کرونا بحران کے بارے میں ایوان صدر کی مشاورت

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ اپریل ۲۰۲۰ء

صدر مملکت جناب عارف علوی نے کرونا بحران کے دوران مساجد میں نماز باجماعت بالخصوص رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور دیگر معمولات کے حوالہ سے گزشتہ روز وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام کیا اور میں نے بھی گورنر ہاؤس لاہور میں دیگر علماء کرام کے ساتھ اس مشاورت میں شرکت کی۔ یہ اہتمام کرونا بحران کے آغاز میں ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور بہت سی الجھنیں جنم نہ لیتیں مگر ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق یہ سعی بھی تحسین کی مستحق ہے اور اس سے جناب صدر کے اس ذوق کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایوان صدر کو روایتی اور رسمی فورم کی بجائے قومی اور دینی معاملات میں ایک فعال ادارے کی حیثیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو بہرحال خوش آئند ہے۔

صدر محترم کے ساتھ وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر مذہبی امور اور حکومت کی دیگر ذمہ دار شخصیات کے علاوہ صوبوں کے گورنر، چیف سیکرٹری، وزراء اور پولیس کے اعلٰی حکام اس مشاورت کا حصہ تھے، جبکہ دینی قیادت کی ذمہ دار شخصیات نے بھی اس میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیا جو ایک اچھی روایت کا آغاز ہے۔ اگر اس کا تسلسل قائم رہا تو وطن عزیز کے اسلامی تشخص اور دستوری تقاضوں کے مطابق حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور دینی قیادتوں کے درمیان باہمی اعتماد و مفاہمت اور رابطہ و تعاون کی وہ فضا وجود میں آئے گی جس کی ایک عرصہ سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اور جو ایک ناگزیر قومی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔

صدر عارف علوی نے جن متفقہ بیس نکات کا اعلان کیا وہ قارئین کی نظر سے گزر چکے ہوں گی مگر ہم انہیں اپنے اس کالم کا حصہ بھی بنا رہے ہیں:

’’صدر مملکت کا علماء سے مشاورت کی روشنی میں متفقہ اعلامیہ: مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز اور تراویح کا اہتمام

(۱) مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔ (۲) اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے۔ (۳) جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اْس پر نماز پڑھنا چاہیں، وہ ایسا ضرور کریں۔ (۴) نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے۔ (۵) جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز پڑھائی جائے۔ (۶) ۵۰ سال سے زیادہ عمر کے لوگ، نابالغ بچے اور کھانسی نزلہ زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں۔ (۷) مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔ (۸) مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لیے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے۔ (۹) اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکاؤ بھی کر لیا جائے۔ (۱۰) مسجد اور امام بارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان ۶ فٹ کا فاصلہ رہے۔ ایک نقشہ منسلک ہے جو اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے۔ (۱۱) مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنا سکے۔ (۱۲) مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کے لیے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔ (۱۳) وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔ (۱۴) لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اور کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغلگیر ہوں۔ (۱۵) اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔ گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں۔ (۱۶) موجودہ صورتحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے۔ (۱۷) مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اور سحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے۔ (۱۸) مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ، آئمہ اور خطیب ضلعی و صوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔ (۱۹) مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے۔ (۲۰) اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظرثانی کرے گی۔ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقہ کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔‘‘

ظاہر ہے کہ ان نکات پر اب عمومی بحث و مباحثہ کا سلسلہ حسب روایت شروع ہو جائے گا اور مختلف جہات سے متنوع باتیں سامنے آئیں گی۔ اس لیے ہم سردست صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حالات کی نزاکت اور سنگینی کے ساتھ ہمیں قومی مشاورت کی اہمیت و ضرورت کا بھی پوری طرح خیال رکھنا چاہیے اور حالت اضطرار میں اس پر عملدرآمد کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر کسی درجہ میں کوئی تحفظ ذہن میں ہو تو اسے فکری خلفشار اور تنازعہ کی صورت دینے سے ہر ممکن گریز کیا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی جناب صدر کے خطاب کے اس حصہ کا ذکر بھی ضروری ہے جس میں انہوں نے مساجد و مدارس کے نظام کا ذکر کیا ہے اور توجہ دلائی ہے کہ چونکہ مساجد و مدارس کا نظام عام لوگوں کے چندوں اور عطیات و صدقات پر چلتا ہے اس لیے اس کو کسی صورت میں متاثر نہیں ہونا چاہیے اور مدارس و مساجد aکی خدمت کرنے والے اصحاب خیر کو یہ سلسلہ بدستور جاری رکھنا چاہیے۔ ہم اس پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ انہوں نے اس اہم دینی و قومی ضرورت کا احساس کیا ہے اور اس کا اظہار بھی کیا ہے۔