متحدہ مجلس عمل سے ہماری توقعات

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ یوتھ کانٹیکٹ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۰۲ء

(ماہنامہ ’یوتھ کانٹیکٹ‘ گوجرانوالہ کے دسمبر ۲۰۰۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو سے اقتباس۔)

سوال: پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟

جواب: متحدہ مجلس عمل کو میرے خیال میں دو وجہ سے عوام میں پذیرائی ملی۔ ایک ان کے اتحاد کی وجہ سے کہ پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ دینی حلقوں اور مذہبی مکاتب فکر نے جب بھی متحد ہو کر کسی ملی کاز کے لیے قوم کو آواز دی ہے قوم نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کے لیے جو قیامت ڈھائی ہے اور افغانستانی عوام کو جس شرمناک طریقے سے درندگی اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے، پاکستان بالخصوص صوبہ سرحد اور بلوچستان کے عوام نے الیکشن میں اس کے خلاف اپنی نفرت اور غصے کا بھرپور اظہار کر دیا ہے، اور اس کے ساتھ ان عناصر کے اس منفی پراپیگنڈے کا عملی جواب بھی دیا جو اَب تک یہ کہتے آرہے تھے کہ پاکستان میں دینی جماعتوں کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں اس سے امریکہ اور اس کے سارے حواریوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور طرزعمل پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

سوال: متحدہ مجلس عمل سے آپ قومی سیاست کے حوالے سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟

جواب: میرے خیال میں متحدہ مجلس عمل کو مرکز میں اقتدار کی کشمکش میں شریک نہیں ہونا چاہئے تھا اور ۱۹۷۳ء کے آئین کے دستور کی بنیادوں کے تحفظ پر اپنی ساری توجہ مرکوز رکھنی چاہئے تھی۔ اس وقت ملک میں حقیقی جمہوریت اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی بنیادوں کے تحفظ کے لیے سب سے نمایاں اور مضبوط آواز متحدہ مجلس عمل کی ہے، اس آواز کے ساتھ اقتدار اور وزارتوں کی خواہش کی آمیزش نہ ہوتی تو زیادہ بہتر تھا۔ بہرحال پھر بھی غنیمت ہے کہ متحدہ مجلس عمل نے اصولوں پر کسی قسم کی سودے بازی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ متحدہ مجلس عمل کو اس اصولی موقف پر استقامت اور اس میں سرخروئی سے نوازیں۔ البتہ اس سلسلہ میں ہماری رائے یہ ہے کہ:

  1. وہ مرکز میں اقتدار کے کھیل سے کنارہ کش رہے اور اپوزیشن میں بیٹھ کر عوام کے جذبات کی ترجمانی کرے۔
  2. صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت عوامی مسائل کے حل کے ساتھ اسلامی طرز حکومت کا ایسا نمونہ عملاً پیش کرے جو دوسرے صوبوں کے لیے مشعل راہ ہو، اور اگلے الیکشن میں دوسرے صوبوں کے عوام بھی متحدہ مجلس عمل کو موقع دینے پر مجبور ہو جائیں۔
  3. متحدہ مجلس عمل کو یہ ووٹ افغانستان کے مظلوم عوام کے خون کی برکت سے ملے ہیں اور عالمی استعمار کی ڈٹ کر مخالفت کرنے کی وجہ سے ملے ہیں، اس حوالے سے مجلس عمل کے موقف اور عملی کردار میں کسی قسم کی کوئی لچک نہیں ہونی چاہئے۔
  4. دینی مکاتب فکر کے اتحاد کو ہر قیمت پر قائم رکھا جائے، باہمی ایثار و اعتماد کے ساتھ اس کے دائرہ کار میں وسعت پیدا کی جائے، اور اس بات سے ہر وقت چوکنا رہا جائے کہ مخالفین کی طرف سے سب سے زیادہ کوشش یہی ہوگی کہ اس وحدت اور باہمی اعتماد میں کسی نہ کسی طرح دراڑیں ڈال دی جائیں۔
  5. صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت ایک علمی کمیشن قائم کرے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا گہری نظر سے مطالعہ کر کے ان میں سے صوبائی اختیارات سے تعلق رکھنے والی سفارشات کو الگ کرے اور ان کے عملی نفاذ کے لیے طریق کار تجویز کرے۔
  6. متحدہ مجلس عمل کے وزراء پروٹوکول اور پرسٹیج کے چکروں سے خود کو الگ تھلگ رکھتے ہوئے سادگی، قناعت، اور کفایت شعاری کا نمونہ پیش کریں، اور اپنے عمل کے ساتھ واضح کریں کہ ایک اسلامی حکومت کے وزراء کس طرح کام کرتے ہیں۔