بحث کی جاتی ہے جن کے ذریعے قرآن و سنت سے احکام و مسائل کا استنباط کیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین و ضوابط کی درجہ بندی اور تشریح کی جاتی ہے۔ آج کی اصطلاح میں اسے ’’اصول قانون‘‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے، لیکن آج کے معروف اصول قانون کی بہ نسبت ’’اصول فقہ‘‘ کا دائرہ زیادہ وسیع اور اس کے پہلو زیادہ متنوع ہیں۔ البتہ اس کی بنیادی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اسے ’’اصول قانون‘‘ کی اصطلاح میں بیان کر دیا جاتا ہے۔

صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے بعد جب قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو زندگی کے مختلف شعبوں کے حوالے سے منظم طور پر پیش کرنے کی ضرورت سامنے آئی، اس کی درجہ بندی اور دفعہ بندی کا مرحلہ آیا، اور نئے پیش آمدہ مسائل و ضروریات میں قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے سے احکام و قوانین طے کرنے کی نوبت آئی تو بڑے فقہائے کرام نے، جن کی تعداد بیسیوں میں بیان کی جا سکتی ہے، اس عظیم کام کے لیے اصولوں اور طریق کار کا تعین کیا اور پھر ان کی روشنی میں عملی اجتہاد کے ذریعے سے ہزاروں احکام و مسائل کا استنباط کیا۔ ان میں امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے اصولوں کو زیادہ پذیرائی ملی اور امت کی غالب اکثریت نے ان کی پیروی کی، جس کا تسلسل آج بھی اس طرح قائم ہے۔

یہ اصول و ضوابط دینی تعلیم کے نصاب میں ہر دور میں قرآن وحدیث اور فقہ کے ساتھ ساتھ تعلیم و تدریس کا لازمی حصہ رہے ہیں اور ہمارے ہاں برصغیر کے دینی مدارس میں بھی درس نظامی کے نصاب میں ’’اصول فقہ‘‘ کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آباد نے ان حضرات کے لیے جو عربی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے، عربی و فارسی میں ’’اصول فقہ‘‘ کے اصل لٹریچر سے استفادہ نہیں کر سکتے اور اس عظیم الشان علم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اردو زبان میں اس کے دو کورس مرتب کیے ہیں جو خط و کتابت کورس کے طور پر ملک بھر میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کو پڑھائے جاتے ہیں۔ پہلا کورس ابتدائی سطح کا ہے جو بنیادی معلومات اور تعارف پر مشتمل ہے اور یہ کورس مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد یہ ”ایڈوانس کورس“ مرتب کیا گیا ہے جو اصول فقہ کے متعدد علمی مباحث اور بہت سی ضروری اور مفید معلومات پر مشتمل ہے اور ایک سال کے دورانیے کا یہ کورس شریعہ اکیڈمی نے اب شروع کیا ہے جس کے آغاز لیے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کورس کے چوبیس لیکچر ہیں جن کا میں نے سرسری مطالعہ کیا ہے، کیونکہ مجھے یہی کہا گیا تھا کہ اس کورس کے بارے میں اپنے تاثرات و احساسات سے شرکائے تقریب کو آگاہ کروں، چنانچہ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں، ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔

میں بھی اصول فقہ کا ایک طالب علم ہوں اور ایک عرصہ سے یہ مضمون پڑھا رہا ہوں، مگر دینی مدارس کے ماحول اور محدود تناظر میں، اس لیے اس موضوع سے مجھے دلچسپی ہے، اسی نظر سے میں نے کورس کے مختلف حصوں پر نظر ڈالی ہے اور تین حوالوں سے اس پر خوشی کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں۔

  1. ایک اس لیے کہ یہ کورس اردو میں ہے اور شاید پہلا موقع ہے کہ اردو زبان میں لوگوں کو اصول فقہ یا ’’اسلامی اصول قانون‘‘ سے متعارف کرانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ اپنی اہمیت کے حوالے سے اس کورس اور اس جیسے دیگر ضروری کورسز کا آغاز پاکستان کے قیام کے فورًا بعد سے ہو جانا چاہیے تھا، لیکن ہم کم و بیش چھ عشروں کے بعد یہ کام شروع کر رہے ہیں۔ تاہم غنیمت ہے کہ صحیح سمت میں ایک سنجیدہ پیشرفت کا آغاز تو ہوا ہے اور میں اس پر شریعہ اکیڈمی اور اسلامی یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
  2. دوسرا اس حوالے سے کہ اس میں ’’اصول فقہ‘‘ کے تعارف اور تعلیم کا اہتمام وسیع تناظر میں کیا گیا ہے۔ اور یہ ضروری بھی ہے کہ کسی مضمون کی تعلیم حاصل کرنے والے اس کے تمام ضروری پہلوؤں سے متعارف ہوں اور ان کی معلومات کا دائرہ کسی بھی پہلو سے نامکمل اور تشنہ نہ ہو۔ اس کورس میں حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہوں کے ساتھ ساتھ جعفری اور ظاہری فقہوں کے اصولوں کا بھی تعارف کرایا گیا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے، بلکہ مجھے اس باب میں یہ کمی محسوس ہوئی ہے کہ اہل تشیع کی فقہ جعفری کے علاوہ فقہ زیدی کے اصولوں کا تعارف بھی شامل ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ بھی پڑھنے والوں کے سامنے رہیں۔
  3. تیسری بات جس پر میں بطور خاص اطمینان اور خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا، یہ ہے کہ ابھی مجھ سے قبل اپنے خطاب میں ملک کے معروف قانون دان جناب افضل حیدر نے کہا ہے کہ وہ اپنے دور طالب علمی اور اس کے بعد پریکٹس اور تدریس کے ابتدائی دور میں اردو زبان میں اسلامی قانون اور اس کے اصول پر ایک عرصہ تک کتابوں کی تلاش میں رہے ہیں مگر ایک دو کتابوں کے سوا اس موضوع پر اردو میں کوئی لٹریچر دستیاب نہیں ہوتا تھا۔ بالکل یہی صورتحال میری بھی ہے کہ میں ایک عرصہ سے اس تلاش میں ہوں کہ مغرب کے اصول قانون پر اردو میں کوئی مواد میسر آئے تو میں اصول فقہ کے ساتھ تقابلی طور پر اس کا مطالعہ کر سکوں، مگر مجھے یہ مواد پہلی بار اس کورس میں ملا ہے اور میں نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ اس کورس میں اسلامی اصول فقہ اور مغرب کے اصول قانون کے تقابلی مطالعہ پر اگرچہ بہت مختصر مواد ہے اور اس سے میری تشنگی مزید بڑھی ہے، مگر مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ کہیں سے کوئی چیز ملی تو ہے۔ اور اس پر میں شریعہ اکیڈمی اور خاص طور پر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کورس میں اصول فقہ اور مغرب کے اصول قانون کے تقابلی مطالعہ کا یہ مضمون تحریر کیا ہے۔

تقریب میں محترم جناب جسٹس ناظم حسین صدیقی اور جناب افضل حیدر نے بھی اس کورس کے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے بتایا کہ اس نوعیت کے دیگر بہت سے کورسز بھی مرتب کیے جا رہے ہیں جو وقتاً فوقتاً جاری کیے جائیں گے۔ یونیورسٹی کے ریکٹر جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان کا کہنا ہے کہ یہ کورس جج صاحبان اور وکلاء کے لیے بطور خاص ضروری ہے اور وہ گھر بیٹھے خط و کتابت کے ذریعے سے اس کورس کی صورت میں اسلامی اصول قانون سے کافی حد تک واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔ جبکہ میری گزارش ہے کہ یہ کورس دینی مدارس کے مدرسین اور کالجوں کے اسلامیات کے اساتذہ کے لیے بھی اسی طرح ضروری اور مفید ہے اور اگر وہ یہ ایک سالہ خط و کتابت کورس سنجیدگی کے ساتھ کر لیں تو اپنے طلبہ کو اسلامی احکام و قوانین کی اصولی بنیادوں اور آج کے عالمی ماحول میں اسلامی قانون و نظام کی اہمیت و ضرورت سے زیادہ بہتر طور پر روشناس کرا سکتے ہیں۔