بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت: مسلم اور مسیحی رہنماؤں کے درمیان ایک مکالمہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ء
اصل عنوان: 
بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت و اہمیت

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری باذوق اور باہمت آدمی ہیں، دینی جدوجہد کے محاذ پر ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، ملک میں دینی مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ اور اہم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم کی حیثیت سے ہمہ وقت مصروف زندگی میں سے بین المذاہب ہم آہنگی اور مختلف مذاہب کے دینی رہنماؤں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر کوئی نہ کوئی سلسلہ چلائے رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز (۲۷ دسمبر) کو انہوں نے جوہر ٹاؤن لاہور میں اپنے ادارہ جامعہ الخیر میں سرکردہ علماء کرام، مسلم اور مسیحی مذہبی رہنماؤں کے درمیان ایک سنجیدہ ملاقات اور خوبصورت مکالمے کا اہتمام کیا جو آج کے دور میں ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ ملاقات جو کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی بہت بامقصد ثابت ہوئی، اور اگر اس کا تسلسل قائم رہا تو مستقبل میں اس کے بہت مثبت اثرات و نتائج سامنے آئیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ملاقات کے شرکاء میں مسیحی رہنماؤں میں سے بشپ الیگزینڈر جان ملک، بشپ منور رومیل شاہ، پادری وکٹر عزرایا اور جناب انتھونی اعجاز بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ مسلم علماء کرام اور رہنماؤں میں مولانا عبد المالک خان، مولانا مفتی محمد خان قادری، مولانا محمد یسین ظفر، رانا شفیق پسروری، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا محمد امجد خان، شیعہ رہنما علامہ محمد حسین اکبر، مولانا قاری روح اللہ مدنی (پشاور) اور جناب لیاقت بلوچ نمایاں تھے۔ قاری محمد حنیف جالندھری میزبان تھے اور راقم الحروف کو بھی شرکت و حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ ملاقات کا بنیادی ایجنڈا یہ تھا کہ مسلم اور مسیحی علماء کرام کے درمیان ملاقاتوں اور باہمی رابطہ و مفاہمت کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر انسانی سوسائٹی کو جو مسائل و مشکلات درپیش ہیں ان میں باہمی مشترکات کو سامنے لانا اور ان کے لیے مشترک جدوجہد کا ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔

اس بات پر دونوں طرف سے اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ بہت سے مسائل اور الجھنیں باہمی رابطہ و گفتگو نہ ہو پانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور آپس میں تبادلۂ خیالات کی ضرورت کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ان مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اور اس صورتحال سے ایسی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں جو فریقین میں سے کسی کے لیے بھی پسندیدہ اور قابل قبول نہیں ہوتیں مگر حالات کا جبر معاملات کو اس سمت دھکیل دیتا ہے کہ دونوں طرف کی مذہبی یا سماجی سرگرمیوں سے دوسری قوتیں فائدہ اٹھا لیتی ہیں۔ اس لیے اس ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا کہ ملتِ اسلامیہ اور مسیحی امت کے سنجیدہ مذہبی رہنماؤں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کی فضا قائم کی جائے، باہمی ملاقاتوں اور گفت و شنید کا اہتمام کیا جائے اور پیش آمدہ مسائل و معاملات کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کو ترجیح دی جائے۔ بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس سلسلہ میں مشترکہ فورم تشکیل دیا جانا چاہیے جس پر قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ مشترکہ فورم پہلے سے موجود ہے صرف اسے متحرک اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں باہمی شکوؤں اور شکایات کا تبادلہ بھی ہوا اور دونوں طرف سے رہنماؤں نے کھلے دل کے ساتھ بات کی جسے کھلے دل کے ساتھ سنا گیا۔ بہت سے باہمی شکوؤں کو جائز قرار دیتے ہوئے ان سے اتفاق کیا گیا اور ان کے ازالے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس پس منظر میں توہینِ رسالت کی سزا کا قانون بھی زیرِ بحث آیا اور دونوں طرف سے اپنے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا گیا۔

مسلم علماء کی شکایت یہ تھی کہ حضراتِ انبیاء کرامؑ کی توہین پر سنگین سزا تمام آسمانی مذاہب کے قوانین کا حصہ ہے جو بائبل میں بھی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ اور دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ ان کے محبوب پیغمبرؑ کی اہانت کے ذریعے ان کی دل آزاری کی روک تھام کی جائے جس کا سب سے مؤثر ذریعہ قانون سازی ہے۔ اگر قانون نہیں ہوگا یا اس جرم کی سزا سنگین نہیں ہوگی تو اس قسم کے شرمناک جرائم کے فیصلے عوامی سطح پر اشتعال اور شدت پسندی کی صورت میں ہوں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس نوعیت کا قانون ملک میں نہ صرف موجود ہو بلکہ مؤثر اور فعال بھی ہو۔ جبکہ عالمی سیکولر حلقے اس قانون کی مخالفت کر کے اسے ختم کرانے کے درپے ہیں اور پاکستان کے مسیحی رہنماؤں کی طرف سے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ سیکولر قوتوں اور لادینی عناصر کی تقویت کا باعث بن رہا ہے۔

مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ انبیاء کرامؑ کی توہین پر سنگین سزا کے خلاف نہیں بلکہ اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ قانون جس انداز میں غلط طور پر استعمال ہو رہا ہے اور ان کے بقول مسیحی اقلیت اس کا بطورِ خاص نشانہ بن رہی ہے وہ اس کے خلاف ہیں اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کا غلط استعمال روکنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب ان کی بات نہیں سنی جاتی تو پھر وہ اس قانون کو ختم کر دینے کی بات بھی کرتے ہیں، اگر اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان کی تجاویز و شکایات پر توجہ دی جائے اور مسیحی اقلیتوں پر مبینہ طور پر ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں دادرسی کا ماحول پیدا کر دیا جائے تو وہ اس قانون کی مخالفت نہیں کرتے اور اس حق میں ہیں کہ انبیاء کرامؑ کی اہانت پر موت کی سزا کا قانون نافذ رہے۔

اس موقع پر مسیحی رہنماؤں سے یہ عرض کیا گیا کہ ہمیں اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ قانون کا غلط استعمال روکا جانا چاہیے اور یہ بات صرف اس قانون کے بارے میں نہیں بلکہ ہمارے ہاں دفعہ ۳۰۲ سمیت بہت سے قوانین کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں تک دوسرے بہت سے قوانین کی طرح ۲۹۵ سی کے غلط استعمال کا تعلق ہے ہمیں اس سے اختلاف نہیں ہے اور ہم اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہر سنجیدہ تجویز اور کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اس کی آڑ میں سرے سے اس قانون کو ختم کرنے کی جو بات کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ملک کے دستور و قانون میں موجود دیگر اسلامی دفعات اور شقوں کو ختم کرنے اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کو مجروح کرنے کی جو مہم ہے، مسیحی رہنماؤں کو بھی اس سلسلہ میں سنجیدہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔

مسیحی رہنماؤں کی طرف سے بہت سے واقعات کی نشاندہی کی گئی جن میں اس قانون کی وجہ سے مسیحی اقلیت کو عوامی اشتعال کا نشانہ بننا پڑا، مبینہ طور پر انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا، آبادیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور مسیحی اقلیت کے افراد کا معاشرے میں باعزت طور پر زندہ رہنا مشکل بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس قسم کے افسوسناک عوامی سطح کے جذباتی اور اشتعال انگیز ردعمل اور رویے کو مذہبی حلقوں کی طرف سے سپورٹ کیا جاتا ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے متاثرین کو جو جائز حمایت حاصل ہونی چاہیے وہ بھی نہیں ملتی تو پھر مایوسی اور بے اعتمادی بڑھتی ہے اور موقف میں انتہا پسندی دکھائی دینے لگتی ہے۔

ملاقات کی یہ محفل غیر رسمی تھی اور یہ طے پایا کہ اسے ابتدائی اور غیر رسمی ملاقات کے درجے میں رکھا جائے اور اس میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ان پر دونوں طرف کے رہنما سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے کچھ دنوں کے بعد پھر مل بیٹھیں اور باہمی مشاورت کے ساتھ مشترکہ موقف اور لائحۂ عمل طے کرنے کی صورت اختیار کریں۔ اس ملاقات میں یہ بات بہت خوش آئند اور حوصلہ افزا رہی کہ دونوں طرف کے مذہبی رہنماؤں نے باہمی شکوؤں کو کھلے دل و دماغ کے ساتھ سنا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے ان شکایات کے ازالے کی کوشش کی جاتی رہے۔