حضور ﷺ نے ۹ ہجری کا حج کیوں ادا نہیں کیا؟

ایک اور تبدیلی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج کے نظام میں کی وہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کوئی پابندی نہیں تھی کہ کوئی بھی حج کے لیے آئے، کوئی موحد ہو، کوئی مشرک ہو، کوئی بت پرست ہو، کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ آتے تھے۔ لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلکہ قرآن کریم نے اعلان فرما دیا ’’انما المشرکون نجس فلا یقرب المسجد الحرام بعد عامھم ھذا‘‘ (سورہ التوبہ ۲۸)۔

چنانچہ ایسا ہوا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد، فتح مکہ ہوا ہے ۸ ہجری میں، اس کے بعد پہلا حج ۹ ہجری کا آیا ہے۔ نبی کریمؐ نے وہ ۹ ہجری کا حج خود نہیں کیا، صحابہ کرامؓ کو بھیجا ہے، اور ۹ ہجری کے حج کو حضورؐ نے اصلاحات کے لیے، تبدیلیوں کے لیے، حج کے نظام کی تطہیر کے لیے، اور اگلے سال اپنے حج کی تیاری کے لیے ۹ ہجری کا حج حضورؐ نے استعمال کیا ہے۔ بہت سے اعلانات کروائے معاہدات کے بارے میں، بیت اللہ کے طواف کے بارے میں، مشرکوں کے آئندہ نہ آنے کے بارے میں، حضرت صدیق اکبرؓ کی امارت میں حج ادا ہوا، اور حضورؐ نے بہت سے اعلانات، اصلاحات، ترمیمات کا اعلان کیا، اور یہ بھی وہاں اعلان ہوا کہ اگلے سال جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج پر تشریف لائیں گے۔ تو گویا یوں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تشریف لے جانے سے پہلے حج کے پورے نظام کی تطہیر فرمائی اور پھر مسلمانوں کے لیے حج کو خالص کر کے اللہ کے لیے مسلمانوں کے لیے، تو پھر حضورؐ نے آخری حج کیا جس کو ’’حجۃ الوداع‘‘ کہتے ہیں۔

تو اس میں یہ تھا کہ پہلے سارے آتے تھے، نبی کریمؐ نے اعلان فرما دیا کہ اس سال کے بعد کوئی غیر مسلم حج کے لیے نہیں آئے گا، یہ حج اب صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے، مسلمانوں کے دینی فرائض میں سے ہے اور مسلمانوں کی عبادت ہے، اور مسلمانوں کے لیے ہی یہ حج مخصوص رہے گا۔