برما کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم اگست ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہنگامی حالت کے باوجود بودھ راہبوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے۔ رواں سال مئی کے آخر میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا برادری کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرے۔ ادھر مسلم ممالک کے عالمی فورم او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) نے بھی برما کے اس خطہ کے مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ اگلے ماہ مکہ مکرمہ میں او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جا رہا ہے جس میں برما کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ زیر بحث آئے گا۔

ہم کچھ عرصہ قبل اس کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ برما کی بنگلہ دیش کے ساتھ لگنے والی پٹی جو اراکان کہلاتی ہے اور جس میں روہنگیا قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے ملک کی بودھا اکثریت کے معاندانہ رویہ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کی شہادت کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر مختلف ممالک میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں ان کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور پاکستان میں بھی کراچی اور دوسرے کئی شہروں میں اراکانی مسلمان پناہ گزین کے طور پر رہ رہے ہیں۔

اراکان کسی زمانے میں ایک آزاد مسلم ریاست کی حیثیت سے اس خطہ کے نقشہ پر متعارف تھا اور یہاں صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، لیکن جب سے اسے برما میں شامل کیا گیا ہے اس علاقہ کے مسلمان مسلسل مظالم کا شکار ہیں۔ ان پر ہونے والے جبر و تشدد اور مظالم کی وجہ نسلی بھی ہے کہ روہنگیا نسل کے لوگوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ نسل کشی اور نقل مکانی کے ذریعے اراکان میں ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے، اور اس سے بھی زیادہ یہ وجہ مذہبی ہے کہ نفرت اور تشدد کا نشانہ بننے والے لوگ مسلمان ہیں اور جبر اور مظالم کا نشانہ بنانے کے علاوہ انہیں بنیادی شہری اور مذہبی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے بیشتر مدارس بند کر دیے گئے ہیں اور مساجد میں آزادانہ عبادت ان کے لیے دشوار کر دی گئی ہے حتٰی کہ ان کے خاندانی معاملات اور نکاح و طلاق و وراثت کے مسائل میں بھی ان کے لیے اپنے مذہبی احکام پر عملدرآمد کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے بلکہ کئی عشروں سے جاری ہے اور مختلف مراحل سے گزر چکا ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ عالمی فورم پر ان کے حق میں اب تک کسی کو آواز اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی اور ہمارے مشاہدہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت پاکستان، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر حکومتوں اور عالمی اداروں کی زبانوں پر برما کے اراکانی مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر سننے میں آرہا ہے۔

ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ان مظالم کی نسبت مسلّمہ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق بودھ راہبوں کی طرف کی جا رہی ہے جنہیں عام طور پر دیگر مذہبی راہنماؤں کے مقابلہ میں بہت بے ضرر اور پراَمن تصور کیا جاتا ہے اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی تربیت ہی کسی بھی انسان بلکہ جاندار کو کسی قسم کا ضرر نہ دینے کی سوچ پر کی جاتی ہے۔ مگر اراکان میں نہ صرف ان کا طبقہ مسلمانوں پر جبر و تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہے بلکہ ماگھ نسل کے بودھوں کی ایک باقاعدہ عسکری تنظیم منظم طریقہ سے یہ کام کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مئی کے آخری عشرہ میں ایک تبلیغی جماعت کے گیارہ ارکان جب اپنا وقت پورا کر کے ٹینڈی سے ینگون (رنگون) کے تبلیغی مرکز میں واپس جا رہے تھے تو راکھنی کے مقام پر ماگھ بودھوں نے انہیں اغوا کیا اور انتہائی بے دردی کے ساتھ سب کو شہید کر دیا۔ جس پر اس شہر کے مسلمانوں نے جمعہ کے روز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا تو وہاں کی پولیس نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوگئے۔ تب سے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے کہ ماگھ بدھسٹوں نے مسلمانوں کی قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ، ان کے گھروں اور دکانوں کو جلانے کی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس پر صدائے احتجاج بلند کرنے والے مسلمان پولیس اور دیگر سرکاری فورسز کے ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

اسی وجہ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برما کی سکیورٹی فورسز کو ان مظالم کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ ماگھ بودھوں کی وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے اور روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے خود اس جبر و تشدد میں شریک ہیں اور اس طرح اراکان کے مسلمان دوہرے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اس صورتحال میں ان کے پاس ترک وطن اور نقل مکانی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، چنانچہ بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں جہاں پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں اراکانی مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر وہاں بھی صورتحال یہ ہے کہ ان مہاجروں کو زندگی گزارنے کی ابتدائی اور بنیادی سہولتیں تو کسی حد تک شاید مہیا ہو رہی ہیں لیکن ان کی سیاسی اور اخلاقی معاونت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

ہمارے خیال میں اراکان کی تاریخی صورتحال مقبوضہ کشمیر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیربحث ہونے کی وجہ سے کشمیری مسلمانوں کو کسی حد تک بعض عالمی اداروں کی اخلاقی حمایت میسر ہے۔ اور اس سے بڑھ کر چونکہ یہ پاکستان کا اپنا مسئلہ بھی ہے اس لیے حکومت پاکستان اس کے لیے کسی نہ کسی درجہ میں متحرک رہتی ہے جبکہ اراکانی مسلمانوں کو ان میں سے کوئی سہولت حاصل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہماری رائے یہ ہے کہ اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت جہاں اس حوالہ سے ضروری ہے کہ ان پر ہونے والے جبر و تشدد کو روکنے کی کوشش کی جائے، بے گھر ہونے والے لوگوں کی مالی مدد کی جائے، انہیں زندگی کی ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی باعزت اپنے گھروں میں واپسی کی راہ ہموار کی جائے، وہاں اس سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے، او آئی سی اسے اپنے باقاعدہ ایجنڈے میں شامل کرے، بنگلہ دیش کی حکومت اسے اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے ڈیل کرے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں اٹھایا جائے تاکہ مظالم اور جبر و تشدد کا سلسلہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اس مسئلہ کے مستقل اور باوقار حل کی کوئی صورت نکل سکے۔

۳۰ جولائی کو جدہ میں قاری محمد اسلم شہزاد کی رہائش گاہ میں بیٹھا مندرجہ بالا سطور لکھ کر یہ کالم مکمل کر چکا تھا کہ جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز کا تازہ شمارہ سامنے آگیا اور اس کی دو خبروں کا اس کالم میں اضافہ کر رہا ہوں۔

ایک خبر تو اراکان کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے حوالہ سے ہے جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی خاتون سربراہ نوی پلے کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں انہوں نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی فسادات کے خلاف حکومتی آپریشن مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تبدیل ہو چکا ہے اور سکیورٹی فورسز بھی مسلمانوں کے خلاف مظالم میں شریک ہو گئی ہیں۔ ریاست رکھیسے میں فوج کو مسلم کش فسادات پر قابو پانے کے لیے بھیجا گیا لیکن وہاں جا کر فوجی اہلکار بھی مسلمانوں کی نسل کشی میں شریک ہوگئے، فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۷۸ بتائی گئی ہے تاہم غیر سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ صرف ۳ جون کو ۱۰ مسلمانوں کو قتل کیا گیا، ان ہنگاموں میں ۳۰ ہزار مسلمان براہ راست متاثر ہوئے جبکہ ۸۰ ہزار اپنے گھر چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، ۳ لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نوی پلے نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے میانمار میں قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے یہ اعداد و شمار مصدقہ بھی ہیں اور تازہ بھی، خدا کرے کہ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اس سلسلہ میں خود بھی عملاً کچھ کر سکے۔

دوسری خبر اگلے ماہ مکہ مکرمہ ہونے والی مسلم حکمرانوں کی مجوزہ عالمی کانفرنس کے بارے میں ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سعودی عرب کے روزنامہ عکاظ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ہنگامی اسلامی سربراہ کانفرنس امت کے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے طلب کی گئی ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ شاہ عبد اللہ امت مسلمہ کے آلام و مصائب اور مسائل کے حل میں کتنی دلچسپی لے رہے ہیں، یہ کانفرنس امت کے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے نقطۂ آغاز ثابت ہوگی۔ صدر زرداری نے کہا کہ اسلامی سربراہ کانفرنس انتہائی نازک حالات میں منعقد ہو رہی ہے، یہ مسلم رہنماؤں کے درمیان زبردست مکالمے کے متقاضی ہیں، مسلم رہنماؤں کو امن و استحکام کے لیے شورش و ہنگامہ آرائیوں سے بچنے کی زبردست جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبد اللہ تمام مسلم راہنماؤں میں محترم اور معتبر شخصیت ہیں اور مسلم مسائل کے حل اور پراگندہ شیرازے کو جمع کرنے کے لیے ان کی مساعی بے نظیر ہیں۔ ہم صدر جناب آصف علی زرداری کے ان ارشادات سے اتفاق رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے یہ باتیں کہہ کر امت مسلمہ کے دلی جذبات کی ترجمانی کی ہے، ہماری دعا ہے کہ مجوزہ کانفرنس فی الواقع امت مسلمہ کے دشمنوں سے نمٹنے کی حقیقی حکمت عملی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: