پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۵ء

فرانسیسی جریدہ میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت کے بعد جہاں مغربی ممالک کے حکمران آزادئ رائے کے نام پر اس گستاخانہ طرز عمل کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں وہاں مسیحی دنیا کے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسِس نے یہ بیان دے کر معقولیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور توہین کا آزادئ رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی میرے سامنے میری ماں کی توہین کرے تو اسے میرے مُکے کی توقع کرنی چاہیے۔

ہم ایک عرصہ سے یہی گزارش کرتے آرہے ہیں کہ توہین کسی شخص کی بھی کی جائے اس کا شمار جرائم میں ہوتا ہے، اسے آزادئ رائے کے نام سے حقوق کی فہرست میں شامل کر لینا صریحاً نا انصافی اور دھاندلی ہے، مگر مغربی ثقافت و فلسفہ کے علمبردار توہین رسالت کے اس مکروہ و مذموم مشغلہ کو آزادئ رائے کا عنوان دے کر اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ پاپائے روم نے یہ بیان دے کر حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے اور ان کا یہ کہنا بھی ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے کہ ان کے سامنے ان کی والدہ محترمہ کی توہین کرنے والے کو ان کی طرف سے سخت ردعمل ہی کی توقع کرنی چاہیے کیونکہ اپنے بزرگوں کی توہین کو برداشت نہ کرنا اور اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرنا بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے ہم مغربی حکومتوں سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جانبدارانہ رویہ ترک کر کے انصاف پسندی کا ثبوت دیں اور عالمی سطح پر مذاہب کے پیشواؤں بالخصوص انبیاء کرامؑ کی توہین کو جرم قرار دلوانے کے لیے قانون سازی کا اہتمام کریں کیونکہ اسی صورت میں اس حساس مسئلہ کا کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔

درجہ بندی: