افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت اور وزیر داخلہ کا اعتراف حقیقت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ دسمبر ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
شکریہ وزیر داخلہ صاحب!

وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں دارالعلوم کورنگی کراچی میں علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا حرام ہے لیکن مجبوری کی حالت میں حرام کھانا بھی جائز ہو جایا کرتا ہے۔ اس طرح معین الدین حیدر اپنی تمام تر تلخ نوائی اور دھمکیوں کے باوجود اصولی طور پر ہمارے ساتھ اس موقف میں متفق ہوگئے ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینا مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا ہے۔ ہمیں ”اعتراف حقیقت“ کے اس حصہ سے اتفاق نہیں ہے کہ یہ مجبوری اس درجہ کی تھی کہ اس میں حرام کھانا بھی جائز ہو جاتا، کیونکہ شریعت نے بعض حالات میں ضرورت کی حد تک حرام کھانے کی اجازت دی ہے لیکن اسے صرف مجبوری کی بجائے ”اضطرار“ کی کیفیت کے ساتھ مشروط کیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ اگر اضطرار اس درجہ کا ہو کہ فی الواقع ہلاکت کا خطرہ ہو اور دوسرا کوئی متبادل نہ ہو تو حرام کھانے کی اجازت ہے، اور حرام بھی صرف اس قدر کہ اس سے جان بچ جائے اس سے زیادہ اس حالت میں بھی حرام کھانے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں مزید کچھ عرض کرنے سے قبل ایک واقعہ کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں وہ یہ کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جب باقی ماندہ پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اقتدار سنبھالا اور صوبہ سرحد میں نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے تعاون سے مولانا مفتی محمودؒ وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے صوبہ سرحد میں شراب کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیا۔ اس پر وفاقی حکومت نے صوبہ سرحد کی حکومت کو لکھا کہ شراب کی مد میں صوبائی حکومت کو لاکھوں روپے کا جو ٹیکس وصول ہوتا ہے وہ ختم ہوجائے گا جس سے بجٹ میں خسارہ ہوگا، اور وفاقی حکومت اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کوئی تعاون نہیں کرے گی۔ اس کا جواب مفتی صاحب نے یہ دیا کہ ٹھیک ہے ہم اپنے اخراجات میں کمی کر کے خسارہ پورا کر لیں گے اور اس مد میں وفاق سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ کچھ دنوں کے بعد وفاقی حکومت کا دوسرا خط انہیں موصول ہوا کہ صوبہ سرحد میں غیر مسلم بھی رہتے ہیں جن پر شراب کی پابندی ختم کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شراب کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلموں پر نہیں ہوتا اور اگر غیر مسلم شراب پیئں گے تو ان پر ہمارا قانون لاگو نہیں ہوگا، لیکن انہیں شراب مہیا کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے صوبائی حکومت اس طرح کی دکانیں نہیں کھلوا سکتی۔ تھوڑا عرصہ گزرا تو وفاقی حکومت نے تیسرا خط بھجوا دیا کہ شراب بعض بیماریوں میں علاج کے طور پر استعمال ہوتی ہے اس لیے اس قسم کی بیماریوں کے لیے شراب کی کچھ دکانیں کھلوانا ضروری ہیں۔ اس پر مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کے ہیلتھ سیکرٹری کی سربراہی میں ایک میڈیکل بورڈ بنا دیا اور اسے یہ کہا کہ ایسی بیماریوں کی نشاندہی کرو جو مہلک ہوں اور شراب کے علاوہ ان کا اور کوئی متبادل علاج نہ ہو۔ میڈیکل بورڈ نے بہت تلاش کیا مگر ایسی کوئی بیماری نہ ملی مگر اس کی حتمی رپورٹ کی تیاری ابھی جاری تھی کہ صوبہ بلوچستان میں مینگل حکومت کی بلاجواز برطرفی کے خلاف احتجاج کے طور پر مولانا مفتی محمودؒ ؒنے صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا، ورنہ یہ گفتگو خدا جانے اور کس کس انداز میں آگے بڑھتی۔

اس لیے یہ بات بحث طلب ہے کہ کیا حکومت پاکستان کی مجبوری فی الواقع اس درجہ کی تھی کہ اسے شرعی اضطرار قرار دے کر اتنے بڑے حرام کے ارتکاب کا جواز فراہم کر دیا جائے جو افغانستان میں پاکستان کی دوست حکومت کے خاتمہ، افغان عوام پر وحشیانہ بمباری اور کابل پر پاکستان دشمن شمالی اتحاد کے تسلط کی راہ ہموار کرنے کے امریکی اقدامات کے ساتھ تعاون بلکہ ان میں عملاً شرکت کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ ہمارے خیال میں معاملہ ایسا نہیں تھا اور مجبوری کو جس درجہ میں حکومت پاکستان نے خود پر مسلط کر لیا تھا اس سطح کی مجبوری نہیں تھی۔ کیونکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جنرل پرویز مشرف شخصی طور پر امریکی دباؤ کا شکار ہوئے وہ اس طور پر خود ہی حتمی فیصلہ کرنے کی بجائے حالات کا بروقت اندازہ کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہی خواہوں اور دوستوں سے رابطہ و مشاورت کا اہتمام کر لیتے تو امریکی دباؤ کے آگے سیاسی یا اخلاقی رکاوٹ کھڑی کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آتا۔ مگر یہاں عملاً یہ ہوا کہ شخص واحد نے خود کو ”عقل کل“ سمجھتے ہوئے فیصلہ صادر کر دیا اور پوری قوم سے یہ تقاضا کیا گیا کہ چونکہ ہم نے فیصلہ کر دیا ہے اس لیے سب کو ہمارے پیچھے ہر حال میں چلنا ہوگا۔

اس تاریخی لمحہ پر ہم سے جو تاریخی غلطی سرزد ہوئی اس کے نتائج و عواقب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور جوں جوں امریکی بمباری کی دھول بیٹھے گی اور مستقبل کا منظر مزید واضح نظر آنا شروع ہوگا ہمارے وزیر داخلہ محترم پر اس ”حرام کام“ کے مزید اسرار و رموز بھی ان شاء اللہ کھلتے چلے جائیں گے۔ مگر سردست ہم جناب معین الدین حیدر سے ان کے اس ارشاد گرامی کے حوالے سے دو سوال کرنا چاہتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ یہ درست ہے کہ اضطرار کی حالت میں زندگی بچانے کے لیے ضرورت کی حد تک حرام کھانے کی واقعی شریعت نے اجازت دی ہے تو کیا افغانستان میں ان کی یہ ضرورت اب تک پوری ہوگئی ہے یا اور شہروں کی تباہی اور لوگوں کی لاشوں کی ضرورت ابھی باقی ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں ہمارے حکمرانوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے اور کتنے افغانوں کا خون درکار ہے؟
  2. اور دوسرا سوال یہ کہ جب وہ خود اس کو حرام کہہ رہے ہیں اور مجبوری کے درجہ میں اس حرام کے استعمال کا اعتراف کر رہے ہیں تو اس عمل کے ساتھ دانش، حکمت اور تدبر کا جوڑ لگا کر ان مقدس الفاظ کی معنویت کو دھندلانے میں آخر کون سی دانش پنہاں ہے؟