کوٹ رادھا کش کا سانحہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ نومبر ۲۰۱۴ء
اصل عنوان: 
قانون کو ہاتھ میں لینے کی روایت

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے نشریاتی ادارے ’’پیغام ٹی وی‘‘ نے گزشتہ روز کوٹ رادھاکش کے سانحہ کے حوالہ سے ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا جس میں مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اور جناب جنید غزنوی کے ساتھ راقم الحروف بھی شریک گفتگو تھا۔ اس موقع پر ہمارے درمیان جن نکات پر باہمی تبادلہ خیالات ہوا اسے مختصراً قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

واقعہ کی تفصیل یوں بیان کی جا رہی ہے کہ اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کرنے والے میاں بیوی کے بارے میں یہ خبر اڑی کہ انہوں نے نعوذ باللہ قرآن کریم کے اوراق جلا کر اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام کی توہین کی ہے۔ اس کا قریب کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اعلان ہوا جس سے اشتعال پھیلا اور بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ پہلے تو مشتعل ہجوم نے اس جوڑے کو جس کا تعلق مسیحی مذہب سے ہے، زدوکوب کیا اور سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور اس کے بعد ان دونوں کو بھٹے کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا گیا۔ یہ بات میڈیا کے مختلف ذرائع سے جب منظر عام پر آئی تو اس پر نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا بھر میں افسوس اور اضطراب کا اظہار کیا گیا اور اس کی مذمت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، مختلف مواقع پر اس قسم کے واقعات ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اس تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ جن میں سے بعض کے بارے میں بعد میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ان پر لگایا گیا الزام غلط تھا اور انہیں کسی اور وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مذکورہ واقعہ کے تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا۔ پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔

ہر انسان کی جان خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یکساں طور پر قیمتی ہے۔ اور قرآن کریم نے کسی بھی انسان کی نا حق جان لینے کو پوری نسل انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت بھی حکومت کی اسی طرح ذمہ داری ہے جس طرح مسلمان کے جان و مال کی حفاظت اس کے ذمہ ہے۔ مذہبی توہین کے واقعات پر کاروائی کے لیے قوانین موجود ہیں جنہیں نظر انداز کرتے ہوئے از خود کاروائی کرنا خود ان قوانین پر بے اعتمادی کا مظہر ہیں۔

یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ آخر اس قدر اشتعال کے اسباب کیا ہیں؟ محسوس کیا گیا کہ اشتعال انگیزی کے ایسے واقعات میں نائن الیون کے بعد اضافہ ہوا ہے جس کے اسباب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کا معاندانہ طرز عمل، نا انصافی اور نفرت انگیز رویہ بھی شامل ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اور کوئی بھی واقعہ اس کے فوری اظہار کا عنوان بن جاتا ہے۔ یہ بھی محسوس کیا گیا کہ عام مسلمانوں میں دین کی اصل تعلیمات سے بے خبری اور جہالت بھی اس کا سبب ہے۔ اور نیم خواندہ ائمہ مساجد کی سطحی معلومات کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تعصبات بھی بسا اوقات ایسے واقعات کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل توجہ قرار پائی کہ قانون پر عملدرآمد کے سلسلہ میں عدم اعتماد کی فضا اور قانون کی عملداری میں با اثر اور کمزور طبقات و افراد کے درمیان واضح طور پر پایا جانے والا فرق بھی قانون کو ہاتھ میں لینے اور غصہ و جذبات کے انتہائی غلط اظہار کی وجہ بن جاتا ہے۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ میڈیا کا طرز عمل عام طور پر ذمہ دارانہ نہیں ہوتا۔ تحقیق کے بغیر اطلاع کی تشہیر ہوتی ہے، اور پھر نشریاتی پروگراموں میں حالات کو صحیح رخ پر لے جانے کی کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ اشتعال کو مزید بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ اور اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ طرز عمل بڑے حادثات اور سانحات کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

اس احساس کا بطور خاص تذکرہ ہوا کہ اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے بارے میں ایسے واقعات سے جو منفی تاثر قائم ہوتا ہے وہ اسلام کی دعوت و تبلیغ میں رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ اس وقت عمومی فضا یہ ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا میدان موجود ہے اور خاص طور پر مغربی معاشرہ میں اس کی طلب بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن تشدد، اشتعال اور منافرت کے ایسے رجحانات اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہونے میں رکاوٹ بن رہے ہیں جس کے لیے ہماری جذباتیت غیر شعوری طور پر مسلسل استعمال ہو رہی ہے۔

مذاکرہ میں یہ بات محسوس کی گئی کہ اصلاح احوال کے لیے حکومت کو سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ وہ ہر علاقہ میں ایسے حالات کی بر وقت نگرانی کا اہتمام کرے، قانون کی عملداری پر عدم اعتماد کی فضا کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ یہ ذمہ داری میڈیا اور علماء کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی حوصلہ شکنی کریں اور اس کیلئے رائے عامہ کی راہ نمائی کریں۔ نیز بلا وجہ تعصبات کے سدباب کے لیے کردار ادا کریں۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ مختلف مسالک کی دینی جماعتوں اور اداروں کو اس مسئلہ پر مل بیٹھنا چاہیے اور اس قسم کے افسوسناک واقعات کے اسباب و عوامل کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لے کر ان کے سدباب کے لیے مشترکہ حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔ یہ کام علماء کرام اور دینی جماعتیں ہی کریں گی تو حالات میں اصلاح کی کوئی صورت نکل سکے گی، ورنہ زبانی جمع خرچ تو ہمیشہ سے ہوتا ہی آرہا ہے۔