نیو ورلڈ آرڈر۔ عالم اسلام کے خلاف سازش

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء

(۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں حرکۃ الجہاد الاسلامی کے سالانہ اجتماع سے مدیر الشریعہ کا خطاب۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ صدر ذی وقار قابل صد احترام دوستو، بھائیو اور مجاہد ساتھیو! میں صرف اجتماع میں شرکت اور آپ حضرات کے ہم نشینوں میں نام لکھوانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، وقت مختصر ہے۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی تشریف فرما ہیں اور بالخصوص مفتی صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، اس لیے کسی تمہید کے بغیر صرف دو مختصر باتیں عروض کروں گا۔

ایک تو اس وقت جہاد افغانستان کس پوزیشن میں ہے اس کا نقشہ تھوڑا سا سامنے ہونا چاہیے۔ ایک وقت وہ تھا جب افغانستان کے علماء نے جہاد کا آغاز کیا تو دنیا کے دانشور یہ کہتے تھے۔ یہ پاگل لوگ ہیں روس جیسی سپر پاور چٹان ہے ان سے سر ٹکرا ٹکرا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے، لیکن یہ مجاہدین کے خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج ماسکو میں روس کا وزیر خارجہ ان ہی مجاہدین سے پوچھتا ہے کہ پراَمن مصالحت اور مفاہمت کی بات ہو سکتی ہے لیکن ہمیں یہ بتاؤ کہ ہم نجیب کا کیا کریں۔ مذاکرات کے حوالہ سے جو رپورٹ آئی ہے اس میں روس کا وزیر خارجہ مجاہدین کے وفد کے لیڈر سے پوچھتا ہے کہ ہمیں راستہ بتاؤ نجیب کا ہم کیا کریں۔ یہ مجاہدین کی خلوص کی برکات ہیں اور اللہ رب العزت نے ایک بار پھر دنیا میں یہ عملاً دکھایا ہے کہ مسلمان اگر ایمان کی بنیاد پر جہاد کے لیے خلوص دل کے ساتھ میدان عمل میں ہو تو اللہ کی مدد اب بھی مسلمانوں کے ساتھ ہے، مشکلات اگرچہ بہت ہیں اور اس وقت مجاہدین کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مجاہدین کی آخری کامیابی کو روکنے کے لیے امریکہ اور روس دونوں اکٹھے ہوگئے ہیں۔ امریکہ اور روس کے مفادات مشترک ہیں۔ امریکہ اور روس اکٹھے ہو کر دونوں نے کچھ باتوں پر اتفاق کیا ہے۔ آج دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر کی بات ہو رہی ہے۔ اس کے حوالہ سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن میں اپنے مجاہد بھائیوں سے عرض کروں گا کہ اس نیو ورلڈ آرڈر کو ہمیں بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ ہے کیا۔ امریکہ اس نیو ورلڈ آرڈر کے نام سے دنیا کے اندر کیا تبدیلی لانا چاہتا ہے۔

پہلی بات تو یہ نوٹ کر لیں کہ یہ نیو ورلڈ آرڈر جو بھی سامنے آیا ہے اس پر امریکہ اور روس دونوں متفق ہیں۔ امریکہ اور روس دونوں مل کر دنیا میں ایک نئی تبدیلی اور ایک نئی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان دونوں میں اس پر اتفاق ہے اور بدقسمتی سے ان دونوں کے علاوہ دوسری بڑی طاقتیں بھی جاپان سمیت ان کے ساتھ متفق ہیں۔ صرف چین تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے، پتا نہیں ہٹا رہتا ہے یا ساتھ چلتا ہے، لیکن تمام طاقتیں جو بڑی کہلاتی ہیں وہ اس نیو ورلڈ آرڈر پر متفق ہیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کیا ہے؟ ہمارے سمجھنے کی اس میں دو باتیں ہیں۔

  1. پہلی بات تو یہ ہے کہ افغانستان پر مجاہدین کی حکومت (جس کو وہ بنیاد پرست کہتے ہیں) قائم نہ ہو، اس کا پہلا نقطہ ہے۔
  2. دوسرا نقطہ یہ ہے مشرق وسطی میں عرب ممالک پر اسرائیل کی بالادستی فوجی اور سیاسی دونوں اعتبار قائم سے کروائی جائے جسے عربوں کو بٹھا کر ان سے تسلیم کروایا جائے۔ اسرائیل کی بالادستی اس طریقے سے قائم کر دی جائے کہ کوئی عرب ممالک اسرائیل کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں۔
  3. اسی نیو ورلڈ آرڈر کی جو تیسری بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں اس وقت جو دینی بیداری کی تحریکات ہیں جس کو وہ بنیاد پرست تحریکات کہتے ہیں، جو پاکستان میں بھی ہے، جو انڈونیشیا میں بھی ہے، ملائیشیا میں بھی ہے، افغانستان میں بھی ہے، الجزائر میں بھی ہے، ترکی میں بھی ہے، جو خالص اسلام کی بنیاد پر، قرآن و سنت کی حکمرانی کی بنیاد پر، کسی آمیزش کے بغیر قرآن و سنت کے خالص نظام کو اپنے ممالک پر رائج کرنا چاہتے ہیں، وہ تحریکات اب بھی موجود ہیں، کہیں طاقتور ہیں اور کہیں کمزور ہیں، اور کہیں درمیانی کیفیت کی ہیں، بنیاد پرستی کی تحریکات، دینی بیداری کی تحریکات، یہ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، جاپان اور جرمنی سارے متفق ہوچکے ہیں کہ ان تحریکات کو ہر قیمت پر دبانا ہے۔ ان تحریکات میں سے کسی تحریک کو اس پوزیشن پر نہیں آنے دینا کہ وہ کسی ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے نظام کو نافذ کر سکیں، اور نظام کو نافذ کرنے کے بعد دنیا کے سامنے اسلامی نظام کو صحیح نمونے پر پیش کر سکیں۔
  4. کیونکہ یہ طے ہے کہ آج دنیائے انسانیت جن مشکلات سے دوچار ہے، میرا ایمان اور عقیدہ ہے اگر دنیا کے کسی حصہ میں ایک حصہ کی حکومت بھی اسلام کے نظام کو صحیح طور پر نافذ کر کے اس کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر دے تو دنیا پیاسی ہے، دنیا ترس رہی ہے کسی اچھے نظام کو، اس نظام کا مقابلہ کرنا پھر کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اور یہ بات وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر اسلام صحیح معنوں میں نافذ ہوا تو ایک نمونہ آئے گا، ایک مثال سامنے آئی گی، اور پھر یہ جتنے جھوٹے نظام ہیں ان کے لیے راستہ چھوڑے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ کیونکہ روشنی جب آتی ہے تو تاریکی کے لیے بھاگنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں کر رہ جاتا۔ تو یہ تیسرا نقطہ ہے ان کا کہ دنیائے اسلام میں بنیاد پرستی کی تحریکات کو کچل دیا جائے۔

  5. چوتھی بات نیو ورلڈ آرڈر کے تحت، امریکہ اور اس کے حواریوں میں اب روس بھی شامل ہے، یہ چاہتے ہیں کہ دنیائے اسلام کا کوئی ملک بھی فوجی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہ ہو کہ وہ کسی غیر مسلم ملک بالخصوص اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکے۔ آج ہماری ایٹمی تنصیبات کا مسئلہ ہے، لیبیا کے ایٹمی مسائل ہیں، عراق کے ایٹمی تنصیبات کا مسئلہ ہے، جہاں کہیں انہیں تھوڑی سی سن گن ملتی ہے کہ وہ مسلمان ملک ایٹمی توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہاں فورًا پہنچتے ہیں اور قوت کو تباہ کرنے کے لیے تانے بانے بنے جاتے ہیں۔ آج پاکستان اس قدر خطرات میں ہے کہ وہ ابھی باتوں سے کام نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر باتوں سے ہم رام نہ ہوئے تو خدانخواستہ خدانخواستہ اس ملک کو بھی وہ اپنے حملوں کی زد میں لا سکتے ہیں، لیکن یہ برداشت کبھی نہیں کریں گے کہ پاکستان یا کوئی اسلامی ملک فوجی اور دفاعی لحاظ سے خود کفیل ہو۔

    آج دیکھیے، اتنی بڑی بات کہ آپ ایٹمی تنصیبات ختم کر دیں، آپ کا ایٹمی دفاع ہم کریں گے، جیسا کہ عربوں کا دفاع کر رہے ہیں اسی طرح ہمارا دفاع بھی کریں گے، جیسے کہ عربوں کو بے بس کر دیا ہے۔ عرب ممالک بے بس ہیں لاچار ہیں مجبور ہیں کہ امریکہ کی فوجیں قبول کریں، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ان کے لیے کہ امریکہ کی فوجیں قبول کریں اور اپنے آپ کو ان کے حوالہ کر دیں۔ آج پاکستان کے لیے بھی یہی تجویز لے کر آیا ہے امریکی کمانڈر انچیف کہ جناب آپ فوجی قوت کم کریں اور ایٹمی تنصیبات ختم کر دیں اور فوج کو ایک لاکھ پر لے آئیں۔ آپ کو ایک لاکھ فوج سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے، باقی آپ کا دفاع ہم کریں گے۔ آپ کو ضرورت پیش آئی تو ہماری فوج آئے گی، ہمارا اسلحہ آئے گا، ہم دفاع کریں گے۔ چوتھا نقطہ آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ یہ پالیسی طے شدہ ہے کہ دنیائے اسلام کا کوئی ملک فوجی اعتبار سے خود کفیل نہ ہو سکے، اتنا طاقتور نہ ہو کہ آپ کے لیے خطرہ بن سکے۔

ان بنیادوں پر دنیا کی طاقتیں آگے بڑھ رہی ہیں، اور ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے اگرچہ مشکل ہے اور میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے آپ کو اسی اسٹیج پر محسوس کر رہا ہوں جس سٹیج پر ہم ۱۸۵۷ء کی ناکامیوں کے بعد تھے۔ ہمیں اپنی دین اور قوت کو مضبوط کرنا ہے، اپنے آپ کو نظریاتی لحاظ سے مضبوط کرنا ہے، اور جذبہ جہاد کو مسلمانوں کے دلوں میں اجاگر کرنا ہے۔ جتنا ہم نظریہ اور فکر کے لحاظ سے اسلام میں پختہ ہوں گے، جتنا ہمارے اندر جہاد کا جذبہ بیدار ہوگا ان شاء اللہ سارے مسائل حل ہوں گے۔ ان ساری قوتوں کا ہم سامنا کریں گے لیکن اسلام کے ساتھ لازوال وابستگی، فکری وابستگی۔ لیکن جب میں آپ حضرات کے سامنے عرض کرتا ہوں تو اس سے میری مراد جذباتی وابستگی نہیں ہوتی، شعوری وابستگی ہوتی ہے۔ میری گستاخی معاف فرمائیں علماء اور طلباء کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں کہ ہم علماء کہلانے والے اور طلبہ کہلانے والے حضرات کی بھی ۹۰ فیصد کی وابستگی اسلام کے ساتھ شعوری نہیں ہے، عقیدہ اور جذبات کی وابستگی ہے۔

  • ہمیں نہیں معلوم اسلامی نظام کیا ہے،
  • ہمیں نہیں معلوم کہ سود کا متبادل نظام ہمارے پاس کیا ہے،
  • ہمیں نہیں معلوم کہ سیاسی نظام کے خدوخال کیا ہیں۔

نوے فیصد کی بات کر رہا ہوں، اکابر کی بات نہیں کر رہا، اپنے جیسوں کی بات کر رہا ہوں۔ ہمیں نہیں معلوم، ہم نہیں جانتے، نہ ہم پڑھتے ہیں، نہ ہمیں پڑھایا جاتا ہے، نہ ہم مطالعہ کرتے ہیں، نہ ہمیں ترغیب دی جاتی ہے، نہ ہماری ذہن سازی ہوتی ہے۔ ہماری وابستگی اسلام کے ساتھ شعوری نہیں ہے، فکری نہیں ہے، بلکہ عقیدت اور جذبات کی وابستگی ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ سب سے پہلے اسلام کے ساتھ، قرآن اور سنت کے ساتھ، اسلام کے نظام کے ساتھ شعوری وابستگی پیدا کیجئے، اس کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، دنیا کے حالات کا مطالعہ کیجئے، اپنے جذبہ جہاد کو نیو ورلڈ آرڈر، جو عالم اسلام کے خلاف ایک سازش ہے، اجاگر کیجئے، بیدار کیجئے، اس کو وسعت دیجئے، یہی ایک حل ہے ان شاء اللہ، دینی قوتیں بیدار ہوں گی، متحد ہوں گی تو پہلے بھی کفر کو شکست ہوئی ہے، آج بھی ان شاء اللہ تعالیٰ کفر کو شکست ہوگی۔ و اٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

موضوع: