خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اپریل ۲۰۲۰ء

میڈیا آج کے دور کی ایک بڑی طاقت ہے جو قوموں اور افراد کی ذہن سازی اور فکر و کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کارفرمائی دنیا میں ہر طرف اور ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہر دور میں اہم رہے ہیں اور اسلام نے بھی ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

قرآن کریم نے اپنی تعلیم کا آغاز ہی قلم کے ذکر سے کیا ہے جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے خطابت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر ذرائع اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دفاع و تحفظ کے لیے مسلسل استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔ جناب نبی کریمؐ نے قیامت کی نشانیوں میں ’’فشو القلم‘‘ یعنی قلم کا عام ہو جانا بیان فرمایا ہے۔ اور زبان و قلم کی رینج وسیع تر ہونے کا معراج شریف کی روایت میں ’’یبلغ بہ الافاق‘‘ کے عنوان سے ذکر کیا ہے کہ لوگ اپنی بات کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ جس کا ہم آج کے دور میں نہ صرف مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ اسے استعمال بھی کر رہے ہیں۔

ابلاغ کے ذرائع اور میڈیا کی عملی صورتوں نے تو وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا کے مراحل سے گزرتے ہوئے جدید ترین صورتیں اختیار کر لی ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ مگر ابلاغ کی نفسیات اور میڈیا کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی تکنیک کم و بیش آج بھی وہی ہے جو ماضی میں تھی کیونکہ انسان اسباب و ذرائع میں تو ترقی کرتا ہے مگر اس کی ذاتی نفسیات خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے وہی ہیں جو پہلے دن تھیں اور وہی قیامت تک جاری رہیں گی۔

اس پس منظر میں فرعون کے دور کا ایک واقعہ اپنی ترتیب کے ساتھ عرض کرنا چاہ رہا ہوں جو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے۔ حضرت موسٰی اور حضرت ہارون علیہما السلام نے جب فرعون کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایمان اور بنی اسرائیل کی آزادی کا پیغام پہنچایا اور اللہ تعالٰی کی قدرت کی نشانی کے طور پر عصا اور ید بیضا کے معجزات اس کے سامنے پیش کیے تو فرعون نے اسے جادو قرار دیتے ہوئے جادو ہی کے ذریعے اس کے مقابلہ کا اعلان کر دیا۔ اس نے ملک بھر سے جادوگر جمع کیے، حضرت موسٰیؑ کے ساتھ ’’یوم الزینۃ‘‘ عید کا دن مقابلہ کے لیے طے کیا اور چاشت کا وقت مقرر کر کے اعلان عام کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہو کر یہ مقابلہ دیکھیں۔ قرآن کریم نے اس کی دلچسپ تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔

جادوگر جب حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلہ کے لیے پہنچے تو فرعون سے پہلا سوال یہ کیا کہ اگر ہم غالب آ گئے تو کیا اس کا کوئی انعام بھی ہمیں ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ انعام کے ساتھ مقربین میں بھی شمار کیا جائے گا یعنی پروٹوکول اور میڈل وغیرہ بھی ملیں گے۔ آمنے سامنے ہوئے تو جادوگروں نے حضرت موسٰیؑ سے پوچھا کہ پہل آپ کریں گے یا ہم کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ پہل تم ہی کرو۔ اس پر جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں جو سانپوں کی طرح حرکت کرتے دکھائی دینے لگیں۔ یہاں قرآن کریم نے تین چار باتیں بطور خاص فرمائی ہیں۔

(۱) ’’واسترھبوھم‘‘ کہ انہوں نے خوف کا منظر پیدا کر دیا۔ یہ خوف اتنا شدید تھا کہ خود حضرت موسٰی علیہ السلام وہاں سے منہ موڑ کر چل دیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا ’’اقبل ولا تخف‘‘ آگے بڑھو اور گبھراؤ نہیں آپ کو کچھ نہیں ہوگا تو حضرت موسٰی علیہ السلام واپس مڑے۔ (۲) دوسرا جملہ یہ فرمایا کہ ’’سحروا اعین الناس‘‘ انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا تھا۔ (۳) جبکہ تیسرا جملہ یہ ہے کہ ’’یخیل الیہ من سحرھم‘‘ جادو کی وجہ سے لوگوں کو دکھائی یہ دے رہا تھا کہ جادوگروں کی پھینکی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن گئی ہیں اور حرکت کر رہی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا یعنی یہ سارا ماحول مصنوعی تھا کہ خوف و ہراس کی ایسی کیفیت پیدا کر دی گئی کہ اللہ تعالٰی کے جلیل القدر اور جلالی پیغمبر بھی اس کا شکار ہو گئے جس پر اللہ رب العزت نے یہ تسلی دی کہ ’’انک من الاٰمنین‘‘ آپ محفوظ رہیں گے۔

چنانچہ صورتحال کو زمینی حقائق کے برعکس ایسے انداز سے پیش کرنا کہ ہر طرف خوف کی کیفیت مصنوعی طور پر بپا کر کے اپنا مقصد حاصل کر لیا جائے، آج کی نئی تکنیک نہیں بلکہ بہت پرانا طریق واردات ہے جسے فرعون اور اس کے جادوگروں نے انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کیا تھا لیکن بالآخر جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے معجزہ پیش کرتے ہوئے اپنا عصا زمین پر رکھا تو وہ چونکہ حقیقی طور پر سانپ بن گیا تھا اس لیے اس نے جادوگروں کی سب رسیاں لاٹھیاں نگل لیں۔ اس پر اصحاب فن ہونے کی وجہ سے جادوگروں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ یہ جادو نہیں حقیقت ہے، اس لیے وہ بے ساختہ ایمان لے آئے اور سجدہ میں گر گئے۔

قرآن کریم نے ایک اور منظر بھی بیان فرمایا کہ حضرت موسٰیؑ نے تو فرعون سے تقاضہ یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرو، وہ انہیں ساتھ لے کر مصر چھوڑ دیں گے اور فلسطین چلے جائیں گے۔ لیکن فرعون نے اس مطالبہ کو کس چابکدستی کے ساتھ الٹا کر قوم کے سامنے اس طرح بیان کیا کہ موسٰی اور ہارون مصریوں کو ان کے ملک سے نکال کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ’’ویذھبا بطریقتکم المثلٰی‘‘ تمہاری آئیڈیل اور مثالی تہذیب و قانون کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے ’’فاستخف قومہ فاطاعوہ‘‘ اس طریقہ سے فرعون نے قوم کو بے وقوف بنا لیا اور وہ اس کے فرمانبردار ہو گئے۔

یہ وہ حقائق ہیں جو قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے خود بیان فرمائے ہیں، انہیں سامنے رکھ کر آج کے دور کی سیاست، لابنگ، میڈیا اور ذہن سازی کے مروجہ طریقوں پر نظر ڈال لیجئے، اسباب و وسائل کی ترقی اور ارتقا تو یقیناً آپ کو نظر آئے گا مگر انسان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں ہزاروں سال پہلے تھا اور یہ سوال ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہم سب کی طرف متوجہ ہے کہ ’’خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟‘‘

درجہ بندی: