حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں

   
تاریخ بیان: 
۶ مئی ۲۰۰۳ء

(۶ مئی ۲۰۰۳ء کو جمعیۃ علماء اسلام فیصل آباد نے ماہنامہ انوار القرآن کراچی کے ‘‘حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی تھے اور مولانا مفتی ضیاء الحق نے اس کی صدارت کی، جبکہ اس میں بزرگ عالم دین اور صحافی مولانا مجاہد الحسینی، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا صابر سرہندی اور الحاج سید سلمان گیلانی کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے بھی خطاب کیا، ان کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے میں جمعیۃ علماء اسلام فیصل آباد کا شکر گزار ہوں کہ ہمارے مخدوم اور پیشوا حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں حاضری اور گفتگو کا موقع عطا کیا، اللہ تعالیٰ اس کا اہتمام کرنے والے سب احباب کو جزائے خیر سے نوازیں۔ جامعہ انوار القرآن کراچی کے آرگن ماہنامہ انوار القرآن نے حضرت درخواستیؒ کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے اور نئی نسل کو ان سے متعارف کرانے کے لیے ایک ضخیم نمبر کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے جس کے لیے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کی نگرانی میں برادرم مولانا عبدالرشید انصاری اور ان کے رفقاء کی ٹیم نے خاصی محنت کی ہے اور اس پر وہ ہم سب کی طرف سے ہدیہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔

’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا، اپنے بزرگوں اور اسلاف کو اس طرح یاد کرتے رہنا ضروری ہے کیونکہ اس سے راہنمائی ملتی ہے اور کام کرنے کا حوصلہ اور عزم بڑھتا ہے۔

کسی بھی بڑی شخصیت کی وفات پر عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت سے ایسا خلا واقع ہوا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکے گا، زیادہ تر یہ جملہ رسمی طور پر اور محاورتاً بولا جاتا ہے اور یہ تعزیت کے طور پر ادا کیے جانے والے جملوں کا حصہ بن گیا ہے، لیکن جب حضرت درخواستیؒ کے حوالہ سے میں اس جملے پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس میں رسم اور محاورہ کی بجائے حقیقت کا پہلو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ مجھے حضرت درخواستیؒ کے ساتھ ان کے رفقاء کی ٹیم میں ایک کارکن کے طور پر تقریباً سترہ سال کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، اس لیے جب آج کے حالات کے تناظر میں اس دور کو یاد کرتا ہوں تو مجھے وہ خلا واضح طور پر محسوس ہوتا ہے جو دینی جدوجہد کے مختلف شعبوں میں نمایاں نظر آرہا ہے۔ آج کے حالات چونکہ پہلے سے زیادہ سنگین ہیں اور دن بدن ان کی سنگینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے وہ خلا زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہو رہا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں میں سے تین کی طرف آج کی صورتحال کے تناظر میں آپ حضرات کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں:

  1. میں اس بات کا عینی گواہ ہوں بلکہ اس عمل میں خود بھی سالہاسال شریک رہا ہوں کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دیگر جماعتی اکابر جب ملکی معاملات میں کسی اہم پالیسی کے تعین کے مرحلہ میں ہوتے تھے تو غور و فکر کے مراحل میں ایک اہم مرحلہ یہ بھی ہوتا تھا کہ یہ بات جو ہم طے کر رہے ہیں اور یہ کام جو ہم کرنے جا رہے ہیں اس پر حضرت درخواستیؒ کو کیسے مطمئن کیا جائے اور ان کی تصدیق و توثیق کیسے حاصل کی جائے؟ اگر حضرت درخواستیؒ نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ہم پھر یہ کام کیسے کر سکیں گے اور اگر انہوں نے کھلے بندوں ناں کہہ دی تو ہمارے اس پروگرام کا کیا بنے گا؟ یہ ایک دو بار کی بات نہیں بلکہ دسیوں مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم دو چار آدمی آپس میں بیٹھ کر کسی پالیسی اور پروگرام پر حضرت درخواستیؒ کو قائل کرنے کی حکمت عملی طے کیا کرتے تھے اور اس کے لیے مختلف حیلے اختیار کرتے تھے، یہ حضرت درخواستیؒ کی علمی وجاہت تھی، ان کا تقویٰ اور دیانت تھی، ان کی عملی شفقت اور سرپرستی تھی اور جمعیۃ کے لیے ان کی شبانہ روز محنت اور جدوجہد تھی، جس نے رعب بلکہ ہیبت کی یہ فضا قائم رکھی تھی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ دراصل یہ جمعیۃ کی قیادت میں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا فطری نظام تھا جس نے ہمارے پروگراموں اور پالیسیوں کو ایک دائرے کا پابند کر رکھا تھا، اور اس کی برکات و ثمرات بھی ہمیں نظر آتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ کے بعد یہ نظام ختم ہو گیا ہے، اب کوئی علمی اور روحانی شخصیت ایسی سامنے نہیں ہے جن کی باز پرس کا ہمیں کوئی خطرہ ہو اور جن کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں ہو کہ وہ ہمارے کسی پروگرام اور پالیسی کی توثیق سے انکار بھی کر سکتے ہیں اور ان کا انکار ہماری پالیسی اور پروگرام کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ آج ہم میں سے ہر شخص آزاد ہے اور جس کے ذہن میں جو بات آتی ہے کسی ملامت اور باز پرس کے خوف کے بغیر وہی اس کی بلکہ اس کی جماعت کی پالیسی بن جاتی ہے اور اس طرح ہماری دینی سیاست میں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا وہ سسٹم ختم ہو گیا ہے جو حضرت درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی شکل میں ہمارے درمیان موجود تھا۔ یہ خلا کسی اور کو دکھائی دے رہا ہو یا نہیں مگر میں اسے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور اس کے تلخ ثمرات و نتائج کا مشاہدہ بھی کر رہا ہوں۔
  2. حضرت درخواستیؒ کی زندگی میں ہم نے بارہا دیکھا کہ ملک میں کسی فتنہ نے سر اٹھایا یا حالات میں کسی بڑی خرابی کے آثار نمودار ہوئے تو حضرت درخواستیؒ خانپور سے نکل پڑے اور قریہ قریہ گھوم گئے، کہیں جلسہ سے خطاب کر کے عوام کو اس خطرہ سے آگاہ کر رہے ہیں، کہیں مدارس کے اجتماعات میں علماء کرام اور کارکنوں سے اس فتنہ کے مقابلہ کا عہد لے رہے ہیں، کسی کو سامنے کھڑا کر کے اس سے نعرے لگوا رہے ہیں، کسی کی دستار بندی کر کے اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، کسی کو اس کی سستی پر ڈانٹ رہے ہیں اور کسی کو علمی انداز میں اس کی ذمہ داری یاد دلا رہے ہیں۔ حضرت درخواستیؒ چند دنوں میں ملک کے اکثر حصوں میں گھوم جایا کرتے تھے اور تحریک کی سی کیفیت پیدا کر دیا کرتے تھے، ہم نے دیکھا ہے کہ ان دنوں میں وہ نہ دن کو آرام کرتے تھے، نہ رات کو کہیں نیند کے لیے رکتے تھے، مسلسل سفر ہوتا تھا اور میرے جیسے متحرک کارکن بھی دو تین روز سے زیادہ ان کے ساتھ مسلسل سفر نہیں کر پاتے تھے۔ پرانے حضرات کو یاد ہوگا کہ افغانستان پر روسی افواج کی یلغار کے بعد افغانستان کے ساتھ ساتھ قبائلی پٹی میں عوام کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی غرض سے حضرت درخواستیؒ کس طرح چند دنوں میں آزاد قبائل میں گھوم گئے تھے، یہ حضرت درخواستیؒ کی شبانہ روز محنت، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے علمی اثرات، اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا مضبوط علمی اور سیاسی موقف تھا جس نے جہاد افغانستان کی پشت پناہی کی تھی اور افغان مجاہدین پورے اعتماد کے ساتھ روسی افواج کے خلاف نبرد آزما ہوگئے تھے۔
  3. آج ملک کی دینی جدوجہد میں یہ خلا بھی مجھے واضح طور پر نظر آرہا ہے، آج کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے جو حضرت درخواستیؒ کی طرح علمی ودینی حلقوں میں مخدوم اور محترم حیثیت رکھتی ہو اور وہ اپنے آرام اور مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی اجتماعی دینی کام کیلئے اسے اپنا ذاتی کام اور ذمہ داری سمجھتے ہوئے میدان عمل میں کود پڑے اور یہ دوسرا خلاء ہے جو حضرت درخواستیؒ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد دکھائی دے رہا ہے۔ حضرت درخواستیؒ کی جدائی اور ان کی کمی دینی جدوجہد کے جس تیسرے شعبے میں پوری شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے وہ مختلف شعبوں میں دینی کارکنوں اور راہنماؤں کے درمیان جوڑ پیدا کرنے اور انہیں ایک چھتری تلے اکٹھا کر دینے کا کام ہے۔ حضرت درخواستیؒ دینی جدوجہد کے ہر شعبہ میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کی سرپرستی کرتے تھے۔ دینی جدوجہد کے مختلف شعبوں کی تقسیم کار تو بہت پرانی ہے، کوئی دعوت و تبلیغ کے محاذ پر کام کر رہا ہے، کوئی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے، کوئی جہاد کے مقدس عمل کے احیا اور نوجوانوں کو اس کے لیے تیار کرنے میں مگن ہے، کسی کی جولانگاہ دینی مدارس کے قیام اور مساجد کی تعمیر کا میدان بنا ہوا ہے، کوئی ناموس صحابہؒ کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں مصروف کار ہے، کسی نے روحانی تربیت اور خانقاہی خدمات کے میدان کو اپنے مشن کے طور پر اپنا رکھا ہے، کوئی عملی سیاست میں شریک ہو کر اور حکمرانوں سے سیاسی میدان میں نبرد آزمائی کر کے ملک میں نفاذ اسلام کے لیے کوشاں ہے اور کوئی عقیدۂ توحید کے پرچار اور شرک و بدعات کی بیخ کنی کے لیے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ حضرت درخواستیؒ ان سب کاموں کی سرپرستی کرتے تھے، سب کے ہاں جاتے تھے، سب کی بات کرتے تھے، سب کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور بڑے بڑے اجتماعات میں ان سب کا نام لے کہا کرتے تھے کہ یہ سب دین کا کام کر رہے ہیں، یہ سب ہمارے ہیں اور ہم ان سب کے ساتھ ہیں۔

    آج ہماری حالت یہ ہو گئی ہے کہ جو شخص جس شعبہ میں کام کر رہا ہے اسی کو اصل دین سمجھے ہوئے ہے اور باقی سب کاموں کی نفی کھلے بندوں ہونے لگی ہے۔ ہم اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے پر طعن و تعریض کرتے ہیں، ایک دوسرے کی تحقیر کرتے ہیں، اپنے شعبہ کے علاوہ دین کے دوسرے شعبوں کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے دینی اخلاقیات کی حدود تک کو پھلانگ جاتے ہیں، ایسے حالات میں حضرت درخواستیؒ کی بہت یاد آتی ہے اور نگاہیں کسی ایسی شخصیت کو ڈھونڈتی ہیں جو سب کے پاس جائے، سب کو اپنا کہے، سب کی بات سنے، سب کی حوصلہ افزائی کرے اور سب کی غلطیوں پر انہیں ٹوکے۔

حضرت درخواستیؒ کے حوالہ سے کہنے کی باتیں تو اور بھی بہت سی ہیں لیکن وقت کی کمی کے باعث انہی پر اکتفا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول کریں اور ہمیں اپنے بزرگوں اور اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔