حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت اور اہم کارنامے

   
تاریخ بیان: 
۲ فروری ۲۰۲۱ء

۲ فروری ۲۰۲۱ء کو بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ اور بعد نماز عشاء مکی مسجد قلعہ دیدار سنگھ میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کی گئی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ، مقام و فضیلت اور خلافت و حکومت کے حوالہ سے گفتگو کے بیسیوں پہلو ہیں اور ہر ایک میں ہمارے لیے سبق اور راہنمائی موجود ہے، مگر آج حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے عنوان سے تین چار سوالات کا مختصر جائزہ لینا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ خلافت کسے کہتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ تیسرا یہ کہ ان کی خلافت کی نظریاتی بنیاد کیا تھی؟ اور چوتھا یہ کہ بحیثیت خلیفہ انہوں نے کون سے اہم کارنامے سرانجام دیے؟

  1. خلافت ایک طرز حکومت کا نام ہے جو آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل دنیا میں دو طرح کی حکومتیں رہی ہیں۔ وہ حکومتیں جو طاقتور لوگوں نے خود قائم کیں اور طاقت کے زور پر انہیں چلاتے رہے ، اس کا سب سے بڑا عنوان بادشاہت ہے۔ اور دوسری یہ کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے قوانین و احکام کو معاشرے میں نافذ کرنے کے لیے حکومتیں قائم کیں جن میں حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت یوشع بن نون علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور دیگر انبیاء بنی اسرائیل کی حکومتوں کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں اقتدار انبیاء کرامؑ کے پاس ہوتا تھا، ایک پیغمبر دنیا سے چلے جاتے تو دوسرے آجاتے، لیکن میرے بعد چونکہ نبی کوئی نہیں آئے گا اس لیے اب خلفاء ہوں گے جو سیاسی نظام کو چلائیں گے۔ اس کے ساتھ نبی اکرمؐ نے امت کو ان خلفاء عظامؒ کی پیروی کی ہدایت فرمائی۔ گویا خلافت دنیا میں آسمانی تعلیمات کے نفاذ و ترویج کے نظام کا نام ہے جو پہلے انبیاء کرامؑ قائم کرتے تھے، جبکہ آنحضرتؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو جانے کے باعث اس نظام کو چلانے کے لیے خلافت کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا ہے۔

    یہاں ایک اور بات بھی سمجھنے کی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہوتے تھے اس لیے ان کی حکومت اللہ تعالیٰ کی خلافت سمجھی جاتی تھی، مگر جناب نبی اکرمؐ کے بعد خلافت کے منصب پر فائز ہونے والے حضرات چونکہ اللہ تعالیٰ کے براہ راست نمائندہ نہیں ہیں اس لیے یہ خلافت جناب رسول اللہؐ کی نیابت کہلاتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفۃ الرسول کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا حتٰی کہ امام ابو یعلیؒ نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کو کسی نے ’’یا خلیفۃ اللہ‘‘ کہا تو انہوں نے یہ فرما کر ٹوک دیا کہ میں اللہ کا خلیفہ نہیں ہوں بلکہ رسول اللہ کا خلیفہ ہوں۔ اس طرح خلیفہ کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ قرار دینے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بنا کر اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ حکومت و انتظام میں سنت رسولؐ کا پابند ہے، اور امام معصوم یا پاپائے روم کی طرح احتساب اور تنقید و اعتراض سے بالاتر نہیں ہے۔

  2. دوسرا سوال کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ کس نے بنایا تھا؟ اس پر عرض کروں گا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپؐ کے واضح طرز عمل اور اشارات کے باعث لوگ سمجھتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ ہی آپؐ کے جانشین ہوں گے مگر نامزد نہیں فرمایا تھا۔ جس کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس طرح جانشین نامزد کرنا قیامت تک کے لیے قانون بن جاتا اور امت کی رائے اور صوابدید کی نفی ہو جاتی۔ اس لیے نبی اکرمؐ نے اشارات کے باوجود خلافت کے معاملہ کو کھلا چھوڑ دیا اور آپؐ کی وفات کے بعد مختلف مجالس کی عمومی بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابوبکرؓ کو اجتماعی طور پر خلیفہ چنا گیا۔ چنانچہ یہ کہا جائے گا کہ حضرت ابوبکرؓ کو امت نے اجتماعی رائے سے خلیفۃ الرسول منتخب کیا تھا اور فقہاء کرام نے اسی وجہ سے خلیفہ کے انتخاب میں امت کی اجتماعی صوابدید کو سب سے بہتر طریقہ قرار دیا ہے۔
  3. تیسری بات یہ کہ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت سنبھالنے کے بعد پہلے خطبہ میں چند باتیں واضح طور پر فرما دی تھیں جن میں سے ایک کا تذکرہ کروں گا کہ میں قرآن کریم اور سنت رسولؐ کے مطابق حکومت کا نظام چلاؤں گا اور ان کا پابند رہوں گا۔ پھر فرمایا کہ اگر اس سے ہٹ کر چلوں تو لوگوں پر میری اطاعت واجب نہیں ہے اور انہیں احتساب کا حق حاصل ہو گا۔ گویا خلافت کا نظام قرآن و سنت کی پابندی اور عوام کے حق احتساب کے دو اصولوں پر استوار ہے۔ اس لیے خلیفہ کسی بادشاہ کی طرح مطلق العنان ہونے کی بجائے قرآن و سنت کا پابند اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔
  4. چوتھی بات یہ کہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے اڑھائی سالہ مختصر دور میں جو نمایاں کارنامے سرانجام دیے ہیں ان کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ
    • رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد منکرین ختم نبوت، منکرین زکوٰۃ، اور مرتدین کے مختلف گروہوں نے بغاوت کر کے ہر طرف افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا تھا اور عالم اسباب میں نبی اکرمؐ کی قائم کردہ ریاست و حکومت خطرے میں پڑ گئی تھی۔ ان سب کا مقابلہ کر کے حضرت ابوبکرؓ نے اسلامی ریاست و حکومت کو استحکام بخشا اور پوری استقامت کے ساتھ امت کے داخلی اتحاد کو قائم رکھا جو ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔
    • قرآن کریم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سینکڑوں، حفاظ کو یاد تھا اور ہر لحاظ سے مکمل و مرتب طور پر محفوظ تھا، البتہ کتابی شکل میں نہیں تھا۔ حضرت عمرؓ کی تحریک پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے قرآن کریم تحریری صورت میں لکھوا کر اسے مسجد نبویؐ میں رکھوا دیا جس سے قرآن کریم کتابی شکل میں محفوظ ہو گیا اور اس میں کسی تحریف اور ردوبدل کا دروازہ بھی بند ہو گیا کہ مسجد نبویؐ میں موجود سرکاری اور اسٹینڈرڈ نسخہ کی موجودگی میں کسی کو جرأت نہیں تھی کہ وہ قرآن کریم میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کر کے اسے عام کر سکے۔
    • نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المال کا نظام قائم کر کے ریاست کے عام شہریوں بالخصوص معذوروں اور مستحقین کی کفالت کا جو نظام دیا تھا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سلسلہ کو آگے بڑھایا اور ایسی بنیادیں فراہم کر دیں جس سے رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کا وہ نظام حضرت عمرؓ کے دور میں منظم ہو کر دنیا کے لیے ایک مثالی اور آئیڈیل رفاہی نظام کی شکل اختیار کر گیا۔

کچھ عرصہ سے ممتاز دینی و علمی شخصیات کے مسلسل دنیا سے اٹھتے چلے جانے سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے اس نے اہل دین و دانش کے غم و صدمہ میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس تناظر میں حال ہی میں ہم سے جدا ہونے والے دو بزرگوں حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاریؒ اور محترم ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوریؒ کی وفات سب اہل دین کے لیے گہرے صدمہ کا باعث بنی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے اور ان کی خدمات کا اپنا اپنا وسیع اور متنوع دائرہ تھا جو ہماری علمی، دینی اور تحریکی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور تمام متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔