توبہ کی قبولیت کا وقت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ کیا اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں؟ یا پھر اللہ ان کے پاس آ جائے اچانک۔ یا پھر اللہ کے عذاب کی نشانیاں آئیں۔ فرمایا، یاد رکھو! جب عذاب آ جاتا ہے، اللہ کی گرفت کی نشانیاں آجاتی ہیں، اس کے بعد کا ایمان قبول نہیں ہے۔ یوم یاتی بعض آیات ربک جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی سامنے آ گئی لا ینفع نفس ایمانھا پھر کسی نفس کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا لم تکن اٰمنت من قبل یعنی پہلے جو ایمان لا چکا اس کا ایمان تو ٹھیک ہے، لیکن اللہ کے عذاب کی نشانی دیکھ کر ایمان لانے والے کا ایمان قبول نہیں ہو گا۔ یہ اللہ کا ضابطہ ہے۔ اس کو کہتے ہیں حالت نزع کا ایمان۔ ایک فرد پر جب موت کی نشانیاں آتی ہیں، عام آدمی کی بات بھی یہ ہے کہ اگر کافر ہے تو ایمان، گنہگار (مسلمان ) ہے تو توبہ۔ نزع سے پہلے پہلے۔ نزع کی کیفیت طاری ہوئی تو نہ ایمان قبول ہے، نہ توبہ۔

  1. انسان کے لیے نزع تو یہ ہے کہ موت کے فرشتے نظر آ گئے۔
  2. قوموں کے لیے نزع کیا ہے؟ عذاب کی نشانی آ گئی کوئی۔
  3. اور کائنات کے لیے نزع کیا ہے؟ وہ آخری وقت جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔

پھر نہ کسی کی توبہ قبول ہو گی، نہ کسی کا ایمان قبول ہو گا۔ فرمایا، موت دیکھ کر ایمان لائے تو اس ایمان کا فائدہ کیا ہے؟