اور اب دینی سرگرمیوں پر پابندی !

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ فروری ۲۰۱۶ء

ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی جدوجہد میں حکومت سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور ہر سطح پر اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی دینی حلقوں میں یہ احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ اس سلسلہ میں وہ امتیازی سلوک کا نشانہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یوں نظر آتا ہے کہ اس ایکشن پلان کا بڑا ہدف دینی جماعتوں کی سرگرمیوں کو روکنا اور انہیں کارنر کرنا ہے۔ اور اس کے لیے قانونی و غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے خلاف ایکشن میں تعاون کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جا رہا اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔

ضلع گوجرانوالہ کی حد تک یہ احساس اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ۵ فروری کو ’’یوم یک جہتی کشمیر‘‘ کے موقع پر بعض عوامی ریلیوں کو صرف اس لیے پولیس کے ذریعہ روکنے کی کوشش کی گئی کہ ان کا اہتمام بعض دینی جماعتوں کی طرف سے کیا گیا تھا، جبکہ اس سے دو روز بعد ۷ فروری کو نیو سبزی منڈی بائی پاس روڈ کے قریب ایک دینی مدرسہ جامعہ قاسمیہ میں تحفظ ختم نبوت اور یک جہتی کشمیر کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار پر پابندی لگا دی گئی۔ حالانکہ یہ سیمینار چار دیواری کے اندر اور مسجد کی حدود میں منعقد ہو رہا تھا مگر ایک روز قبل ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کہہ دیا گیا کہ اس سیمینار کے انعقاد کی اجازت نہیں ہے۔ اس سیمینار سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور راقم الحروف نے خطاب کرنا تھا، چنانچہ اسے منسوخ کر دیا گیا اور مولانا اللہ وسایا کو گوجرانوالہ تشریف آوری کے بعد خطاب کیے بغیر واپس جانا پڑا۔

اس کاروائی نے دینی حلقوں کو دو حوالوں سے بطور خاص مضطرب اور بے چین کر دیا ہے، ایک یہ کہ دینی راہ نماؤں کو اب آزادیٔ کشمیر اور تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ مسجد کی حدود کے اندر کوئی محدود اجتماع بھی ضلعی انتظامیہ کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ حالانکہ ہمارے ہاں یہ روایت چلی آرہی ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ قائم رہے گی کہ چار دیواری کے اندر اور مسجد کی حدود میں منعقدہ کسی اجتماع کے لیے اجازت نہیں لی جاتی۔ البتہ اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز مسجد اور چار دیواری کی حدود سے باہر نہ جائے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں گزشتہ نصف صدی سے یہ روایت قائم ہے کہ ہم کسی بھی اجتماع کے لیے بالائی لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں کرتے اور آواز کو چار دیواری کے اندر محدود رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ کسی اجتماع کے لیے اجازت لینے کے بھی ہم کبھی روادار نہیں رہے۔ البتہ جامعہ قاسمیہ کا مذکورہ پروگرام صرف اس لیے منسوخ کر دیا گیا کہ ہم موجودہ حالات میں انتظامیہ کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے مگر اس کا بہت غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

اس پس منظر میں جمعیۃ علماء اسلام (ف)، جمعیۃ علماء اسلام (س)، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، جماعت اسلامی، جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، مجلس احرار اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت، پاکستان شریعت کونسل، جماعت اہل سنت، جمعیۃ اہل سنت اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہ نماؤں کے دو مشترکہ اجلاس مرکزی جامع مسجد میں ہو چکے ہیں جن میں طویل مشاورت کے بعد تمام راہ نماؤں نے ایک مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس میں اپنے فیصلوں کا اعلان کیا جس کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

’’گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہ نماؤں نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالہ سے دینی مدارس، کارکنوں اور راہ نماؤں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کے طور پر رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے ’’متحدہ علماء ایکشن کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے کنوینر مولانا حافظ محمد عمران عریف اور سیکرٹری چودھری بابر رضوان باجوہ ہوں گے اور ان کے ساتھ تمام مکاتب فکر کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کونسل قائم کی گئی ہے۔ ۱۰ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں متحدہ علماء ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد سعید کلیروی، مولانا حافظ محمد عمران عریف، مولانا اظہر حسین فاروقی، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا شبیر احمد صدیقی، علامہ کاظم علی ترابی، حافظ ابرار احمد ظہیر، چودھری بابر رضوان باجوہ، جناب فرقان عزیز بٹ، اور دیگر راہ نماؤں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کے باوجود دینی اداروں اور شخصیات کو قانون اور آئین سے ماوراء کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور دینی مدارس پر بے نتیجہ چھاپوں کے ساتھ ساتھ علماء اور کارکنوں کو اٹھا کر خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔ جبکہ دینی اقدار و روایات پامال کرنے والے عناصر کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں ایک دینی مدرسہ جامعہ قاسمیہ کی چار دیواری کے اندر تحفظ ختم نبوت اور یک جہتی کشمیر کے عنوان پر سیمینار کے انعقاد کو روک دیا گیا اور کشمیر کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے مختلف دینی جماعتوں کی ریلیوں کو پولیس کے ذریعہ روکنے کے لیے کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت، ناموس رسالتؐ، اور آزادیٔ کشمیر ہمارے متفقہ قومی مسائل ہیں۔ ان کے حوالہ سے قانون کی حدود میں کی جانے والی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں دینی جماعتوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک قابل قبول نہیں ہوگا اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ و پاسداری کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس حوالہ سے پنجاب کی صورت حال کا بطور خاص نوٹس لیا جائے، کیونکہ دینی اداروں اور شخصیات کے خلاف اس قسم کی کاروائیوں کی صورت حال دوسرے صوبوں میں عام طور پر نہیں پائی جاتی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ۲۰ فروری بروز ہفتہ حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں بعد نماز ظہر احتجاجی کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہ نما خطاب کریں گے اور ’’متحدہ علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔