راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ نومبر ۲۰۱۳ء

دس محرم الحرام کا دن امید و یاس کی کیفیت میں گزارنے کے بعد رات کو بستر پر لیٹا تو خوشی اور اطمینان کے تاثرات ذہن و قلب پر غالب تھے اور مطمئن تھا کہ جو دن بہت سے خطرات و خدشات جلو میں لیے صبح طلوع ہوا تھا وہ کم از کم ہمارے شہر میں امن و سکون کی کیفیت کے ساتھ گزر چکا ہے، اس لیے بھی کہ محرم الحرام کے آغاز میں گوجرانوالہ کی ایک امام بارگاہ میں تین افراد ایک حملہ میں جاں بحق ہو چکے تھے اور ۱۰ محترم جمعۃ المبارک کے روز ہونے کی وجہ سے بد اَمنی کے امکانات زیادہ نظر آرہے تھے۔ مگر صبح نماز فجر کے لیے اٹھا تو موبائل فون کی سکرین پر موجود اس میسج نے سارا سکون غارت کر دیا جس میں سانحہ راولپنڈی کے وقوع کی خبر دی گئی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے احباب سے فون پر رابطہ شروع کیا تو سبھی فون بند ملے حتیٰ کہ سارا دن کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کیا ہوا ہے اور تازہ صورت حال کیا ہے؟

دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ملک کے اہم ترین علمی اداروں اور دینی مراکز میں سے ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ جاریہ اور ان کی یادگار ہے۔ دینی تحریکات کا مرکز چلا آرہا ہے اور توحید و سنت کی اشاعت و فروغ کا داعی ہے۔ اس کے بارے میں موبائل فون کے پے در پے اضطراب انگیز پیغامات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہے تھے۔ جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا جس سے اصل صورت حال معلوم کی جا سکے۔

ظہر کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما حافظ شیخ نذیر احمد کی اہلیہ محترمہ کے جنازے میں بہت سے علماء اور تاجر راہنماؤں سے ملاقات ہوئی، سب بے چین تھے اور ان کا تقاضہ تھا کہ فوری طور پر علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کا اجلاس بلا کر کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔ شہری یا قومی سطح پر اس قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو علماء کرام، تاجر راہنماؤں اور دیگر شہریوں کو اکٹھا کرنے کی سعادت بحمد اللہ تعالیٰ ہمارے حصہ میں ہی آتی ہے۔ اس لیے سب دوستوں کا رُخ میری طرف تھا، مگر میرے لیے مشکل یہ تھی کہ جب تک صحیح صورت حال معلوم نہ ہو جائے کسی اجلاس میں ہم آخر کیا طے کر پائیں گے؟ شہر میں ہر طرف بے چینی تھی اور دینی راہنماؤں اور کارکنوں کے چہروں سے ان کے اندرونی غم و غصہ کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی رابطے شروع کر دیے اور معلوم کرنا چاہا کہ ہم اس المناک سانحہ پر کیا رد عمل ظاہر کریں گے؟ میں نے ان سے کہا کہ جتنا بڑا المیہ ہوا ہے ہم اس پر خاموش تو نہیں رہیں گے اور اسی کے مطابق اپنے جذبات کا اظہار ضرور کریں گے۔ البتہ آپ مطمئن رہیں کہ ہمارا اِحتجاج قانون اور امن کے دائرے میں رہے گا اور ایک سانحہ پر احتجاج کرتے ہوئے کسی دوسرے سانحہ کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اس فضا میں اتوار کو گیارہ بجے مرکزی جامع مسجد میں شہر کے علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کی صدارت مدرسہ اشرف العلوم کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم اللہ نے کی اور اس میں مختلف تاجر تنظیموں کے سرکردہ راہنماؤں کے علاوہ مولانا محمد ریاض خان سواتی، مولانا عبد الواحد رسول نگری، مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا نصر اللہ خان راشد، مولانا سید غلام کبریا شاہ، حافظ محمد صدیق نقشبندی، مولانا ارشد حمیدی، مفتی منصور احمد، حاجی شاہ زمان، مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور مولانا جواد قاسمی، جبکہ تاجر راہنماؤں میں حاجی نذیر احمد جموں والے، سیٹھ ذوالفقار، میاں فضل الرحمن چغتائی، میاں محمد اکرم، مرزا محمد سلیم اور جناب فضل الرحمن بابر کھرانہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ راقم الحروف نے بھی موقع کی مناسبت سے اجلاس میں اپنی گزارشات پیش کیں۔

جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ اس اجلاس کی داعی تھی اور اس کے صدر حاجی عثمان عمر ہاشمی اور سیکرٹری جنرل چودھری بابر رضوان باجوہ نے اجلاس کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کی۔ اجلاس میں اس وقت تک معلوم ہونے والی صورت حال کے مطابق مقررین نے اپنے جذبات و تاثرات کا اظہار کیا جن میں غم و غصہ اور اضطراب و بے چینی کا پہلو نمایاں تھا۔ اور اس حوالہ سے سامنے آنے والی دہشت گردی اور درندگی پر ہر شخص نفرت و غصہ کا اپنے اپنے انداز میں بھرپور اظہار کر رہا تھا۔ مگر ایک بات سب راہنماؤں کی زبانوں پر مشترک تھی کہ امن عامہ کے لیے بد اَمنی اور تباہی کا باعث بننے والے مذہبی جلوسوں کو عام شاہراہوں اور گلیوں بازاروں میں لانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس پر حکومت کو بہرحال نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ایسے جلوس اگر عبادت ہیں تو انہیں عبادت گاہوں تک محدود کر دینے کی ضرورت ہے اور اس طرح ہر سال سیکیورٹی کے نام پر پورے قومی نظام اور سرکاری اداروں کو مسلسل ایک عشرے تک معطل کیے رکھنا کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں کوئی واضح حکمت عملی طے کرے اور امن عامہ کے لیے خطرہ بن جانے والے جلوسوں کو چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔

مقررین نے اس بات پر بھی شدید احتجاج کیا کہ ایک طرف راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل ہے اور کرفیو کے باعث لوگوں کا متاثرہ علاقہ سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے ۔ دوسری طرف سرکاری اداروں اور میڈیا نے ملک کے شہریوں تک صحیح معلومات پہنچانے کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا بلکہ معمولی واقعات کو ملک گیر مسئلہ بنا دینے والے میڈیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے غلط خبروں اور افواہوں کے فروغ کے باعث عوام کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی دیگر شہروں میں بھی امن عامہ کی صورت حال بگڑ گئی ہے۔

اجلاس میں طے پایا کہ اس سلسلہ میں ۲۰ نومبر بدھ کو ایک بجے دن مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ایک مشترکہ احتجاجی کنونشن منعقد ہوگا جس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر تنظیموں کے راہنما خطاب کریں گے اور سانحۂ راولپنڈی کے حوالہ سے اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جوڈیشل انکوائری کو جلد از جلد مکمل کرا کے اس کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور جوڈیشل انکوائری میں سانحۂ راولپنڈی کے ساتھ ساتھ اس قسم کے فرقہ وارانہ تصادم و اشتعال کا باعث بننے والے اسباب و عوامل کو بھی زیر بحث لایا جائے۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ دارالعلوم تعلیم القرآن، جامع مسجد اور مارکیٹ کی سرکاری خرچ پر از سرِ نو تعمیر کی جائے اور شہداء و زخمیوں کے خاندانوں کو معقول مالی امداد دی جائے۔