حج فارم میں ختم نبوت کا خانہ

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۲۰ء

حج کے فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کے خانے کے حوالہ سے اس وقت ملک میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پریس ریلیز درج ذیل ہے۔

’’حج فارم میں تبدیلی کرنا بد ترین قادیانیت نوازی ہے: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

کراچی (پ ر) واضح رہے کہ ہمیشہ حج فارم میں ایک حلف نامہ موجود ہوتا ہے جسے بھر کے ہر مسلمان عقیدۂ ختم نبوت پر اپنے ایمان کا برملا اظہار کرتا ہے اور اس کا مقصد قادیانیوں اور مرزائیوں، جو خود کو احمدی کہتے ہیں، کے داخلہ سے حرمین کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے، کیونکہ آئین پاکستان کی رو سے احمدی غیر مسلم ہیں، لیکن وہ خود کو مسلم ظاہر کر کے دھوکے سے حرمین میں داخل ہونا چاہتے ہیں، چنانچہ ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے حج فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ رکھا گیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرِ مرکزیہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا خواجہ عزیز احمد، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، علامہ احمد میاں حمادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر راہنماؤں نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت آئے روز دین دشمنی اور قادیانیت نوازی کے بد ترین اقدامات کر رہی ہے، ختم نبوت کا حلف نامہ انٹری فارم میں درج کیا جائے، واضح رہے کہ ۲۰۱۹ء کے حج کی درخواست فارم میں مندرجات اور عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ ایک ساتھ تھا جو حج درخواست دینے والوں کو فراہم کیا جاتا تھا، وہ پورا فارم پڑھنے کے بعد اور حلف نامے پر دستخط کرنے کے بعد جمع کراتے تھے، اس بار ۲۰۲۰ء کے حج درخواست کے فارم کو پیچیدہ اور دو حصوں میں کر دیا گیا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ پہلی انٹری ہے، اس کو بھرنے کے بعد پھر دوسرے فارم جس پر ختم نبوت کا حلف نامہ ہے، اس پر حاجی کے دستخط کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ایوانوں میں چھپے قادیانیت نواز عناصر کی کاروائی ہے جو کسی بڑے فتنے کی نشاندہی کر رہی ہے، اس لیے کہ یہ حکومت تو اپنی جان چھڑانے کے لیے کہہ رہی ہے کہ دوسرے فارم پر حلف نامہ موجود ہے لیکن آئندہ سالوں میں صرف انٹری درخواست والا فارم حتمی اور آخری بنا کر اس حلف نامے والے فارم کو بالکل ہی ختم کر دیں گے اور دلیل یہ دیں گے کہ گزشتہ سال بھی تو یہی فارم تھا۔

اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ۲۰۱۹ء کا جو حج فارم ہے بعینہٖ بحال رکھا جائے اور ختم نبوت کا حلف نامہ اسی انٹری فارم میں درج کیا جائے تاکہ شروع سے ہی قادیانیوں کی اس مکروہ سازش کا ناطقہ بند ہو جائے۔‘‘

گزشتہ روز انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام چنیوٹ میں منعقدہ سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میں نے اس کے بارے میں عرض کیا کہ یہ تبدیلی کیا ہوئی ہے اور اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے، اس کا تفصیل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیسے ذمہ دار ادارے کا پریس ریلیز کے ذریعے اس پر احتجاج کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ معاملہ بہرحال باعث تشویش ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس سے ہٹ کر اس سے دو متعلقہ سوال حکومت اور قوم کے سامنے ضرور رکھنا چاہوں گا:

  1. ایک یہ کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور یہ جو وقفہ وقفہ سے ختم نبوت کے حوالہ سے اس قسم کی تبدیلیاں سامنے آتی رہتی ہیں اس کے پیچھے کون سے محرکات کارفرما ہیں؟ دستور میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ میں قومی سطح پر متفقہ فیصلہ موجود ہے جس پر ملک کی منتخب پارلیمنٹ کم از کم چار مرتبہ اپنے موقف کا واضح اظہار کر چکی ہے مگر وقتاً فوقتاً اس مسئلہ کو کسی نہ کسی حوالہ سے چھیڑ دیا جاتا ہے جو ملک بھر میں مسلمانوں کی پریشانی کا باعث بن جاتا ہے، آخر ایسا تسلسل کے ساتھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
  2. دوسرا سوال میں نے یہ کیا کہ کیا اب اس بات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ سرکاری محکموں اور قومی اداروں میں کون سے ایسے افراد گھات لگائے بیٹھے ہیں جو عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کے دائرے میں ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں جو ملک کی نظریاتی شناخت اور تہذیبی ماحول کے لیے چیلنج کا درجہ اختیار کر جاتی ہیں۔ ایسے افراد جو پاکستان کے شہری کہلاتے ہیں، پاکستان کے مختلف محکموں اور اداروں کے افسر اور ملازم ہیں مگر کام غیر ملکی ایجنڈے پر کر رہے ہیں اور غیر ملکی این جی اوز کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، ان کو بے نقاب کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت بن گیا ہے اور اب اس سلسلہ میں مزید انتظار کی گنجائش نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں متعدد بار مختلف حلقوں کی طرف سے آواز اٹھائی جا چکی ہے حتیٰ کہ ہمارے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایک بار پوری صراحت کے ساتھ اس کی نشاندہی کر چکے ہیں مگر ان امور پر توجہ دینے کی بجائے انہیں نظرانداز کرتے چلے جانے بلکہ ایسے عناصر کی مسلسل حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری ہے۔

    اس لیے میں حکومت سے گزارش کروں گا کہ اس کا ہر سطح پر سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور ایسے عناصر اور افراد کی نشاندہی کر کے انہیں بے نقاب کیا جائے جو ریاستی اداروں اور سرکاری محکموں کی کمین گاہوں میں بیٹھے غیر ملکی ایجنڈے پر غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ اور اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو سیاسی و دینی جماعتوں کو یہ خدمت سرانجام دینے کے لیے میدان میں آنا ہو گا کیونکہ پاکستان کی نظریاتی شناخت، قومی خود مختاری اور اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے یہ کام بہرحال ضروری ہو گیا ہے۔