طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

۱۳ و ۱۴ مئی دو روز آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں گزارنے کا موقع ملا۔ تھب کے مدرسہ امداد الاسلام میں بنات کی ختم بخاری شریف کی تقریب تھی۔ اس کے علاوہ مدرسہ انوار العلوم دھیر کوٹ، مدرسہ حفصہؓ جگلڑی، مدرسہ عائشہؓ بیس بگلہ اور گورنمنٹ سائنس کالج رنگلہ میں بھی مختلف تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ گورنمنٹ سائنس کالج رنگلہ کے پرنسپل محترم سید اخلاق حسین جعفری کی دعوت پر اساتذہ کی ایک نشست میں مولانا سلیم اعجاز صاحب کے ہمراہ حاضری ہوئی اور عصر حاضر کے علمی و فکری تقاضوں کے بارے میں گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ اساتذہ کی نشست ہے اور خود میرا بھی تدریس سے کم و بیش نصف صدی کا تعلق ہے، اس مناسبت سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔

مثال کے طور پر عالمی سطح پر گزشتہ چند سالوں کے دوران رونما ہونے والی بعض فکری اور ثقافتی تبدیلیوں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہم جب اسلامی حوالہ سے غیر سودی نظام معیشت اور سود سے پاک بینکاری کا ذکر کرتے تھے تو کہا جاتا تھا کہ یہ آج کے دور میں نا قابل عمل ہے، لیکن آج برطانیہ اور فرانس میں یہ کشمکش شروع ہو چکی ہے کہ غیر سودی بینکاری کا مرکز لندن یا پیرس میں سے کون بنے گا؟ سابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کے دور میں ان کی طرف سے مقرر کردہ ایک کمیٹی نے یہ رپورٹ دی تھی جو ویٹی کن سٹی کے سرکاری ترجمان میں شائع ہوئی تھی کہ دنیا کا موجودہ معاشی نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا اور دنیا کے معاشی نظام کو صحیح رخ پر لانے کے لیے ان معاشی اصولوں کی طرف رجوع ضروری ہوگیا ہے جو قرآن کریم نے بیان کیے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد مغربی ملکوں میں غیر سودی بینکاری کے لیے تیزی کے ساتھ اقدامات شروع ہوگئے۔ ابھی دو ماہ قبل برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ لندن کو غیر سودی بینکاری کا مرکز بنایا جائے گا۔

یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جو ہر ایک استاذ کی نظر میں ہونی چاہیے اور اپنی تدریسی اور راہ نمائی کے دائروں میں اسے ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اس حوالہ سے ایک اور دلچسپ بات کا تذکرہ کروں گا کہ ابھی چند روز قبل امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ کاؤنٹی کونسل کے اجلاس کا دعا کے ساتھ آغاز کیا جا سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ تصور عام ہو چکا تھا کہ چونکہ ریاستی اداروں کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور دعا مذہب کی علامت ہوتی ہے، اس لیے ریاستی اور حکومتی اداروں میں اس کا اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ نیو یارک ریاست کی ایک کاؤنٹی کونسل کے اجلاس کا آغاز دعا کے ساتھ کیا جاتا تھا جسے کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ فیڈرل کورٹ نے اسے تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ کاؤنٹی کونسل کے اجلاس کا آغاز دعا کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بحث کورٹ میں تین مرحلوں میں ہوئی۔ پہلا مرحلہ یہ تھا کہ دعا چونکہ مذہب کی علامت ہوتی ہے اور ریاستی داروں کا مذہب سے تعلق نہیں ہوتا، اس لیے دعا نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ دعا میں کوئی حرج نہیں، لیکن کونسل چونکہ مختلف مذاہب کے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے اور کسی ایک مذہب کے مطابق دعا کونسل کو اس کے حق میں فریق ظاہر کرتی ہے، اس لیے یہ دعا نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن آخری مرحلہ میں امریکی سپریم کورٹ نے اس کی بھی اجازت دے دی ہے کہ کونسل کے اجلاس کا آغاز کسی بھی مذہب کے مطابق دعا کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے مذہب کی بالاتری سے آزاد نہیں ہوتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی قوم دستور کے نفاذ سے پہلے بھی دعا کیا کرتی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی قوم دستور سے پہلے اور دستور سے بالا کسی اور قوت کا بھی خود کو تابع سمجھتی ہے۔

یہ ایک بڑی فکری تبدیلی ہے جو مستقبل کے بہت سے تغیرات اور امکانات کی نشاندہی کرتی ہے اور ہمیں بحیثیت استاذ اس تبدیلی کے عوامل اور اس کے اثرات و نتائج پر نظر رکھنی چاہیے۔ چونکہ میں سائنس کالج کے اساتذہ سے مخاطب ہوں اس لیے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ سائنسی ارتقا اور انکشافات بھی ہماری توجہ کے طلبگار ہیں اور ہم ان سے تعلیم و تدریس کے معاملات میں راہ نمائی لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ماں کے پیٹ میں جب بچہ میں روح ڈالی جاتی ہے تو اس سے پہلے فرشتہ کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے اس کی عمر، رزق، اعمال اور طرز عمل کے بارے میں سوالات کر کے جوابات قلمبند کر لیتا ہے۔ اور اس کے بعد اس میں روح ڈالی جاتی ہے۔ میرے خیال میں آج سائنس جس چیز کو جین قرار دے رہی ہے وہ یہی ہے کہ انسانی جسم کو روح کا کنکشن دیے جانے سے قبل اس کی فائل مکمل کر لی جاتی ہے۔ اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ زندگی کے جن حقائق کا قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل اظہار کیا تھا، آج سائنس بھی ان کی تصدیق کرتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے سے متصادم سمجھا جاتا ہے، جبکہ میری طالب علمانہ رائے میں صورت حال اس سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ کیونکہ سائنس آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کو رد کرنے کی بجائے اپنے تجربات اور مشاہدات کے ذریعہ ان کی تصدیق کر رہی ہے جس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔

اس لیے اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقا کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں تاکہ وہ جدید ترین فکری و ثقافتی تغیرات کی روشنی میں نئی نسل اور سوسائٹی کی صحیح راہ نمائی کر سکیں۔

درجہ بندی: