ربوہ کا نام اور مولانا اللہ وسایا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جنوری ۱۹۹۹ء

ربوہ کے نام کی تبدیلی اور ’’نواں قادیاں‘‘ کی تجویز کے حوالہ سے راقم الحروف کے ایک کالم پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا اللہ وسایا نے اظہار خیال فرمایا ہے اور بعض دوستوں نے اپنے خطوط میں تقاضا کیا ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے مضمون میں جو نکات اٹھائے ہیں ان پر میں بھی اظہار خیال کروں۔ جہاں تک مولانا کے لہجے میں تلخی کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری نہیں سمجھتا اس لیے کہ میں نے اپنے مضمون میں واقعتاً یہ ’’جرم‘‘ کیا ہے کہ ربوہ کے نام کی تبدیلی کے بارے میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے نقطۂ نظر کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کر کے یہ لکھ دیا ہے کہ ’’اس موقف میں وزن محسوس ہوتا ہے‘‘۔ اور واقفان حال اچھی طرح جانتے ہیں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی عدالت میں کسی شخص کے ’’گردن زدنی‘‘ قرار پانے کے لیے اتنی بات کافی ہوتی ہے۔

البتہ مولانا اللہ وسایا نے اس سلسلہ میں میرے چنیوٹ اور ربوہ میں تین روزہ قیام کے دوران ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو کی جو تفصیلات اپنے مضمون میں بیان فرمائی ہیں ان میں بعض باتیں ادھوری رہ گئی ہیں۔ اب جبکہ اس گفتگو کی کچھ باتیں منظر عام پر آگئی ہیں تو میرے خیال میں ان کا نامکمل رہنا مناسب نہیں ہے اس لیے ان باتوں کو ریکارڈ میں شامل کرنے کے لیے اس عنوان پر دوبارہ قلم اٹھا رہا ہوں جو مولانا موصوف سے رہ گئی ہیں تاکہ مذاکرات کی کہانی مکمل ہو جائے اور تاریخ کے ریکارڈ میں کوئی خلاء اور ابہام باقی نہ رہے۔ اس موقع پر میں یہ تو عرض نہیں کروں گا کہ گفتگو کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے مناظرانہ داؤ پیچ کا ماہرانہ مظاہرہ فرمایا ہے کیونکہ لگتا یہ ہے کہ یہ مضمون انہوں نے رمضان المبارک میں تحریر کیا ہے، البتہ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اتنی گزارش ضرور کروں گا کہ انہیں بعض باتیں شاید بھول گئی ہیں جن کا وہ اپنے مضمون میں تذکرہ نہیں کر سکے۔

یہ بات درست ہے کہ جن دنوں ربوہ کے نام کی تبدیلی اور نئے نام کی تجویز کی باتیں سامنے آرہی تھیں، میں دو تین روز تک ربوہ اور چنیوٹ میں قیام پذیر تھا۔ شعبان المعظم کے دوران ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور چنیوٹ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد علماء کرام کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام کرتے ہیں اور مجھ پر دونوں شفقت کرتے ہیں کہ کورس کے شرکاء سے دو تین روز تک بعض عنوانات پر گفتگو کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ اس بار ایسا ہوا کہ روزانہ صبح کی نشست میں چنیوٹ اور ظہر کے بعد کی نشست میں ربوہ میں حاضری کا موقع ملتا رہا اور تین روز دونوں شہروں میں بار بار آنے جانے کا سلسلہ قائم رہا۔ اسی دوران ربوہ کے نام کی تبدیلی کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جس کا مولانا اللہ وسایا نے تذکرہ کیا ہے۔ اور صرف مولانا نہیں بلکہ اس گفتگو اور مشاورت میں ہمارے ساتھ امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے نواسے سید کفیل شاہ صاحب بخاری، مجلس احرار اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات جناب عبد اللطیف خالد چیمہ اور سیالکوٹ کے ہمارے پرانے ساتھی پروفیسر شجاعت علی مجاہد بھی شریک تھے۔ ان سب نے مجھ سے کہا کہ ربوہ کے نئے نام کی طور پر ’’نواں قادیاں‘‘ کا نام قابل قبول نہیں ہے اس لیے میں مولانا منظور احمد چنیوٹی سے بات کروں۔

چنانچہ میں نے مولانا چنیوٹی سے متعدد بار بات کی مگر مولانا کو اپنے اس موقف پر اصرار تھا کہ ان کے نزدیک ’’نواں قادیاں‘‘ کے نام میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ قادیانیوں کے جداگانہ تشخص کے اظہار کے لیے وہ اسے بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر ان دوستوں کا اصرار ہے تو وہ کسی متبادل نام پر صوبائی حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں البتہ وہ کسی اسلامی شخصیت کے نام پر اس شہر کا نام رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔ حتیٰ کہ مولانا چنیوٹی نے متبادل نام کے طور پر ’’چناب نگر‘‘ کے نام سے اتفاق کر لیا اور مولانا اللہ وسایا سمیت مذکورہ بالا سب دوستوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چنانچہ مولانا چنیوٹی نے اس مقصد کے لیے صوبائی وزیرمال سے رابطہ قائم کیا اور ان سے ملاقات کے لیے لاہور روانہ ہوگئے۔

یہ ساری صورتحال میں نے خود مولانا اللہ وسایا اور مذکورہ بالا دوستوں کے گوش گزار کر دی تھی مگر مولانا اللہ وسایا کو اپنے مضمون میں درج کرنے کے لیے گفتگو کا صرف ایک جملہ یاد رہا کہ ’’مولانا چنیوٹی اپنے موقف پر قائم ہیں‘‘ اور باقی سب باتیں ان کے ذہن سے اتر گئیں۔ اس کے ساتھ ہم دوستوں میں یہ بات آپس میں طے ہوگئی تھی کہ یہ مسئلہ باہمی گفت و شنید کے ساتھ چپکے چپکے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر یہ طریق کار شاید مجلس تحفظ ختم نبوت کی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے لیے قابل قبول نہ تھا اس لیے مجلس کی طرف سے نہ صرف یہ کہ اخبارات میں تند و تیز بیان بازی کی مہم ضروری سمجھی گئی بلکہ جمعہ کے اجتماعات میں مذمت کی قراردادوں کے لیے بھی دو چار روز مزید انتظار مناسب خیال نہ کیا گیا۔ چنانچہ ان قراردادوں اور بیانات نے مسئلہ کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھنیں پیدا کر دیں۔

پھر لاہور میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس بات کا بھی ایک دو روز میں اہتمام کر لیا کہ ربوہ کے موجودہ نئے نام کو مسترد کرنے کے لیے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نام سے ایک وفد تشکیل دے کر صوبائی وزیرمال سے اس کی ملاقات کریں۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے مضمون میں مجھے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری اطلاعات لکھا اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کو مجلس عمل کا مرکزی راہنما تسلیم کیا ہے۔ جبکہ مولانا چنیوٹی پنجاب اسمبلی میں ربوہ کے نام کی تبدیلی کی قرارداد کے محرک ہیں اور خود مولانا اللہ وسایا کے بقول اس سلسلہ میں عملی محنت بھی سب سے زیادہ مولانا چنیوٹی نے ہی کی ہے۔ مگر ربوہ کا نیا مجوزہ نام مسترد کرنے کی کارروائی میں مجلس عمل کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کے لیے نہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات سے رابطے کی ضرورت محسوس کی گئی اور نہ قرارداد کے محرک کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا گیا اور چپکے چپکے مجلس عمل کے نام سے اجلاس کر کے صوبائی وزیرمال سے وفد ملوا دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی تند و تیز اخباری بیانات اور جمعہ کے اجتماعات میں قراردادوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

اس طرح حالات کی ترتیب یوں قائم ہوئی کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ نے ایک طرف مجھے کہا کہ مولانا چنیوٹی سے مسلسل رابطہ رکھوں اور باہم گفت و شنید کے ذریعے مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کروں اور دوسری طرف مجھ سے بالا بالا وہ سارے مراحل خود ہی طے کر لیے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اور جنہوں نے مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے الجھانے کے اسباب فراہم کیے۔ اس طرز عمل کو کس تعبیر سے نوازا جائے، اس کے بارے میں خود کچھ عرض کرنے کی بجائے فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

مولانا اللہ وسایا نے اپنے مضمون میں مجھے قادیانیوں پر ’’مائل بہ کرم‘‘ ہونے کا الزام بھی دیا ہے اور اپنے مخصوص جذباتی انداز میں فضا کو گرمانے کی کوشش کی ہے مگر مولانا موصوف میرے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی مسئلہ پر موقف سوچ سمجھ کر طے کرتا ہوں حتیٰ کہ بسا اوقات اس میں دوستوں کو تاخیر بھی محسوس ہونے لگتی ہے لیکن جو موقف دلائل کی روشنی میں اختیار کر لیتا ہوں پھر کوئی جذباتیت بحمد اللہ تعالیٰ اس میں لچک پیدا نہیں کر پاتی۔ اس لیے میں نے اپنے سابقہ مضمون میں قادیانیوں کے حوالہ سے جو باتیں لکھی ہیں اور جن کی بنیاد پر مولانا اللہ وسایا کی بارگاہ سے مجھے قادیانیوں پر ’’مائل بہ کرم‘‘ ہونے کا الزام ملا ہے، انہیں پھر دہراتا ہوں کہ اب بھی میرا موقف ان کے بارے میں وہی ہے جو پہلے عرض کر چکا ہوں۔ میں نے ربوہ کے قادیانی باشندوں کو ان کے مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے اور پورے شرح صدر کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ جو لوگ نصف صدی سے سرکاری زمین پر آباد چلے آرہے ہیں انہیں مالکانہ حقوق سے محروم رکھنا سراسر زیادتی ہے۔ اس لیے ربوہ کے تمام باشندوں کو ان کی دکانوں اور مکانوں کے مالکانہ حقوق دیے جانے ضروری ہیں اور اس کے لیے صوبائی حکومت کو قانون سازی کرنی چاہیے۔

میں نے یہ عرض کیا ہے کہ جو شہر قادیانیوں نے خود بسایا ہے اور جس میں ان کی اکثریت آباد ہے، اس کا نام تجویز کرنے میں انہیں بالکل نظر انداز کر دینا اور سرے سے اعتماد میں نہ لینا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ ہمیں ربوہ کے نام پر بھی اعتراض صرف اس لیے ہے کہ اس قرآنی لفظ سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے اور اس سے مسلمانوں کو دھوکہ ہوتا ہے، ورنہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور نام ہوتا یا ربوہ کے لفظ کا مخصوص قرآنی پس منظر نہ ہوتا تو ہمیں اس نام پر اعتراض کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔

مولانا اللہ وسایا کے لیے بطور یاددہانی عرض ہے کہ میں نے قادیانیوں کی ’’حمایت‘‘ میں ایک بات اور بھی کہی ہے کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے وقت ہمیں بین الاقوامی برادری کے تاثرات کا بھی خیال رکھنا ہوگا تاکہ قادیانی ہمارے کسی فیصلہ سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بلاوجہ واویلا نہ کر سکیں۔ یہ بات شاید مولانا اللہ وسایا اور ان کے بعض جذباتی ساتھیوں کے لیے تلخ ہو لیکن میں اس کے لیے قادیانیوں اور دیگر منکرین ختم نبوت کے بارے میں ہمارے اصولی اور بنیادی موقف کا حوالہ دوں گا کہ ہم اسے طے کرتے وقت اس کا لحاظ کر چکے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہم ایک مسلم ریاست میں منکرین ختم نبوت سے نمٹنے کے لیے خلافت راشدہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کی بجائے علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق انہیں صرف غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر قناعت کیے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی تناظر میں اس سے زیادہ کوئی بات قابل عمل نہیں ہے۔ اس لیے اگر بنیادی اور اصولی موقف کے تعین میں بین الاقوامی تناظر اور قابل عمل ہونے کے لیے پہلو کا لحاظ رکھا جا سکتا ہے تو ایک جزوی اور ثانوی مسئلہ پر ہم اس پہلو کو نظر انداز کرنے پر کیوں مصر ہیں؟

یہ سب گزارشات میں نے صورتحال کی وضاحت اور مولانا اللہ وسایا کی نامکمل باتوں کو مکمل کرنے کے لیے پیش کی ہیں ورنہ جہاں تک نفسِ مسئلہ کا تعلق ہے اس میں بحمد اللہ خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور رمضان المبارک کے دوران ہی صوبائی وزیرمال چوہدری شوکت داؤد، مولانا منظور احمد چنیوٹی اور گوجرانوالہ کے مسلم لیگی ایم پی اے جناب ایس اے حمید کی باہمی ملاقات میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ ربوہ کا نام بہرحال تبدیل کرنا ضروری ہے البتہ نام کے طور پر کسی نئے نام پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ مال کے کاغذات کے مطابق پرانا نام ’’چک ڈھگیاں‘‘ بحال کر دیا جائے اور اس کے لیے تازہ معلومات کے مطابق محکمہ مال نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

باقی رہی بات ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ اور ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت‘‘ کی تو مولانا اللہ وسایا اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ میں کل بھی ان دونوں کا خادم تھا، آج بھی ہوں اور مرتے دم تک رہوں گا کیونکہ اے میں اپنے ایمان کا حصہ اور نجات کا باعث سمجھتا ہوں۔ البتہ اتنا فرق پہلے بھی رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے خودساختہ قواعد و ضوابط اور ترجیحات کا کبھی پابند نہیں رہا، متعلقہ مسائل پر دلائل کی بنیاد پر آزادانہ رائے رکھتا ہوں اور اس کا دوٹوک اظہار کرتا ہوں، اور جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو ٹوکنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس پر اگر مولانا اللہ وسایا ناراض ہیں تو مجھے ان کے اس برادرانہ حق سے انکار نہیں ہے لیکن میں اپنے حق سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں۔