تزکیہ و تربیت اور اسوۂ رسولؐ

   
تاریخ بیان: 
۲۵ جون ۲۰۰۳ء

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سیرت اسٹڈی سنٹر سیالکوٹ کینٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الجبار شیخ صاحب اور ان کے رفقاء کا شکر گزار ہوں کہ آج کی اس محفل میں حاضری اور آپ دوستوں کے ساتھ ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالٰی جزائے خیر سے نوازیں اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

سیرت اسٹڈی سنٹر کے بارے میں کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور دیکھنے کا اشتیاق بھی تھا مگر ہر کام کا اللہ تعالٰی کی طرف سے وقت مقرر ہے، آج اس کا موقع ملا ہے اور سنٹر کی عمارت اور سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ ایک اچھی لائبریری موجود ہے، طالبات کی ایم اے اسلامیات کی کلاس جاری ہے، طالبات ہی کے لیے عربی زبان، ترجمہ قرآن کریم اور سنت و سیرت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ٹریننگ کا تین سالہ کورس آخری سال میں ہے جس میں سو کے لگ بھگ طالبات شریک ہیں، اور آج آپ حضرات کے سامنے دو بچوں نے حفظ قرآن کریم کا پہلا سبق مجھ سے پڑھا ہے جس کے ساتھ سنٹر میں حفظ قرآن کریم کی کلاس کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیسر عبد الجبار شیخ صاحب نے اعلان کیا ہے کہ سنٹر کی طرف سے عام لوگوں تک سیرت نبویؐ کا پیغام پہنچانے کے لیے عمومی مہم شروع کرنے کا پروگرام ہے اور اس کے آغاز کے طور پر اس سیرت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ یہ ’’سیرت اسٹڈی سنٹر‘‘ سیالکوٹ کے ایوان صنعت و تجارت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے اور اس کے انتظامات و اخراجات کا اہتمام سیالکوٹ کی تاجر اور صنعتکار برادری چیمبر کے ذریعے کر رہی ہے، سچی بات ہے کہ مجھے اس پر اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ میں الفاظ میں اس کا اظہار کرنے سے قاصر ہوں اور سیالکوٹ کے تاجر اور صنعتکار حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کار خیر کے ذریعے اپنے ذخیرۂ آخرت میں ہی اضافہ نہیں بلکہ ملک کے دوسرے شہروں کے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے بھی ایک لائق تقلید نمونہ پیش کیا ہے، خدا کرے کہ دوسرے شہروں کے ایوان ہائے صنعت و تجارت بھی اس طرح کے کار خیر کر کے سیالکوٹ چیمبر کے نقش قدم پر چلیں۔

مجھے گفتگو کے لیے جو عنوان دیا گیا ہے وہ ہے ’’تزکیہ و تربیت اور اسوہ رسولؐ‘‘۔ یعنی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرہ کی اصلاح اور انسانوں کی تربیت و تزکیہ کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا اور نسل انسانی کو وہ کون سا پیغام دیا جس کے نتیجے میں صرف تئیس سال کے عرصہ میں عربوں کا بگڑا ہوا معاشرہ پوری نسل انسانی کے لیے ایک مثالی اور آئیڈیل سوسائٹی کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اس سلسلہ میں بہت کچھ عرض کیا جا سکتا ہے لیکن وقت کے اختصار کے باعث جناب نبی اکرمؐ کے اسوۂ و سیرت اور پیغام و مشن کے حوالہ سے صرف ایک پہلو پر مختصر گزارشات پیش کروں گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دنیا کے سامنے اپنا پیغام پیش کیا اس وقت دنیا دو انتہاؤں کا شکار تھی۔ ایک طرف اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے آخرت اور موت کے بعد کی زندگی سے بے پروا ہو کر انسانی سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ اپنے مالک اور خالق کے حقوق سے بیگانہ ہو چکا تھا اور من مانی زندگی بسر کر رہا تھا، اور دوسری طرف دنیا کی ہر چیز سے کنارہ کش ہو کر رہبانیت کی زندگی گزاری جا رہی تھی۔ نبی کریمؐ نے ان دونوں انتہاؤں کی نفی کی اور کہا کہ انسان کی اصل زندگی توازن میں ہے اور اسے اپنے مالک اور اس کے بندوں کے ساتھ تعلقات اور حقوق میں بیلنس قائم رکھنا چاہیے۔ خدا کی عبادت میں مگن ہو کر بندوں کے حقوق سے غافل ہو جانا بھی درست نہیں ہے، اور بندوں کے حقوق اور معاملات میں الجھ کر خدا کی بندگی سے غافل ہو جانا بھی غلط بات ہے۔ یہ دونوں انتہا پسندانہ اور یکطرفہ سوچیں ہیں اور ’’ون وے ٹریک‘‘ ہیں جو فطرت کے خلاف ہے، انسانی زندگی کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس لیے انسان کو اللہ تعالٰی کی عبادت اور انسانی معاشرہ میں باہمی حقوق کی ادائیگی دونوں کی طرف توجہ دینی چاہیے اور دونوں کے حقوق پورے کرنے چاہئیں۔

اس سلسلہ میں بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں اس توازن اور بیلنس کو بہت بہتر انداز میں واضح کیا گیا ہے۔ امام بخاریؒ اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسیؓ جب مدینہ منورہ میں یہودیوں کی غلامی سے نجات حاصل کر کے مسلمان برادری میں شامل ہوئے تو ان کی حیثیت مہاجر کی تھی، اس لیے مواخاۃ کے طریقہ کے مطابق آنحضرت نے انہیں ایک انصاری صحابی حضرت ابو الدرداءؓ کا بھائی بنا دیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ عمر رسیدہ بزرگ تھے، چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا ارشاد ہے کہ ان کی عمر کے بارے میں سب سے محتاط روایت یہ ہے کہ انہوں نے اڑھائی سو برس کی عمر پائی، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو وہ دو سو سال سے تجاوز کر چکے تھے۔ وہ پہلے مجوسی تھے، پھر عیسائی ہوئے، ایک لمبا عرصہ باخدا مسیحی پادریوں کے ساتھ گزارا، ایک خدا ترس عیسائی عالم کی ترغیب پر نبی آخر الزمان کی تلاش میں نکلے، اور خوش قسمتی سے ایک یہودی خاندان کے ہتھے چڑھ کر مدینہ منورہ جا پہنچے۔ تجربہ کار بزرگ تھے، جہاندیدہ تھے، اس لیے جب حضرت ابو الدرداءؓ کے بھائی بن کر ان کے گھر پہنچے تو پہلی نظر میں ہی گھر کا ماحول دیکھ کر انہوں نے محسوس کر لیا کہ میاں بیوی میں میاں بیوی والا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ گھر میں عورت موجود ہو اور گھر سے اس کی دلچسپی قائم ہو تو اس کا وجود گھر میں نظر آتا ہے اور آنے جانے والوں کو پتہ چلتا ہے کہ اس گھر میں کوئی عورت رہتی ہے۔ گھر کی صفائی، پردے، زیب و زینت اور خود بن سنور کر رہنا خاوند والی عورت کی فطرت ہے۔ مگر حضرت سلمان فارسیؓ نے گھر میں یہ ماحول نہ دیکھا تو محسوس کر لیا کہ کوئی گڑبڑ ہے، بڑے تھے اور بزرگ تھے اس لیے بھاوج سے پوچھ ہی لیا کہ اپنی یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ حضرت ام الدرداءؓ نے جواب دیا کہ میں زیب و زینت کس کے لیے کروں اور اچھے کپڑے کس کے لیے پہنوں؟ آپ کے بھائی کو تو ان معاملات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔

حضرت سلمان فارسیؓ سمجھ گئے کہ میاں بیوی میں ’’انڈر اسٹینڈنگ‘‘ نہیں ہے، تھوڑی دیر گزری، دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت ابو الدرداءؓ نے دستر خوان بچھایا اور کھانا رکھ کر حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا کہ کھانا تناول فرمائیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ بھی آئیں تو جواب دیا کہ میں روزے سے ہوں اور بلاناغہ روزہ رکھتا ہوں۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے اصرار کیا کہ آپ کھانے میں شریک ہوں گے تو میں کھاؤں گا ورنہ میں بھی نہیں کھاتا۔ حضرت ابو الدرداؓ کو اپنے بھائی اور مہمان کی خاطر روزہ توڑنا پڑا، نفلی روزہ تھا جو مہمان کی خاطر توڑا جا سکتا ہے، دونوں بزرگوں نے کھانا کھایا۔ شام کا وقت ہوا تو رات کا کھانا کھایا۔ اور عشاء کے بعد حضرت ابو الدرداءؓ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے لیے بستر بچھایا اور آرام کرنے کے لیے کہا، انہوں نے پوچھا کہ آپ کا پروگرام کیا ہے؟ جواب دیا کہ میں رات بھر عبادت کیا کرتا ہوں، سلمان فارسیؓ نے کہا کہ بستر لائیے اور آپ بھی آرام کیجئے، انہوں نے بتایا کہ میرا معمول رات کو عبادت کا ہے، تو حضرت سلمان فارسیؓ نے اصرار کر کے ان کا بستر لگوایا اور کہا کہ تھوڑی دیر آرام کریں، دونوں بزرگ لیٹ گئے، تھوڑی دیر گزری تو حضرت ابو الدرداءؓ اٹھے تاکہ عبادت میں مشغول ہوں تو حضرت سلمان فارسیؓ نے پھر آواز دی کہ ابھی وقت نہیں ہوا، اس لیے ابھی آرام کریں۔ حضرت ابو الدرداؓ پھر لیٹ گئے، جب آدھی رات کا وقت گزر گیا اور سحری کا وقت ہوا تو حضرت سلمان فارسیؓ اٹھے، حضرت ابو الدرداءؓ کو اٹھایا اور کہا کہ اب عبادت کا وقت ہے، اٹھیں اور عبادت کریں۔ دونوں بزرگوں نے تہجد کی نماز پڑھی اور پھر حضرت سلمان فارسیؓ نے بڑے پیار سے اپنے بھائی کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ:

’’ان لربک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا، ولنفسک علیک حقا، ولعینیک علیک حقا، ولزورک علیک حقا، فاعط کل ذی حق حقہ‘‘ تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے، تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، اور دین اس کا نام ہے کہ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔

یہ کہہ کر کہا کہ اب ہم چلتے ہیں تاکہ فجر کی نماز مسجد نبویؐ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کریں۔ دونوں حضرات گئے، نماز فجر ادا کی اور حضرت ابو الدرداءؓ نے حضورؐ کے سامنے ساری داستان بیان کر دی کہ کس طرح بھائی نے کل روزہ تڑوا دیا، رات کو عبادت نہیں کرنے دی، اور صبح یہ نصیحت کی ہے۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے سارا قصہ سن کر صرف ایک مختصر جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’صدق سلمان‘‘ سلمانؓ نے سچ کہا ہے۔ گویا نبی اکرمؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ کی پوری کاروائی کی تصدیق فرما دی اور یہ بتایا کہ دین کا جو مفہوم حضرت سلمان فارسیؓ نے بیان کیا ہے وہی صحیح ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی عبادت سے بھی غافل نہ ہو اور بندوں کے حقوق سے بھی بے پرواہ نہ ہو، دونوں کے حقوق اپنے اپنے وقت پر ادا کرنا دین کا تقاضا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت ہے۔

ہمارے ایک بزرگ گزرے ہیں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، ان کے بارے میں سنا ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں ریلوے سٹیشن پر کہیں جانے کے لیے گاڑی پر سوار ہو جاؤں، ایک پاؤں گاڑی میں ہو اور دوسرا باہر ہو، گاڑی روانگی کے لیے وسل دے دے، اور اس وقت مجھ سے کوئی پوچھے کہ احمد علیؒ! دین کا خلاصہ ایک جملے میں بیان کرو تو میں بیان کر دوں گا اور کہوں گا کہ سارے دین کا خلاصہ یہ ہے کہ

’’اپنے رب کو عبادت سے، رسولؐ کو اطاعت سے، اور مخلوق خدا کو خدمت سے راضی کرو‘‘۔

بس اسی کا نام دین ہے، یہی انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا نچوڑ ہے، اور یہی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت کا خلاصہ ہے۔ حضرات محترم! آج پھر دنیا ’’ون وے ٹریک‘‘ پر چڑھ گئی ہے، آخرت کو بھلا دیا گیا ہے، اس دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے، سوسائٹی حرف آخر بن گئی، اور اللہ تعالٰی کی بندگی، حقوق اور احکام انسانی زندگی سے نکلتے جا رہے ہیں۔ اس لیے آج حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیرت و سنت کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ لوگو! آپس کے حقوق کی طرف ضرور توجہ دو اور انہیں بھی ادا کرو، لیکن اس سے پہلے پیدا کرنے والے کے حقوق ہیں ان کا بھی خیال کرو، اور یکطرفہ زندگی چھوڑ کر توازن کی طرف آؤ، بیلنس قائم کرو، اور خدا اور بندوں دونوں کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرو، خدا کرے کہ ہم سیرت نبویؐ کے اس پیغام کو سمجھ سکیں اور انسانی سوسائٹی کو اس روح پرور پیغام سے روشناس کرانے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔