۸ مارچ کا مبینہ ’’خواتین مارچ‘‘ اور حکومت کی ذمہ داری

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ مارچ ۲۰۲۰ء

۸ مارچ کو اسلام آباد میں خواتین کی بعض تنظیموں کی طرف سے عوامی مارچ کے اعلان کے بعد سے اس بارے میں اخبارات اور سوشل میڈیا میں خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ سال ہونے والی ریلی کی فری اسٹائل کیفیت بالخصوص ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے سلوگن کے تناظر میں مختلف نوعیت کے جذبات و احساسات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک خواتین کے حقوق اور ان کے لیے دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی جدوجہد اور عوامی مظاہرے کا تعلق ہے ان کے اس حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر حقوق کے تعین کے دائرے اور اساس کو واضح کیے بغیر محض مغربی ثقافت کی نقالی اور ’’فری اسٹائل کلچر‘‘ کے فروغ کی کوششوں کو آزادی اور حقوق کے نام پر قبول کرنا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی بھی شہری کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ پاکستان کا دستور و قانون ملک کے معاشرے اور سوسائٹی کو اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار و روایات کا پابند قرار دیتا ہے اور اس سے انحراف کی کوئی بھی کوشش ملک کے دستور اور نظریاتی اساس کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

گزشتہ روز ۲ مارچ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے چند سرکردہ علماء کرام کے ساتھ مولانا عمران جاوید سندھو کی رہائشگاہ پر اس سلسلہ کی ایک مشاورت میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا جو اس حوالہ سے خاصے متفکر اور متحرک ہیں۔ ان میں مولانا عمران سندھو کے علاوہ مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا تنویر علوی، مولانا مفتی محمد سعد سعدی، مولانا قاری سہیل احمد عباسی، مفتی امیر زیب، مولانا خلیق احمد چشتی، مولانا عبد الوحید اور دیگر بہت سے علماء کرام شامل ہیں۔ جبکہ اسی روز ان علماء کرام نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم ڈاکٹر قبلہ ایاز سے ملاقات کر کے انہیں اپنے جذبات سے آگاہ کیا اور ان سے اس سلسلہ میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

راقم الحروف نے اس مشاورت میں عرض کیا کہ علماء کرام کی یہ کاوش انتہائی ضروری اور قابل قدر ہے جسے مسلسل جاری رہنا چاہیے مگر اس میں دیگر طبقات بالخصوص وکلاء، اساتذہ اور تاجر حضرات کو بھی شریک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دین و عقیدہ کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت اور خاندانی نظام کے تحفظ کا معاملہ ہے جو نہ صرف پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے بلکہ دستور و قانون کی پاسداری کا مسئلہ بھی ہے، جس کا تحفظ اور عملداری پر ہر طبقہ اور ادارہ کی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ اگلے روز ۳ مارچ کو اسلام آباد کے علماء کرام اور وکلاء کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کے فیصلہ کے مطابق ان علماء کرام نے مرزا محمد نزاکت بیگ ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ) اور حافظ ملک مظہر ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور چیف کمشنر سے ملاقات کر کے انہیں عوام کے احساسات سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ دستور و قانون اور ملک کے نظریہ و تہذیب اور خاندانی نظام کی پاسداری ریاستی اداروں اور افسروں کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے کے لیے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسلامی نظریاتی کونسل، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد علماء کرام اور وکلاء کی اس درخواست پر کیا کردار ادا کرتے ہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا، مگر دو باتوں پر ہم اطمینان کا اظہار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

  • ایک یہ کہ علماء کرام نہ صرف متفکر ہیں بلکہ متحرک بھی ہیں جو ان کے دینی اور معاشرتی فرائض کا تقاضہ ہے۔
  • اور دوسری یہ کہ علماء کرام اور وکلاء نے مشترکہ محنت کا آغاز کیا ہے۔

ہم ایک عرصہ سے گزارش کرتے آ رہے ہیں کہ ملک میں دستور و قانون کی پاسداری اور عملداری کی جدوجہد علماء کرام اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کے لیے دونوں طبقوں کا ہر سطح پر متحد ہو کر کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ اس لیے ہم اسلام آباد کے علماء کرام اور وکلاء کی اس کاوش کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملک بھر کے وکلاء اور علماء کرام سے درخواست کریں گے کہ وہ اس قسم کا ماحول ہر سطح پر اور ہر شہر میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اس موقع پر ہم وزیراعظم جناب عمران خان کے ایک پرانے مضمون کا حوالہ دینا چاہیں گے جو ’’خاندانی نظام کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ جنگ لندن میں ۱۵ دسمبر ۱۹۹۵ء کو شائع ہوا تھا اور ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ نے جنوری ۱۹۹۷ء کے دوران ’’اسلام کا خاندانی نظام اور مغربی ثقافت‘‘ کے عنوان سے اپنی خصوصی اشاعت میں یہ مکمل مضمون شائع کیا تھا۔ ایک سو صفحات پر مشتمل الشریعہ کی یہ خصوصی اشاعت مولانا محمد سرفراز خان صفدر،ؒ، مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی محمودؒ، ارشاد احمد حقانی مرحوم اور جناب عمران خان کے گرانقدر مضامین پر مشتمل ہے اور ویب سائیٹ alsharia.org/mujalla/1997 پر دستیاب ہے۔ اس مضمون میں عمران خان برطانوی معاشرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’جب نوجوانوں نے بزرگوں کے خلاف بغاوت کر دی اور یوں خود کو اس حکمت سے محروم کر دیا جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اس کا فوری نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ برائی فیشن کا حصہ بن گئی، منشیات، آزاد جنسی، تعلقات، عیاشی اور بدکاری رواج پا گئے، طلاق کی شرح میں اضافہ ہو گیا اور گھریلو ناچاقیاں انتہا کو پہنچ گئیں۔ اس موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ذرائع ابلاغ ہیں جو بے راہ روی پھیلا رہے ہیں۔‘‘

یہ اس طویل مضمون کا صرف ایک اقتباس ہے جس میں انہوں نے مغربی تہذیب کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان سے یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ یہی صورتحال اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہمارے خیال میں ۸ مارچ کا مجوزہ ’’خواتین مارچ‘‘ بھی اسی ایجنڈے کا حصہ نظر آتا ہے۔

۸ مارچ کو ہونے والی یہ ریلی اگر عقیدہ و ثقافت، دستور و قانون اور پاکستان کی تہذیبی روایات و اقدار کی پابندی قبول کرتی ہے اور اس کے اہتمام کی ضمانت دیتی ہے تو ہم متعلقہ تنظیموں کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اگر اس کا مقصد قوم کی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ ملک کی نظریاتی اساس اور اسلامی شناخت کو سبوتاژ کرنا ہے تو اسے روکنا ریاستی اداروں اور حکومتی حلقوں کی ذمہ داری ہے، ورنہ وہ بھی اس مکروہ عمل کی مسئولیت سے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔