ڈھاکہ میں ’’سید ابوالحسن علی ندوی ایجوکیشن سنٹر‘‘کی افتتاحی تقریب

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۴ء

جنوری ۲۰۰۴ کا پہلا عشرہ مجھے بنگلہ دیش میں گزارنے کا موقع ملا۔ میرپور ڈھاکہ میں مدرسہ دار الرشاد کے مہتمم مولانا محمد سلمان ندوی کا تقاضا تھا کہ وہ ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘ کے نام سے ایک نئے تعلیمی شعبے کا آغاز کر رہے ہیں جس کی افتتاحی تقریب یکم جنوری کو رکھی گئی ہے اور اس موقع پر ’’عصر حاضر میں دینی مدارس کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں سیمینار کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، اس لیے مجھے اس میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ مولانا سلمان ندوی سے ا س سے قبل میرا تعارف نہیں تھا، البتہ انھوں نے میرے بہت سے مضامین پڑھ رکھے تھے اور دینی مدارس کے نصاب ونظام کے حوالہ سے بنگلہ زبان میں انھوں نے ایک ضخیم کتاب شائع کی ہے جس میں اکابر علماے کرام کے مقالات کے ساتھ ساتھ میرے ایک دو مضامین کا ترجمہ بھی شامل ہے اور ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے بعض مضامین بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ مجھے دعوت مولانا منصوری کی وساطت سے ملی جس میں ان کا اصرار بھی شامل تھا۔ ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کا آغاز ہو چکا تھا اور میرے لیے ہفتہ دس دن کی غیر حاضری بہت مشکل تھی لیکن مولانا منصوری کا اصرار غالب آیا اور میں نے سفر کا پروگرام بنا لیا۔

دسمبر کے آخری عشرہ میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کا سالانہ تبلیغی اجتماع تھا جس کی وجہ سے کراچی سے براہ راست ڈھاکہ جانے والی فلائیٹ پر سیٹ نہ مل سکی اور ویزے کے حصول کے بعد براستہ دوبئی ڈھاکہ جانے کا پروگرام بن گیا۔ ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو صبح نماز فجر کے وقت میں لاہور سے دوبئی پہنچا۔ وہاں ہمارے پرانے دوست محمد فاروق شیخ اور حافظ بشیر احمد چیمہ ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبئی میں بھی دو دن رکنے کا پروگرام بنا لیا اور دوبئی ایئرپورٹ سے ٹرانزٹ ویزاحاصل کر لیا جس کی وجہ سے دوبئی، شارجہ اور ابو ظبی میں مختلف دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔ محمد فاروق شیخ گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، جمعیۃ طلباے اسلام میں خاصے متحرک رہے ہیں اور ایک عرصہ سے شارجہ میں مقیم ہیں۔ ان کے ہاں قیام رہا۔ شارجہ میں ہی جمعیۃ کے ایک اور اہم ساتھی قاری عبید الرحمن قریشی صاحب مقیم ہیں اور ایک دینی مدرسہ چلا رہے ہیں۔ ان دونوں دوستوں نے اسی روز ابو ظبی جانے کا پروگرام بنا لیا۔ اس سے قبل ہم نے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد اسحاق خان مدنی مدظلہ سے ملاقات کی۔ ان کا تعلق منگ آزادکشمیر سے ہے، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان دامت برکاتہم آف پلندری کے قریبی رفقا میں سے ہیں، مدت سے دوبئی میں قیام پذیر ہیں اور دینی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور قرآن کریم کی تفسیر وتشریح کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ اچانک ملاقات پر بہت خوش ہوئے، کچھ دیر گفتگو ہوتی رہی، دعاؤں سے نوازا اور دوسرے روز پھر حاضری کی دعوت دی۔

ابو ظبی میں مغرب کے بعد علماے کرام اور جماعتی احباب کے ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں ملکی حالات، عالم اسلام کی صورت حال اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ ۳۰ دسمبر کو دوبئی میں مرکز جمعۃ الماجد میں حاضری کا موقع ملا۔ متحدہ عرب امارات کے ایک باذوق تاجر الشیخ جمعہ الماجد نے تعلیم، رفاہی خدمات اور لائبریری کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جو ان کے حسن ذوق کی علامت ہے۔ متعدد تعلیمی ادارے مصروف ہیں، رفاہی خدمات کا سلسلہ جاری ہے اور سب سے بڑھ کر وہ وسیع لائبریری ہے جس میں مختلف علوم وفنون پر کتابوں اور مخطوطات کا ایک وسیع ذخیرہ مہیا کیا گیا ہے اور استفادہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ کتابوں کی فراہمی، مخطوطات کے حصول اور ان کی حفاظت وترتیب کا کام انتہائی منظم طریقہ سے ہو رہا ہے اور علمی ورثہ کی حفاظت کے اس نظام کو دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ میں اس سے قبل بھی اس لائبریری میں حاضر ہو چکا ہوں۔ اب کے یہ حاضری اپنے شوق کے ساتھ ساتھ اس وجہ سے بھی تھی کہ میرے بہنوئی اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری خبیب احمد عمر اتفاق سے ان دنوں دوبئی گئے ہوئے تھے اور میری خواہش تھی کہ وہ اس لائبریری اور اس کے طریق کار کو دیکھیں، چنانچہ وہ بھی ہمراہ تھے اور اس علمی خدمت سے بہت محظوظ ہوئے۔ دوپہر کا کھانا ہم نے حضرت مولانا محمد اسحاق خان مدنی کے دستر خوان پر کھایا اور شام کو شارجہ میں قاری عبید الرحمن قریشی نے اپنے مدرسہ میں علماے کرام اور جماعتی احباب کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مختصر خطاب کے ساتھ احباب سے ملاقاتیں ہوئیں اور پھر ایئر پورٹ روانہ ہو گئے جہاں سے مجھے ڈھاکہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

۳۱ دسمبر کو صبح آٹھ بجے طیارے نے ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اترنا تھا مگر دھند اس قدر شدید تھی کہ الامارات کا طیارہ کم وبیش ڈیڑھ گھنٹہ تک فضا میں چکر کاٹتا رہا اور بالآخر پائلٹ کو اعلان کرنا پڑا کہ اگر مزید پندرہ بیس منٹ تک اسے ڈھاکہ میں اترنے کا راستہ صاف نہ ملا تو مجبوراً طیارے کو کلکتہ ایئر پورٹ پر اتارنا پڑے گا مگر ایسا نہ ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد طیارہ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ اس کے ساتھ ہی الامارات کی ایک اور فلائیٹ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر اتری جس میں لندن سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد فاروق ملا اور مولانا مشفق الدین تشریف لائے۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین ہیں اور ہمارے قارئین ان سے اچھی طرح متعارف ہیں۔ مولانا محمد فاروق ملا کا تعلق گجرات انڈیا سے ہے اور برطانیہ کے شہر لیسٹر میں دار الارقم کے نام سے ایک تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ مولانا مشفق الدین بنگلہ دیش سلہٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور وائٹ چیپل لندن میں ابراہیم کمیونٹی کالج کے نام سے ایک تعلیمی اور رفاہی ادارہ کے منتظم ہیں۔ ایئر پورٹ پر ہم چاروں اکٹھے ہو گئے اور امیگریشن سے فارغ ہو کر مولانا سلمان صاحب کے ہمراہ، جو استقبال کے لیے ایئر پورٹ پر موجود تھے، ان کے مدرسہ دار الرشاد میر پور میں پہنچ گئے۔ اگلے روز ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ کا افتتاح تھا جس کے لیے بھارت سے دار العلوم دیوبند کے مفتی حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شریعت فیکلٹی کے سربراہ مولانا سید محمد سلمان حسینی ندوی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔

شام کو مدرسہ دار الرشاد کی مسجد کے ہال میں مولانا سلمان حسینی نے علماے کرام اور دینی حلقوں کی ذمہ داریوں پر مفصل خطاب کیا اور یکم جنوری ۲۰۰۴ کو صبح نماز فجر کے بعد ’’سید ابو الحسن علی ندویؒ ایجوکیشن سنٹر‘‘ میں علماے کرام کی کلاس کو حجۃ اللہ البالغہ کا پہلا سبق پڑھا کر اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا افتتاح کیا۔ اس سنٹر میں درس نظامی کے فضلا کے لیے دو سالہ کورس رکھا گیا ہے جس میں انھیں انگلش، بنگلہ، عربی اور اردو زبانوں کے علاوہ مقارنۃ الادیان، مغربی فکر وفلسفہ، کمپیوٹر اور دیگر ضروری مضامین کی تعلیم دی جائے گی۔ گیارہ بجے جامع مسجد بیت المکرم ڈھاکہ میں واقع اسلامک فاؤنڈیشن کے ہال میں سیمینار تھا جس کی صدارت بزرگ عالم دین اور جامع مسجد بیت المکرم کے خطیب حضرت مولانا عبید الحق مدظلہ نے کی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے امیر بھی ہیں اور اس سے مولانا مفتی حبیب الرحمن اعظمی، مولانا سید سلمان حسینی، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، راقم الحروف اور دیگر حضرات کے علاوہ بزرگ عالم دین حضرت مولانا محی الدین خان صاحب نے بھی خطاب کیا جو جمعیۃ علماے اسلام کے پرانے بزرگوں میں سے ہیں اور علمی وفکری محاذ پر گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مولانا محی الدین خان جمعیۃ علماے اسلام بنگلہ دیش کے نائب امیر ہیں، ’المدینہ‘ کے نام سے بنگلہ زبان میں ایک جریدہ شائع کرتے ہیں اور علمی وفکری کامو ں کے لیے انہوں نے شریعت کونسل تشکیل دے رکھی ہے جس کی طرف سے انھوں نے ہمارے اعزاز میں ڈھاکہ کے گرینڈ آزاد ہوٹل میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا۔

ہمارے میزبان مولانا محمد سلمان صاحب نے ڈھاکہ، چاٹگام اور سلہٹ میں مختلف دینی مدارس میں ہماری حاضری کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا۔ چاٹگام میں بنگلہ دیش کے دو بڑے مدارس جامعہ معین الاسلام ہاٹ ہزاری اور جامعہ اسلامیہ ٹپیا میں حاضری ہوئی جو بنگلہ دیش کے سب سے قدیمی اور بڑے ادارے ہیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ ہر سال فارغ ہوتے ہیں اور مخلص علماے کرام کی ایک بڑی کھیپ تعلیمی وانتظامی خدمات میں ہمہ تن مصروف ہے مگر مولانا محمد سلطان ذوق کے ’دار المعارف‘ میں جا کر بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ انھوں نے دینی تعلیم کے روایتی طرز کے ساتھ ساتھ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اسلوب پر جدید تقاضو ں کا بھی لحاظ رکھا ہے اور علما وطلبہ کی تربیت وٹریننگ کے نئے اسلوب کو بھی نظام ونصاب کا حصہ بنایا ہے۔ سلہٹ میں ہمارا قیام دار السلام مدینۃ العلوم میں تھا جس کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد العزیز دیامیری مدظلہ انتہائی متواضع اور باذوق بزرگ ہیں، انھوں نے ایک کمیونٹی سنٹر کے ہال میں سیمینار کا اہتمام کیا ہوا تھا جس میں ’’عصر حاضر میں علماے کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر ہم لوگوں نے گفتگو کی۔

سلہٹ میں حضرت شاہ جلالؒ کے مزار کے ساتھ مدرسہ قاسم العلوم میں حاضری ہوئی اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا اکبر علی مدظلہ سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میرا پہلے سے تعارف نہیں تھا مگر انھوں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ میں ہاتھ لیتے ہی حضرت درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ شروع کر دیا اور کہا کہ حضرت درخواستیؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’ہاتھ میں چھتری، پیٹ میں مچھلی اور منہ میں پان، یہ ہے بنگالی کا نشان‘‘۔ مولانا اکبر علی معمر بزرگ ہیں اور تحریک پاکستان میں شریک رہ چکے ہیں۔ انھی کے ہاں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی مدظلہ سے بھی ملاقات ہو گئی جو ان دنوں سلہٹ تشریف لائے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی حکیم الامت حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند ہیں اور دار العلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم ہیں۔ انھیں دیکھ کر حضرت قاری صاحبؒ کی یاد تازہ ہو گئی۔ وہی چہرہ مہرہ، وہی ناک نقشہ اور وہی طرز گفتگو۔ ان سے تھوڑی دیر مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی اور ان کی شیریں بیانی کا حظ اٹھایا۔

سلہٹ میں ہی حضرت مولانا نور الدین مدظلہ سے بھی ملاقات وزیارت کا شرف حاصل ہوا۔ وہ وفاق المدارس العربیۃ بنگلہ دیش کے صدر ہیں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔ حضرت مدنی کا تذکرہ ہوا تو فرمانے لگے کہ میں نے پانچ سال حضرت مدنیؒ کی خدمت کی ہے اور ان کے سر پر تیل کی مالش کیا کرتا تھا۔ سلہٹ کے قریب سونام گنج ایک پروگرام میں شرکت کے لیے جانا ہوا تو راستہ میں دار العلوم درگا پور میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا عبد الحق مدظلہ سے ملاقات وزیارت کا موقع ملا۔ وہیں مولانا نور الاسلام خان سے بھی ملاقات ہوئی جو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں اور دار العلوم درگا پور میں شیخ الحدیث کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نصرۃ العلوم میں ۱۳۹۱ھ میں دورۂ حدیث کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھ سے ایک سال بعد فارغ ہوئے کیونکہ میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث مکمل کر کے ۱۳۹۰ھ میں فراغت حاصل کر لی تھی۔

مجھے ۷ جنوری کو واپس آنا تھا مگر ڈھاکہ کے قریب مدھوپور میں ایک بزرگ عالم اور روحانی پیشوا حضرت مولانا عبد الحمید مدظلہ نے اصرار کر کے روک لیا کہ ان کے دینی مدرسہ جامعہ حلیمیہ کا سالانہ جلسہ ۹ جنوری کو ہو رہا تھا۔ ان کے فرزند مولانا محمد عبد اللہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں اور ہمارے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔ باپ بیٹے کے اصرار کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا اور میری وجہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کو بھی اپنے پروگرام میں توسیع کرنا پڑی۔ جامعہ حلیمیہ کے سالانہ جلسہ میں دار العلوم دیوبند کے نائب شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق اعظمی مدظلہ مہمان خصوصی تھے۔ ان کی زیارت بھی اس بہانے ہو گئی اور انھوں نے بہت شفقت اور دعاؤں سے نوازا۔

۱۰ جنوری کو ڈھاکہ میں بہت مصروف دن گزرا۔ لال باغ دیکھنے کا پروگرام تھا مگر اس کے گیٹ پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اگلے روز بنگلہ دیش کی وزیر اعظم محترمہ خالدہ ضیا صاحبہ تشریف لانے والی ہیں۔ ان کی آمد کی تیاریوں کی وجہ سے باغ بند ہے۔ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ میں حاضری ہوئی جو بنگلہ دیش کے سرکاری دینی مدارس میں سب سے بڑا ور سب سے قدیمی مدرسہ ہے۔ اس کے پرنسپل صاحب سے خاصی مفید گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ انگریزی زبان اور بعض دیگر مضامین کے اضافے کے ساتھ درس نظامی کا یہ مدرسہ نواب سراج الدولہ شہیدؒ کی شہادت اور بنگال پر انگریزوں کے قبضہ کے صرف ربع صدی بعد کلکتہ میں قائم ہو گیا تھا جس کے اخراجات انگریزی حکومت برداشت کرتی تھی اور طویل عرصہ تک اس کے مہتمم برطانیہ سے آنے والے انگریز رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اسے کلکتہ سے ڈھاکہ منتقل کیا گیا اور اس میں آج بھی انگریزی اور دیگر چند جدید علوم کے ساتھ درس نظامی کے اکثر مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اس کے نصاب ونظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں سرکاری اخراجات اور تعاون کے ساتھ چلنے والے دینی مدارس ’’عالیہ مدرسے‘‘ کہلاتے ہیں اور ان میں محکمہ تعلیم کے تحت ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ کا نصاب پڑھایا جاتا ہے جبکہ پرائیویٹ دینی مدارس کو ’’قومی مدرسے‘‘ کہا جاتا ہے جہاں کم وبیش وہی نصاب تعلیم رائج ہے جو ہمارے ہاں دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ پرائیویٹ دینی مدارس کم وبیش آٹھ نو ہزار کی تعداد میں ہیں جو کسی ایک وفاق کے ساتھ ملحق نہیں ہیں بلکہ دو تین الگ الگ وفاق قائم ہیں اور بہت سے مدارس ان سے بھی الگ تھلگ ہیں جبکہ عالیہ مدرسوں کی تعداد بھی اس سے کم نہیں ہے مگر وہ مدرسہ ایجوکیشن بور ڈکے تحت ایک نظام میں منسلک ہیں۔

ڈھاکہ کے تبلیغی مرکز میں بھی حاضری ہوئی۔ ظہر کی نماز وہیں ادا کی اور کھانا کھایا۔ ڈھاکہ سے بنگلہ زبان میں روزنامہ ’انقلاب‘ شائع ہوتا ہے جسے دینی حلقوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے دفتر میں حاضری ہوئی اور اس کے ذمہ دار حضرات سے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور میں دونوں ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے تو بنگلہ دیش کے سیاسی ماحول کی ایک جھلک بھی دیکھ لی۔ اس روز ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں عوامی لیگ کے جلسہ سے محترمہ حسینہ واجد نے خطاب کرنا تھا اور جلسہ میں شرکت کے لیے چاروں طرف سے عوامی لیگ کے کارکنوں کے جلوس پلٹن میدان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نوجوانوں کی پرجوش نعرہ بازی، ڈھول کی تھاپ پر رقص اور بہت سے دیگر مظاہر دیکھ کر اپنے ہاں کی پیپلز پارٹی کی یاد تازہ ہو گئی کہ کم وبیش ایک جیسا ہی انداز تھا۔ اس طرح بنگلہ دیش میں کم وبیش گیارہ روز گزار کر مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور راقم الحروف دونوں شام ڈھاکہ ایئر پورٹ پہنچے جہاں سے انھوں نے بمبئی اور میں نے کراچی کے لیے سفر کرنا تھا اور رات ہی رات ڈھاکہ سے کراچی اور کراچی سے لاہور کا سفر کر کے میں سحری کے وقت گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا۔