تحفظ نسواں بل سے متعلق علماء کمیٹی کی سفارشات

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم بل کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا تھا وہ بحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی خصوصی حکمت عملی اور توجہ کے باعث باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اصولی طور پر رک گیا ہے۔ اور اگر تحفظ حقوق نسواں بل کو قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کرتے وقت کوئی اور الجھن پیدا نہ ہوئی تو امید ہے کہ اس مسئلہ پر کوئی نیا بحران کھڑا نہیں ہوگا اور اس کے ملک کی سالمیت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان مسلم لیگ اور متحدہ مجلس عمل کے اس مفاہمتی عمل کے لیے غیر سیاسی علماء کی جو کمیٹی مقرر کی گئی تھی اس میں راقم الحروف بھی شامل تھا اور سارے مذاکراتی عمل میں شریک رہا۔ اس کے اختتام پر جب پاکستان ٹی وی نے میرے تاثرات دریافت کیے تو میں نے عرض کیا کہ مجھے دو باتوں پر خوشی ہوئی ہے:

  • ایک اس بات پر کہ حکمران پارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے اس اہم مسئلہ پر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مفاہمت کے ساتھ یہ مسئلہ حل کرنے کو ترجیح دی ہے۔
  • اور دوسری بات میرے لیے خوشی کی یہ ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں دنیا کو ایک بار پھر یہ پیغام مل گیا ہے کہ پاکستان اپنے اسلامی تشخص پر اور قرآن و سنت کے ساتھ وفاداری کے عہد پر بدستور قائم ہے اور آج کے عالمی ماحول میں میرے نزدیک یہ بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

حدود آرڈیننس میں ترامیم کا مسودہ جو تحفظ حقوق نسواں بل کے عنوان سے قومی اسمبلی میں زیر بحث ہے اور جس میں قرآن و سنت کے منافی دفعات کی نشاندہی اور اصلاح کے لیے علماء کرام کی یہ کمیٹی بنائی گئی تھی، دراصل اس طویل نظریاتی اور تہذیبی کشمکش کا ایک حصہ ہے جو پاکستان کے نظریاتی اسلامی تشخص کے تحفظ اور پاکستانی معاشرے میں اسلامی اقدار و روایات کی بقا، یا انہیں کمزور کر کے مغربی ثقافت و تمدن کو رواج دینے کے لیے ایک عرصہ سے جاری ہے اور ایک عرصہ تک جاری رہے گی۔ ایک سیکولر دانشور کے نزدیک یہ ’’نان ایشو‘‘ ہے، لیکن اگر یہ مہم کامیاب ہو جاتی اور ترمیمی بل کے منظور ہو جانے کی صورت میں حدود آرڈیننس محض شوپیس بن کر رہ جاتا تو یہی مسئلہ ہمارے ان دانشوروں کے ہاں ’’کرنٹ ایشو‘‘ قرار پاتا اور اسے سولائزیشن اور آزادی کی طرف تاریخی قدم قرار دے کر اس کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے۔

مذاکرات کے اس عمل کا آغاز اس طرح ہوا کہ چودھری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ایک ملاقات میں اس بات پر اتفاق رائے ہوگیا کہ کچھ ایسے علماء کو بھی حدود آرڈیننس میں اور تحفظ حقوق نسواں بل پر مباحثہ میں شریک کر لیا جائے جو عملی سیاست میں فریق نہ ہوں اور جن کی رائے کو قبول کرنے میں فریقین میں سے کسی کو بھی اختلاف نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے جن علماء کے ناموں پر اتفاق رائے ہوا، ان میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا حسن جان، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی منیب الرحمن، مولانا مفتی غلام الرحمن، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور راقم الحروف شامل ہیں۔ مجھے جب اس بات کی اطلاع دی گئی تو میں نے عرض کیا کہ میرے لیے یہ اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔ چودھری شجاعت حسین صاحب نے خود فون پر مجھ سے بات کر کے دریافت کیا تو میں نے رضامندی ظاہر کر دی۔ اگرچہ بعض دوستوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان علماء کرام کے لیے غیر سیاسی، غیر جانبدار اور سرکاری علماء کی جو اصطلاحات قومی اخبارات میں استعمال کی گئی ہیں، کیا میرے لیے وہ قابل قبول ہیں؟ اس پر میں نے عرض کیا کہ اس کا تعلق معروضی حالات اور ملی ضروریات سے ہے اور ان دونوں کے تقاضے یکجا ہو جائیں تو مجھے ان میں سے کسی بات میں بھی تامل نہیں ہے۔ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے، میں سیاست کو دین کا ایک شعبہ اور دینی ضروریات کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہوں، اس سے دستبرداری یا لاتعلقی میرے نزدیک دین کے ایک حصے سے لاتعلقی ہے، البتہ یہ تقسیم کار کی بات ہے کہ اقتدار اور الیکشن کی سیاست کے لیے خود کو موزوں نہ سمجھتے ہوئے نفاذ اسلام کی جدوجہد کے فکری اور علمی شعبے کو میں نے اپنی تگ و تاز کا میدان بنایا ہوا ہے۔

میں ۱۹۶۵ء سے ۱۹۹۰ء تک عملی، انتخابی اور جماعتی سیاست کا ایک متحرک کردار رہا ہوں جبکہ ۱۹۹۰ء کے بعد سے فکری اور علمی شعبے میں مصروف عمل ہوں۔ اسے اگر غیر سیاسی ہونا کہا جاتا ہے تو ایسا کہنے والوں سے میں کیا عرض کر سکتا ہوں؟ باقی رہی بات غیر جانبداری کی تو حکومت اور اپوزیشن یا سیاسی جماعتوں کے سیاسی جھگڑوں اور پاور پالیٹکس میں تو غیر جانبدار ہو سکتا ہوں اور کسی حد تک ہوں بھی، مگر دینی و ملی مسائل کے بارے میں غیر جانبدار ہونا میرے لیے ممکن ہی نہیں ہے، بالخصوص اسلامائزیشن سے متعلقہ امور میں غیر جانبدار ہو جانا تو شاید بعض صورتوں میں کفر کی حدود تک بھی پہنچا دیتا ہے۔ البتہ سرکاری علماء کی پھبتی بالکل خلاف واقعہ ہے اس لیے کہ ان علماء کے نام صرف حکمران پارٹی کی طرف سے نہیں آئے بلکہ قائد حزب اختلاف کی رضامندی بھی اس میں شامل تھی، یہی وجہ ہے کہ تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں ان علماء کرام نے جو سفارشات دی ہیں، ان میں انہوں نے اپنے کام کے حوالے سے دونوں کا تذکرہ کیا ہے۔

میں اس معاملے کو ایک اور حوالے سے بھی دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے بیٹوں کے درمیان ہوا ہے۔ ان دونوں راہنماؤں میں ایک عرصہ تک رفاقت رہی ہے، بالخصوص ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں مولانا مفتی محمودؒ اور چودھری ظہور الٰہی مرحومؒ کا قائدانہ کردار تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ چودھری صاحب مرحوم کٹڑ مسلم لیگی تھے اور ان کا سیاسی مزاج بھی خالصتاً مسلم لیگی تھا، لیکن یہ میرے ذاتی مشاہدے کی بات ہے کہ ملک کے اسلامی تشخص اور دینی امور کے حوالے سے وہ دو ٹوک رائے رکھتے تھے اور ان کے بارے میں عملی طور پر بے لچک ہو جایا کرتے تھے۔ یہ خوبی ان کے سیاسی جانشینوں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی میں بھی پائی جاتی ہے اور مختلف مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ قومی وحدت، ملکی سیاست، پاکستان کے اسلامی تشخص اور دینی احکام و روایات کے تحفظ کے بارے میں جو تقاضا ان کی سمجھ میں آ گیا ہے، اس میں انہوں نے کوئی لچک نہیں دکھائی۔

بہرحال اس پس منظر میں مذکورہ بالا علماء کرام کے ساتھ میں بھی اسلام آباد حاضر ہوا اور حدود آرڈیننس میں ترامیم کے لیے ’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے عنوان سے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے نئے مسودہ قانون پر بحث و مباحثہ میں شرکت کی۔ یہ گفتگو ان علماء کرام کی وزارت قانون کے اعلیٰ ترین افسران کے ساتھ ہوئی۔ اس میں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی، سردار نصراللہ دریشک اور دوسرے اہم حضرات بھی مسلسل شریک رہے۔ علماء کرام نے مذاکرات کے آغاز سے قبل آپس میں دو باتیں طے کر لیں۔ ایک یہ کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت اور حقوق کے بارے میں اصل اور عملی مسائل کے بارے میں بھی حکومت کو توجہ دلائی جائے اور چند اہم امور کی نشاندہی کر کے حکومت سے کہا جائے کہ انہیں اس مسودہ قانون میں شامل کیا جائے، یا ان کے لیے الگ قانون سازی کی جائے۔ یہ امور درجہ ذیل ہیں:

  • ہمارے معاشرے میں عام طور پر عورتوں کو وراثت میں ان کا حصہ نہیں ملتا اور وہ خاندانی یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے خاموش رہ کر اپنے حق سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال کی اصلاح کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
  • عام طور پر عورتوں کو ان کا مہر بھی نہیں ملتا، یا تو کسی حیلے بہانے سے معاف کرا لیا جاتا ہے یا وہ مہر لڑکی کا باپ وصول کر لیتا ہے اور لڑکی کو نہیں ملتا۔ اس کا بھی قانونی طور پر سدباب ضروری ہے۔
  • بیک وقت تین طلاقیں دے دینا شرعاً بھی ناپسندیدہ ہے اور اس سے بہت سے خاندانی اور معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ یکبارگی تین طلاقیں دینے کو قانوناً قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور اس میں وثیقہ نویسوں اور عرضی نویسوں کو بھی شریک جرم بنایا جائے۔
  • جبری وٹہ سٹہ جسے شریعت نے ’’نکاح شغار‘‘ کا نام دیا ہے، اس کی بھی قانونی ممانعت کی جائے۔
  • بالغ لڑکی کی مرضی کے خلاف اس کے جبری نکاح کو قانوناً قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
  • قرآن کریم کے ساتھ نکاح کی مذموم رسم کا خاتمہ کیا جائے۔
  • کاروکاری اور اس طرح کے دیگر غیر شرعی رسوم و رواج کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

دوسری بات جو علماء کرام نے اس میں طے کی تھی، یہ تھی کہ دو تین اصولی اور اہم امور کو پہلے زیر بحث لایا جائے۔ اگر حکومت ان کے بارے میں ہماری بات قبول کرنے کو تیار ہو تو باقی امور پر بات کی جائے، ورنہ مسودہ قانون پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں تین باتیں ہمارے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ہیں:

  1. زنا بالجبر کو نئے مسودہ میں حدود شرعیہ سے نکال کر تعزیر میں شامل کر دیا گیا ہے جو قطعی طور پر غلط ہے، اسے حدود میں واپس لایا جائے اور اس کی سزا رجم ہی رکھی جائے۔
  2. زنا بالرضا میں شرعی شہادتیں پوری ہونے کی صورت میں اس کی سزا حد شرعی یعنی رجم رکھی گئی ہے، لیکن شہادت کا نصاب مکمل نہ ہونے کی صورت میں زنا سے متعلقہ دیگر جرائم کو تعزیرات سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ یہ بالکل غلط بات ہے، زنا بالرضا کا اگر شرعی ثبوت نہ بھی مل سکے تو اس سے متعلقہ جو جرائم ثابت ہوچکے ہوتے ہیں، مثلاً مرد اور عورت کی ناجائز خلوت اور دیگر دواعی زنا، ان کے تعزیری احکام کو بحال کیا جائے۔
  3. حدود آرڈیننس کو باقی قوانین پر بالاتر حیثیت دی گئی تھی، اسے نئے مسودہ قانون میں ختم کر دیا گیا ہے، اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔

ان تینوں امور پر ہمارا موقف بحمد اللہ تسلیم کر لیا گیا، اس طرح کہ زنا بالجبر کو دوبارہ حدود شرعیہ کے دائرہ میں واپس لے جانے کا فیصلہ ہوا، زنا بالرضا سے متعلقہ قابل تعزیر جرائم کو جرائم کی فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے تعزیرات پاکستان میں ایک نئی تعزیری دفعہ کا اضافہ تجویز ہوا جس کا متن بھی باہمی مشورے سے طے ہوگیا، جبکہ حدود شرعیہ کے قانون کی بالادستی کے لیے ایک متبادل شق کا متن طے کیا گیا جو مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی رائے میں پہلی دفعہ سے زیادہ بہتر اور واضح ہے۔ ان امور پر اتفاق رائے کو تحریری شکل میں لایا گیا جس میں علماء کرام نے واضح کیا کہ یہ رائے صرف ان امور کے بارے میں ہے۔ باقی معاملات میں اگر رائے طلب کی گئی تو وہ بعد میں دی جا سکتی ہے۔ اب ان سفارشات کی روشنی میں وزارت قانون تحفظ ِحقوق نسواں بل کے قومی اسمبلی میں پیش کردہ مسودہ میں کیسی ترامیم لاتی ہے، ایک دو روز میں یہ بات بھی واضح ہو جائے گی۔