انتخابی سیاست اور نفاذ اسلام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر محترم سید منور حسن نے گزشتہ دنوں لاہور میں شباب ملی کے ’’یوتھ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ گولی اور اسلحہ کی طاقت سے نہیں بلکہ صرف انتخابات کے ذریعہ ہوگا اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا صحیح طریقِ کار یہی ہے۔ ہمیں سید صاحب محترم کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ بندوق کی گولی کے ذریعہ اسلام اس ملک میں نہیں آسکتا اور ہم خود بھی اس پر متعدد بار یہ لکھ چکے ہیں کہ ایک مسلمان ریاست میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا جسے فقہی اصطلاح میں ’’خروج‘‘ کہتے ہیں حکمرانوں کی طرف سے ’’کفر بواح‘‘ یعنی کھلے کفر کے اعلان کے سوا شرعاً جائز نہیں ہے اور جب تک ہمارا کوئی حکمران گروہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادوں سے خدانخواستہ صراحتاً انکار نہیں کرتا اس پر ’’کفر بواح‘‘ کا فتویٰ لگا دینا درست نہیں ہے بلکہ اگر ’’خروج‘‘ کے جواز کا کسی درجہ میں ماحول دکھائی دیتا ہو تو بھی اس کے قابل عمل ہونے کو فقہائے احناف نے جواز کی شرائط میں شامل کیا ہے، کیونکہ قابل عمل ہونے کے غالب امکان کے بغیر حنفی فقہاء کسی مسلم حکومت کے خلاف خروج کو بعض دوسری شرائط کے پائے جانے کے باوجود شرعاً درست قرار نہیں دیتے۔ جبکہ پاکستان کے معروضی حالات میں اس کا کسی درجہ میں کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی مسلح گروہ ملک کے کسی حصے پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر سکے اور اس میں اپنی مرضی کا نظام نافذ کر لے۔ اس لیے ہم نے نفاذِ شریعت کے خواہش مند اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے مسلح عناصر سے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ مسلح جدوجہد کا راستہ ترک کر کے پُر امن جدوجہد کا طریقِ کار اختیار کریں اور اس کے لیے جمہور علماء امت کو اعتماد میں لیں۔

جہاں تک ملک میں اسلام کے نفاذ، قرآن و سنت کی دستوری و قانونی بالادستی اور شرعی احکام کی عملداری کی بات ہے تو یہ ملک کے قیام کے مقاصد میں شامل ہے اور اس کی دستور پاکستان نے گارنٹی دے رکھی ہے، مگر اس پر عمل درآمد سے مسلسل اور عمدًا گریز کیا جا رہا ہے اور نفاذِ اسلام کی دفعات سمیت دستورِ پاکستان کے بیشتر حصے یا تو عملاً معطل پڑے ہیں اور یا انہیں ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور سیکولر عناصر اپنے مفادات اور ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کو اس مخمصے اور دلدل سے نکالنے کے لیے بہرحال ایک زبردست قسم کی عوامی جدوجہد کی شدید ضرورت ہے اور اس جدوجہد کی ضرورت اور طریق کار کے حوالہ سے ہم ایک عرصہ سے گزارشات پیش کرتے آرہے ہیں۔

البتہ سید منور حسن صاحب کے اس ارشاد سے ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ نفاذِ اسلام کا راستہ صرف انتخابات ہیں، کیونکہ اس حوالہ سے صرف الیکشن پر انحصار کو ہم وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ اولاً اس لیے کہ پاکستان میں انتخابات کا نظام اس قدر کھوکھلا بلکہ پُر فریب ہے کہ اس کے ذریعہ عوام کے صحیح نمائندوں کا انتخاب ممکن ہی نہیں ہے جس کی شہادت حالیہ انتخابات کے دوران مختلف حلقوں سے ہزاروں کی تعداد میں جعلی ووٹوں کے استعمال کی سرکاری اداروں کی طرف سے توثیق و تصدیق کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ اس لیے الیکشن کے موجودہ نظام اور طریقِ کار کو بنیادی طور پر تبدیل کیے بغیر عام انتخابات میں عوام کی صحیح نمائندہ قیادت کا سامنے آنا محال ہے اور ثانیاً اس لیے کہ ہماری وہ دینی جماعتیں جو قومی سیاست میں شریک ہیں، انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ عام انتخابات میں حصہ لینے اور ان میں کامیابی حاصل کرنے کی پلاننگ ہی نہیں کی۔ چند مواقع سے ہٹ کر عام انتخابات کے مختلف ادوار میں ہماری دینی جماعتوں کا الیکشن میں حصہ لینے کا مقصد صرف اپنے وجود کا اظہار اور تشخص کا تعارف رہا ہے جو عام طور پر سیاسی کی بجائے فرقہ وارانہ ہوتا ہے۔ اس میں بھی مناسب جدوجہد نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات پیش رفت کی بجائے پسپائی ان کا مقدر بن جاتی ہے اور آئندہ بھی اس سے ہٹ کر کسی نتیجہ کی توقع عبث ہوگی۔

ہمارے نزدیک نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا اصل راستہ وہی ہے جو ہمارے بزرگوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی مالٹا کی قید سے واپسی پر ان کی راہ نمائی میں اختیار کیا تھا اور آزادی کی جدوجہد کے لیے پُر امن عوامی سیاسی تحریک کے ذریعہ برطانوی استعمار کے خلاف عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کی صبر آزما محنت کر کے اسے یہاں سے رخصت ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ تحریک خلافت، جمعیۃ علماء ہند، مسلم لیگ اور مجلس احرار اسلام کی تحریکات اس کی زندۂ جاوید تاریخی شہادتیں ہیں اور ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ہم نہ مسلح جدوجہد کے طریقِ کار کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی صرف الیکشن پر قناعت کرنے کو نفاذِ اسلام کی جدوجہد کا درست طریقِ کار سمجھتے ہیں۔

نفاذِ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے، البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ اس سے ہٹ کر صرف انتخابات اور نارمل سیاسی جدوجہد پر اکتفاء کرتے چلے جانا محض خوش فہمی بلکہ خود فریبی کہلائے گا اور اس فریب کے دائرے سے ہماری دینی جماعتیں جس قدر جلد باہر نکل آئیں وہ ان کے لیے اور ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا۔

اس کے ساتھ ایک اور شکوہ کا بھی ہم تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے انتہائی عزیز نوجوان اور غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون عبد الرشید سلّمہ نے پرویز مشرف کیس کے حوالہ سے گزشتہ روز کیا ہے کہ ملک کے علماء نے اس جدوجہد میں ان کا ساتھ نہیں دیا اور اگر علماء کی خاموشی کی وجہ سے پرویز مشرف ملک سے نکل جانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کی ذمہ داری علماء پر ہوگی۔ یہ شکوہ صرف عزیزم ہارون سلّمہ کو نہیں بلکہ قبائلی علاقہ جات کی کالعدم تحریک طالبان سمیت بہت سے دیگر دینی حلقوں کو بھی ہے کہ ملک کے جمہور علماء ان کی دینی جدوجہد میں ان کا ساتھ نہیں دے رہے۔ جبکہ ہمارا تجربہ اس سے مختلف ہے، راقم الحروف کو بھی تحریکی دنیا کا کارکن سمجھا جاتا ہے، درجنوں تحریکوں میں مختلف سطحوں پر متحرک کردار ادا کرنے کی سعادت بحمد اللہ تعالیٰ حاصل کر چکا ہوں اور اسے اپنے لیے باعث نجات سمجھتا ہوں۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ دینی جدوجہد کے جس مرحلہ میں بھی جمہور علماء کرام اور ان کی علمی و فکری قیادتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی مشاورت سے کسی تحریک کا پروگرام طے کیا گیا ہے جمہور علماء بلکہ عوام نے بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیؐ اور شریعت بل کی تحریکات اس پر شاہد ہیں، البتہ ملک کے کسی بھی دینی طبقہ اور جماعت نے کسی بھی دینی جدوجہد کا پروگرام اگر از خود طے کیا ہے، اس کے اہداف، ترجیحات اور طریق کار کے تعین میں جمہور علماء کی قیادتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سب کچھ از خود طے کر کے جمہور علماء کو اپنے پیچھے چلنے کی دعوت دی ہے تو اسے بہرحال مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے اس لیے کہ اگر جمہور علماء دینی جدوجہد کے عنوان سے ہر آواز کی طرف لپکنا شروع کر دیں تو ملک کے عمومی دینی ماحول کی رہی سہی اجتماعیت بھی داؤ پر لگ جائے گی جو کسی طور بھی دین اور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

ہمیں دین کے لیے کسی بھی حوالہ سے جدوجہد کرنے والوں کے خلوص، قربانیوں اور سعی و محنت سے انکار نہیں ہے لیکن ملک کے عمومی دینی ماحول کا تعاون حاصل کرنے کے لیے جمہور علماء کرام بلکہ مختلف مکاتب فکر کی دینی، علمی اور فکری قیادتوں کو جدوجہد کے مقاصد، ترجیحات اور طریقِ کار کے بارے میں اگر اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تو ان سے عدم تعاون کا شکوہ کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہوگا۔