اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۷ء

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۵ جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق انٹرنیشنل سروے ایجنسی ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ نے حال ہی میں اسلامی نظام کے بارے میں پاکستانی عوام کے خیالات و جذبات معلوم کرنے کے لیے سروے کا اہتمام کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ۶۷ فیصد عوام نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کی ہے، ۲۰ فیصد لوگوں نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ ۱۳ فیصد کی رائے یہ ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفاذِ اسلام کی خواہش رکھنے والوں میں سے ۴۸ فیصد لوگوں کی رائے یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کا کام بتدریج ہو اور ۳۱ فیصد کی خواہش یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کا عمل فوری طور پر اور یکبارگی عمل میں لایا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سروے سانحہ ایبٹ آباد (شیخ اسامہ بن لادن ؒ کی مبینہ شہادت) سے تین ماہ قبل کیا گیا تھا اور ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی ۲ جون ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز نے اسلامی نظام کے حق میں پاکستانی عوام کی اس اکثریتی رائے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے ان کی اکثریت نے ہمیشہ ملک میں نفاذ اسلام کی خواہش کا اظہار کیا ہے بلکہ مختلف تحریکات میں اس کے لیے جانی و مالی قربانیاں بھی پیش کی ہیں، حتٰی کہ ہر الیکشن میں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان جماعتوں کو بھی اسلام کا نام لینا پڑتا ہے جن کے ایجنڈے میں نفاذِ اسلام کا پروگرام سرے سے شامل نہیں ہے۔ پاکستانی عوام نے ہر موقع پر اپنی اس خواہش کا کھلم کھلا اظہار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کے مطابق ملک کا نظام چلایا جائے اور قیام پاکستان کے مقصد کی تکمیل کرتے ہوئے ملک میں مکمل اسلامی نظام کا عملی نفاذ عمل میں لایا جائے، مگر ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے جس میں جاگیر دار، سرمایہ دار، سول ملٹری، بیوروکریسی اور مغربی فلسفہ و نظام سے مرعوب سیاستدان و دانشور شامل ہیں باہمی ملی بھگت سے عوام کی اس خواہش بلکہ مطالبہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے، اور ملک کے نظام کو عوامی خواہشات جذبات اور منتخب قومی اداروں کے فیصلوں کے مطابق تشکیل دینے کی بجائے عالمی استعمار کے مطالبات اور دباؤ کے تحت ملک کے نظام کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے مقتدر حلقوں کی اسی منافقانہ روش کا نتیجہ ہے جو ملک میں ابتری، عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتحال کے طور پر ہمارے سامنے ہے جس سے ہماری قوم خود مختاری، ملکی سالمیت اور سرحدوں کا تقدس تک داؤ پر لگ چکا ہے۔ آج بھی ملک کی آزادی اور خود مختاری کی بحالی، سالمیت و سرحدات کے تحفظ اور قومی وحدت و وقار کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے حکمران طبقے عوام کی رائے کے سامنے سیر انداز ہوں اور مغربی آقاؤں کی خواہشات و مطالبات کو جرأت و حوصلہ کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے مخلصانہ عملی اقدامات کریں۔