بزرگوں کے تذکرہ کا اصل مقصد

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۷ اگست ۲۰۲۰ء

ذی الحجہ میں سیدنا حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی عظمت اور قربانیوں کے ذکر اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت کے اظہار کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جبکہ محرم الحرام کے آغاز میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمان اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خانوادہ نبوت کے دیگر عظیم سپوتوں کے تذکرہ میں محو ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ تعالٰی کے ان نیک بندوں کے تذکرہ سے ثواب و اجر کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی نسبتوں کا اظہار کیا جاتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں راہنمائی کے پہلو بھی تلاش کرتے رہتے ہیں جو اِن تذکروں کا اصل مقصد ہوتا ہے۔

اپنے بزرگوں کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات اور قربانیوں سے آنے والی نسلوں کو باخبر کرتے رہنا زندہ قوموں کا شعار ہے جو اُن کے مستقبل کی بہتر صورت گری کی بنیاد بنتا ہے اور اس سے قوموں کے امتیازات کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے۔ جبکہ ہمارے پاس بحمد اللہ تعالٰی اپنے بزرگوں بالخصوص حضرات انبیاء کرامؑ، صحابہ کرام و اہل بیت عظامؓ، اور ائمہ سلفؒ کے حالات زندگی اور خدمات کا ریکارڈ جس استناد و اعتماد کے ساتھ محفوظ ہے، کسی اور قوم کے ہاں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ جس کی وجہ سے مسلمان اپنے ماضی کی طرف دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دیکھتے ہیں، حتٰی کہ اس بات کا انہیں طعنہ بھی ملتا ہے کہ وہ ماضی پسند بلکہ ماضی پرست قوم ہے اور ہر وقت اپنے بزرگوں کے تذکرہ کھوئی رہتی ہے۔ یہ بات اگرچہ طعن کے انداز میں کہی جاتی ہے مگر اس میں خوبی اور خیر کا یہ پہلو بہرحال نمایاں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بزرگوں کے حالات و واقعات اعتماد و استناد کے ساتھ مل جاتے ہیں اور وہ ان سے عقیدت و محبت بھی رکھتے ہیں۔ جس سے اچھے لوگوں کی پیروی اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے جذبہ کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس کی برکات و فیوض ملتے ہیں۔

گزشتہ روز ایک محفل میں سیدنا حضرت فاروق اعظمؓ اور سیدنا حضرت امام حسینؓ کا تذکرہ ہو رہا تھا، میں نے عرض کیا کہ ہم اپنے ان دونوں عظیم بزرگوں کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھیں تو ایک بات یہ بھی بطور خاص قابل توجہ نظر آتی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے معاشرہ اور حکومت و ریاست کے دائروں میں مثالی کردار پیش کیا، جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور اس سے راہنمائی حاصل کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ جبکہ حضرت امام حسینؓ نے اسی کردار کے اعلٰی معیار میں کمی کو گوارا نہ کرتے ہوئے اسے اصل صورت میں قائم رکھنے کے لیے قربانی پیش کی، جو رہتی دنیا تک نسلِ انسانی کی راہنمائی کرتی رہے گی۔

آج کی دنیا حضرت عمرؓ کو گڈگورننس اور ویلفیئر اسٹیٹ کے حوالہ سے بہت یاد کرتی ہے، اور جہاں بھی اِن کی ضرورت و اہمیت کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں حضرت عمرؓ کا کسی نہ کسی حوالہ سے تذکرہ بھی ہو جاتا ہے، حتٰی کہ بہت سے حکمران بھی تذکرہ کرتے رہتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہم مسلمان صرف تذکرہ تک محدود رہتے ہیں مگر عملی طور پر دنیا کے کسی مسلم ملک میں اس گڈگورننس یا ویلفیئر اسٹیٹ کا نمونہ دکھائی نہیں دیتا، جو ہماری اصل کنفیوژن ہے۔ اس وقت دنیا کو نظریات اور نظام کی تلاش نہیں، وہ تو کتابوں اور تاریخ کے ریکارڈ میں موجود و محفوظ ہے، اور اس کے مختلف پہلوؤں پر آج بھی دنیا کی اعلٰی دانش گاہوں اور تعلیمی مراکز میں اسٹڈی اور ریسرچ کا کام جاری ہے، اصل ضرورت عملی نمونہ کے طور پر ایک مثالی ریاست کی ہے جو خلافت راشدہ کے اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو اور خلفاء راشدین بالخصوص حضرت عمر فاروقؓ کی روایات کا نمونہ دکھا سکے۔ اگر نظم و ضبط اور دیانت و قناعت کی ان روایات کو مغربی ملکوں کے کچھ حکمران اپنا سکتے ہیں، جن کی مثالیں ہم بھی پیش کرتے رہتے ہیں، تو مسلمان حکمرانوں اور افسران کو بھی اپنے طرزعمل میں تبدیلی لانا پڑے گی کیونکہ ہم نے خود کو پروٹوکول، پرسٹیج، تعیش و تکلفات اور قانون و نظم سے بالا ہونے کے جس ماحول کا عادی بنا لیا ہے اسے چھوڑے بغیر نہ گڈگورننس حاصل ہو سکتی ہے اور نہ ہی ویلفیئر اسٹیٹ کی کوئی صورت بن سکتی ہے۔

میں حکمرانوں اور افسروں کو حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے حالات و واقعات پڑھنے کا مشورہ دیا کرتا ہوں جو امیر المومنین بننے سے پہلے پروٹوکول، تعیش اور تکلفات کے بلند ترین معیار پر تھے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عمدہ سے عمدہ لباس پہننا اور روزانہ لباس تبدیل کرنا ان کا معمول بن چکا تھا، مگر امارت کا منصب سنبھالتے ہی سب کچھ چھوڑ دیا اور ایک عام شہری کی طرح سادہ زندگی بسر کر کے دنیا کو بتایا کہ تبدیلی اس طرح آیا کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے تصرف میں موجود سرکاری اثاثوں کو عہدہ کا چارج سنبھالتے ہی واپس کر دیا، اور امیر المومنین بننے کے بعد یہ واقعہ بھی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ایک دن ان کے برادر نسبتی مسلمہ بن عبد الملکؒ جو چیف آف آرمی اسٹاف تھے، ملاقات کے لیے آئے تو جاتے ہوئے اپنی بہن سے ناراض ہوئے کہ بھائی کے کپڑے تو دھلا دیا کرو۔ اس اللہ کی بندی نے کہا کہ ہر وقت ان کے پاس لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور ان کے پاس کپڑوں کا دوسرا جوڑا نہیں ہے جو ان کو پہنا کر بدن کے کپڑے دھو سکوں۔

ہم بزرگوں کا نام لیتے ہوئے نہیں تھکتے مگر ہمارے تعیشات و تکلفات بلکہ لوٹ کھسوٹ میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ سیدنا حضرت فاروق اعظمؓ اور سیدنا حضرت امام حسینؓ کے تذکرہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ عدل و انصاف اور سادگی پر مبنی نظام کے قیام کی کوشش کی جائے اور کردار کے اعلٰی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جائے۔ گڈگورننس اور ویلفیئر اسٹیٹ کے لیے ان بزرگوں کے طور طریقوں کو اختیار کیا جائے، اور دوسری قوموں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے شاندار ماضی کو یاد کرتے ہوئے ان بزرگوں کی روایات کو زندہ کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: